• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: ’ڈارک ٹورزم‘ سیاحتی شعبے کا تجربہ آہستہ آہستہ بدل رہا ہے

Updated: November 01, 2026, 5:33 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ڈارک ٹورزم کی اصل تجارتی قدر المیے کو بیچنے میں نہیں، تاریخ کو ذمہ داری سے محفوظ رکھنے میں ہے۔ ایک مقام آمدنی دے سکتا ہے مگر اس کی ساکھ اس بات سے بنے گی کہ وہ ماضی کے ساتھ کتنا دیانتدار ہے۔

Whether it is Petra in Jordan, Jallianwala Bagh in India, or Al-Ula in Saudi Arabia, the number of tourists at these locations is increasing rapidly. Photo: INN
اردن کا بترا ہو، ہندوستان کا جلیانوالا باغ یا سعودی عرب کا العلا، ان مقامات پر سیاحوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تصویر: آئی این این

بعض مقامات پر لوگ چھٹیاں گزارنے، شاپنگ کرنے یا خوبصورت مناظر دیکھنے نہیں جاتے۔ وہ وہاں اس لئے جاتے ہیں کہ کبھی اس جگہ پر انسانوں نے ناقابلِ تصور مصیبت جھیلی تھی۔ 
آشوٹز، ہیروشیما، جلیانوالہ باغ اور سیلولر جیل جیسے مقامات پر تاریخ کے ایسے باب محفوظ ہیں جنہیں بھلانا آسان نہیں، اور ایسے ہی مقامات پر جانا (جہاں کوئی حادثہ یا سانحہ ہوا ہو) ’ڈارک ٹورزم‘ کہلاتا ہے۔ مگر اس کے پیچھے صرف جذبات یا تجسس نہیں ؛ ایک ایسی سیاحتی معیشت بھی ہے جو گائیڈز، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، عجائب گھروں اور مقامی اکائیوں کو کاروبار اور منافع دے سکتی ہے۔ 
جنوری ۲۰۲۶ء میں اکنامک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ ہندوستان میں تاریخی سانحات، حادثات اور تنازعات سے وابستہ مقامات میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، اور اس شعبے کی مالیت ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۳۵؍ ارب ڈالر بتائی گئی، جس کے ۲۰۳۰ء تک ۴۱؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ تھا۔ کاروباری نقطۂ نظر سے کسی تاریخی مقام کی آمدنی صرف ٹکٹوں تک محدود نہیں رہتی۔ مسافر وہاں پہنچنے کیلئے ٹرانسپورٹ لیتے ہیں، قیام کرتے ہیں، کھانے پینے کی اشیاء خریدتے ہیں اور مقامی گائیڈز کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ بہتر تاریخی تشریح، مستند دستاویزات اور نمائشیں، دورے کو زیادہ بامعنی بناتے ہیں۔ اس طرح سیاح کسی مقام پر زیادہ وقت گزارتے ہیں اور آس پاس موجود دکانوں پر خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح ایک یادگار مقام اپنے اردگرد چھوٹے تاجروں کیلئے معاشی سرگرمی پیدا کرتاہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: Ghost Font: اے آئی کے دَور میں مشمولات کے تحفظ کی نئی کاروباری دُنیا کی تشکیل

ڈارک ٹورزم کا رجحان دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔ لوگ ایسے تاریخی مقامات کی سیر کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ تاریخ سے جڑ سکیں لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ سیاحوں میں ایسے افراد بھی ہیں جو محض تصویر کشی یا اپنے دوستوں میں Cool نظر آنے کیلئے ان مقامات کا دورہ کرتے ہیں۔ اس رائے میں کتنا دَم ہے یہ آپ فیصلہ کریں۔ 
ہندوستان میں اس کی مثالیں واضح ہیں۔ امرتسر کا جلیانوالہ باغ نوآبادیاتی تشدد اور آزادی کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ انڈمان کی سیلولر جیل سیاسی قیدیوں پر ڈھائے گئے مظالم اور تحریکِ آزادی کی تاریخ کا اعادہ کرتی ہے۔ بھوپال گیس سانحے سے متعلق یادگاریں صنعتی تباہی اور اس کے دیرپا انسانی اثرات کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ ان مقامات کی اہمیت ایک جیسی نہیں، اس لئے انہیں ایک ہی تجارتی فارمولے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ یہیں سیاحتی صنعت کیلئے اصل موقع اور خطرہ ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اگر ایسے کسی مقام پر مستند معلومات، تربیت یافتہ گائیڈز، مناسب سہولتیں اور مقامی لوگوں کی شمولیت ہو تو سیاحت معاشی مدد دے سکتی ہے۔ مقامی گائیڈز، چھوٹے ہوٹل، ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے، دستکاری کی اشیاء فروخت کرنے والے اور کھانے پینے کے کاروبار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن اگر مقصد صرف زیادہ ٹکٹ بیچنا ہو تو تاریخ ایک تماشے میں بدل سکتی ہے۔ سانحے کی جگہ کو سنسنی خیز تفریح بنانا شاید وقتی توجہ مرکوز کرلے مگر اعتماد اور تاریخی وقار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی لئے اس شعبے میں تجربے کا معیار صرف تصویری کشش سے طے نہیں ہونا چاہئے۔ سیاحوں کی سمجھ میں آنا چاہئے کہ کیا ہوا، کیوں ہوا، کن لوگوں نے اس کا خمیازہ بھگتا اور اس کے اثرات آج تک کیسے موجود ہیں۔ ڈجیٹل نمائشیں، آڈیو گائیڈز، محفوظ شدہ شہادتیں اور مقامی مورخین کی رہنمائی اس کام میں مدد دے سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کا مقصد صدمے کو مزید ڈرامائی بنانا نہیں، بلکہ حقائق کو قابلِ فہم اور قابلِ رسائی بنانا ہونا چاہئے مگر اس بازار میں سرمایہ کاری کا ایک مشکل سوال بھی ہے: آمدنی کس کی ہوتی ہے؟

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: میچ ختم، اِسکرینیں بند، بزنس جاری: یہ ہے کھیلوں کے میڈیا کی نئی معیشت

اگر کسی مقام کی شہرت بڑھ جائے مگر مقامی آبادی کو روزگار، سہولت یا اس مقام کے تحفظ میں فائدہ نہ پہنچے تو سیاحت کا معاشی جواز کمزور رہتا ہے۔ اسی طرح متاثرین کے خاندانوں اور مقامی برادریوں کو نظرانداز کرکے بنائی گئی تجارتی مہم اخلاقی اعتراضات پیدا کرسکتی ہے۔ ذمہ دار کاروباری ماڈل میں آمدنی کا کچھ حصہ مقام کی دیکھ بھال، آرکائیوز، تعلیم اور مقامی خدمات پر خرچ ہونا چاہئے۔ ہندوستان کیلئے یہ بحث اسلئے اہم ہے کہ سیاحت پہلے ہی روزگار، ٹرانسپورٹ، مہمان نوازی اور مقامی خدمات سے وابستہ کافی بڑا شعبہ ہے۔ تاریخی مقامات کو صرف ایک دن کی سیر کے بجائے وسیع ورثہ جاتی راستوں سے جوڑا جائے تو قریبی قصبوں اور کاروبار تک خرچ پھیل سکتا ہے۔ لیکن ایسے منصوبوں کی کامیابی کا پیمانہ صرف آنے والوں کی تعداد نہیں ہونا چاہئے؛ تحفظ، معلومات کے معیار، مقامی فائدے اور سیاحوں کے احترام کو بھی ناپنا ہوگا۔ اسی طرح سیاحوں کو بھی المیے والے مقامات کے تئیں سنجیدہ ہونا ہوگا۔ 
ڈارک ٹورزم کی اصل تجارتی قدر المیے کو بیچنے میں نہیں، تاریخ کو ذمہ داری سے محفوظ رکھنے میں ہے۔ ایک مقام آمدنی دے سکتا ہے مگر اس کی ساکھ اس بات سے بنے گی کہ وہ ماضی کے ساتھ کتنا دیانتدار ہے۔ سیاحت یہاں تبھی پائیدار کاروبار بنے گی جب ٹکٹ سے حاصل ہونے والی رقم کے ساتھ یادداشت، تعلیم اور تحفظ بھی مضبوط ہوں۔ بعض جگہوں سے مسافر خوبصورت تصویریں لے کر لوٹتے ہیں ؛ کچھ جگہوں سے انہیں ایک ایسی تاریخ لے کر لوٹنا چاہئے جسے سمجھنا آسان نہ ہو مگر بھولنا بھی مشکل ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK