• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کہیں دھان کی فصل پوری طرح پک چکی ہے تو کہیں کھیتوں میں کچا دھان کھڑا ہے

Updated: November 01, 2026, 4:50 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

ان دنوں گاؤں کے کھیتوں کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کہیں دھان کی فصل پوری طرح پک کر تیار ہو چکی ہے تو کہیں کھیتوں میں ابھی کچا دھان کھڑا ہے۔

Nowadays, the paddy is separated right in the field, though some people still transport the crop to the threshing floor. Photo: INN
اب دھان کو کھیت ہی میں الگ کرلیا جاتا ہے تاہم کچھ لوگ آج بھی فصل کو کھلیہان تک لے جاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

اکتوبر کا آخری ہفتہ اور نومبر کی ابتدائی تاریخیں گاؤں کی زندگی میں ایک الگ ہی رنگ لے کر آتی ہیں۔ ستمبر کی حبس بھری گرمی رخصت ہو چکی ہوتی ہے اور موسم میں ہلکی ہلکی خنکی گھلنے لگتی ہے۔ یہی وہ دن ہوتے ہیں جنہیں گلابی سردیوں کا موسم کہا جاتا ہے۔ نہ گرمی کی وہ شدت باقی رہتی ہے کہ گھر کے اندر بھی سکون نہ ملے اور نہ ایسی سردی کہ لحاف کی ضررورت پڑے۔ صبح کے وقت ہلکی ٹھنڈک، دوپہر میں نرم دھوپ اور شام ڈھلتے ہی ہوا میں بڑھتی خنکی، گاؤں کے ماحول کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔
ستمبر کی گرمی کا تصور ہی جسم میں پسینے کا احساس دِلا دیتا ہے۔ وہ ایسی گرمی ہوتی ہے کہ گھر میں بیٹھے رہیں تو بھی چین نہیں ملتا اور باغوں کی چھاؤں بھی راحت دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جہاں کھڑے ہو جائیں، جسم سے پسینہ بہتا رہتا ہے۔ لیکن اکتوبر کے آخری دنوں میں موسم کا مزاج بدلنے لگتا ہے۔ ہوا میں خنکی آتی ہے تو کھیتوں کی طرف نکلنے اور کھلی فضا میں کام کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب گاؤں کے کسان دھان کی فصل سمیٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور کھیتوں میں ایک نئی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے۔
ان دنوں گاؤں کے کھیتوں کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کہیں دھان کی فصل پوری طرح پک کر تیار ہو چکی ہے تو کہیں کھیتوں میں ابھی کچا دھان کھڑا ہے۔ اس کی بالیاں نکل آئی ہیں، لیکن ابھی پکی نہیں ہیں۔ دور سے دیکھنے پر دھان کے کھیت سنہرے اور ہرے رنگوں کا ایسا امتزاج پیش کرتے ہیں کہ نگاہیں ٹھہر کر رہ جاتی ہیں۔ کہیں پکی ہوئی فصل کٹنے کے انتظار میں کھڑی ہے تو کہیں ابھی اسے دھوپ، ہوا کی مزید ضرورت ہے۔ دھان کی فصل کا پکنا کسان کے لئے محض ایک زرعی مرحلہ نہیں، بلکہ کئی مہینوں کی محنت کے ثمر آور ہونے کا وقت ہوتا ہے۔ کھیت کی تیاری سے لے کر دھان کی روپائی، پانی کی فراہمی، کھاد، نِرائی(فصل کے اندر اُگنے والی گھاس کو کاٹنا) اور فصل کی نگرانی تک کسان نے نہ جانے کتنے مرحلوں سے گزر کر اس دن کو دیکھتا ہے۔ دھان کی فصل کے ساتھ گاؤں کی کئی پرانی غذائی یادیں بھی وابستہ ہیں۔ کچے دھان سے بننے والا چوڑا ان میں سے ایک ہے۔ کچھ علاقوں میں دھان کی مخصوص حالت میں کٹائی کے بعد اسے سکھا کر روایتی طریقے سے کٹوا کر چوڑا تیار کیا جاتا ہے۔ کچے دھان کے چوڑے میں ایک خاص مٹھاس ہوتی ہے، جس کا ذائقہ آج بھی ان گاؤں والوں کو یاد ہے جنہوں نے بچپن میں اسے کھایا ہے۔ تازہ تیار ہونے والےچوڑے کی خوشبو اور اس کی قدرتی مٹھاس ایسی ہوتی ہے کہ سادہ غذا بھی ایک خاص نعمت محسوس ہونے لگتی ہے۔
اس بار دھان کی کٹائی کے دوران موسم کی پیش گوئی بھی کسانوں کی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔ مشرقی یوپی کے متعدد اضلاع میں ۲۹؍ اور ۳۰؍ اکتوبر کو طوفان’ارنب‘ اور خراب موسم سے متعلق الرٹ کی اطلاعات کے باعث کسان اپنی فصل جلد از جلد سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کھیتوں میں کھڑی فصل کیلئے تیز ہوا اور بارش کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتیں۔ فصل تیار ہو اور موسم اچانک کروٹ بدل لے تو کسان کی کئی مہینوں کی محنت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان دنوں گاؤں میں دھان کی کٹائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ کسان چاہتے ہیں کہ موسم مزید خراب ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ فصل کاٹ کر محفوظ مقام تک پہنچا دی جائے۔ جن گھروں کے نوجوان روزگار یا تعلیم کے سلسلے میں شہر چلے گئے ہیں، وہ بھی ان دنوں گاؤں واپس آ کر اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ کوئی دھان کاٹ رہا ہے، کوئی کٹے ہوئے ڈنٹھل سمیٹ رہا ہے اور کوئی کھیت سے فصل کی ڈھلائی میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مچھلی کا شکار ایک ہنر ہے، جو کتاب میں پڑھ کر نہیں بلکہ تجربے سے حاصل ہوتا ہے

وقت کے ساتھ گاؤں کی زراعت میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے جہاں فصل کی کٹائی سے لے کر اس کی ڈھلائی تک بیشتر کام انسانی محنت اور روایتی طریقوں سے انجام دیئے جاتے تھے، وہیں اب مشینوں نے بہت سے مراحل آسان کر دیئے ہیں۔ دھان کی کٹائی کے لئے بھی مشینوں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس سےکم وقت میں زیادہ رقبے کی فصل کاٹ لی جاتی ہے، خصوصاً اس وقت جب موسم خراب ہونے کا خدشہ ہو اور کسان کے پاس فصل سمیٹنے کے لئے وقت کم ہو۔اس کے باوجود بہت سے کسان اب بھی روایتی طریقے سے ہاتھوں کے ذریعے دھان کی کٹائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ دھان کے ڈنٹھل، یعنی پوال یا پیرا، کی ضرورت بھی ہے۔ مویشی پالنے والے گھروں کے لئے پوال صرف فصل کا بچا ہوا حصہ نہیں، بلکہ جانوروں کے چارے اور سال بھر کی ضروریات سے جڑا ہوا اہم سامان ہے۔ مشین سے ہونے والی کٹائی سے پوال نہیں مل پاتا وہ کھیت میں ہی رہ جاتا ہے۔ اسی لئے وہ درانتی سے دھان کاٹنے کے روایتی طریقے کو زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ایک وقت تھا جب سردیوں میں پُوال بطور بستر بھی استعمال ہوتا تھا ۔اسے گھر کی فرش پر بچھا دیا جاتا تھا اور بچے اس پر بڑے شوق سے سوتے تھے ۔ 
گیہوں کی کٹائی کے برعکس دھان کی کٹائی علی الصباح شروع کرنا  آسان نہیں ہوتا۔ صبح کے وقت کھیتوں میں شبنم کی نمی پھیلی ہوتی ہے۔ دھان کے ڈنٹھلوں اور پتوں پر جمی ہوئی اوس ہاتھ لگاتے ہی انگلیوں کو بھگو دیتی ہے۔ ایسے میں فصل کاٹنے کے لئے کھیت میں اترنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ہوا میں خنکی بھی ہوتی ہے، جس سے صبح سویرے کھیتوں میں کام کرنے والوں کو سردی کا احساس ہونے لگتا ہے۔جوں جوں دن چڑھتا ہے، سورج کی روشنی کھیتوں میں پھیلی نمی کو کم کرنے لگتی ہے۔ پھر کسان درانتی سنبھالتے ہیں اور فصل کاٹنے میں لگ جاتے ہیں۔دھان کٹنے کے بعد  جب اس بوجھ (بنڈل)کھیت سے باہر آنے لگتے ہیں تو گاؤں کے راستوں پر بھی فصل کے موسم کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔ کہیں ٹریکٹر ٹرالی فصل لے کر گزر رہی ہوتی ہے تو کہیں کسان کندھوں یا سروں پر بوجھ اٹھائے گھر کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK