• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دواؤں کی قیمتوں پر سپریم کورٹ میں سماعت نے ’علاج کی تجارت‘ کی قلعی کھول دی ہے

Updated: November 01, 2026, 5:32 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

کینسر کے علاج کے دوران ۱۱؍ہزار کے انجکشن کا ایک لاکھ ۳۰؍ ہزار وصولنا یا ۲۷۰۰؍ کی دوا پر ۲۷؍ ہزار کی قیمت فروخت اس شعبے میں  درآئی کاروباری ذہنیت نہیں سفاکی کو ظاہر کرتی ہے۔

In the pharmaceutical business, the profit margin is tens of times higher than that of typical business entities. Photo: INN
دواؤں کےکاروبار میں منافع کی شرح عا م کاروباری اکائیوں کے مقابلے میں دسیوں گنا زیادہ ہے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان میں ایک طرف جہاں جدید ترین طبی سہولتوں سے آراستہ نجی اسپتالوں بلکہ فائیو اسٹار اسپتالوں  کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں دوسری جانب علاج عام آدمی کی دسترس سے تیزی باہرہوتا چلا جا رہا ہے۔ عالم یہ ہے کہ بیماری سے نجات کی امید میں اسپتال پہنچنے والا شخص علاج سے زیادہ اپنے خاندان کی مالی مشکلات اورمستقبل کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تعلیم اور دیگر شعبوں  کی طرح حکومت صحت عامہ کے شعبے سے بھی دھیرے دھیرےاپنے ہاتھ کھینچ رہی ہے۔ اس کا اس شعبے سے ہاتھ کھینچنا ہی کیاکم تھا کہ اس نے عوام کو اُن سرمایہ کاروں  کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے جنہوں   نے خدمت کے اس اہم شعبےکو کاروبار میں  بدل کر رکھ دیا ہے۔ حکومت کی کھلی چھوٹ کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ عالم یہ ہےکہ پہلے اہل خیر حضرات عوامی خدمت کیلئے اسپتال قائم کرتے تھے اب کاروباری مقصد سے’چین آف ہاسپیٹلس ‘ قائم ہوتے ہیں  ۔ 
اس پس منظرمیں ادوات کی قیمتوں کےحوالہ سے سپریم کورٹ میں  ہونےوالی حالیہ سماعت اہمیت کی حامل ہے۔ سماعت کے دوران یہ بات تو تقریباً پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ دواؤں  کاکاروبار نہ صرف یہ کہ نرا کاروبار بن کر رہ گیا ہے بلکہ اس میں  منافع کی شرح عا م کاروباری اکائیوں  کے مقابلے میں  دسیوں  گنا زیادہ ہے۔ کینسر سے متاثرہ ایک خاتون کا معاملہ عدالت میں  زیر بحث آیا جس کا شوہر پیشے سے میڈیکل ڈسٹربیوٹر تھا۔ ڈاکٹروں  نے اس کی اہلیہ کو ایک انجکشن تجویز کیا جو اسے ڈسٹربیوٹرقیمت پر ۱۱؍ ہزار میں مل سکتا تھا۔ اس نےاسپتال سے درخواست کی کہ وہ انجکشن فراہم کردےگا مگر نجی اسپتال نے انکار کردیا اور اپنے پاس سے انجکشن لگاکر اسی انجکشن کا ایک لاکھ ۳۰؍ ہزار روپے چارج وصول کیا۔ اس سےپہلے ایک اور مثال عدالت کے سامنے پیش کی گئی کہ کس طرح  وہ دوا جو ۲۷۰۰؍ میں  دوا فروش کو فراہم کی جاتی ہے، اس پر ایم آر پی یعنی قیمت فروخت ۲۷؍ہزار روپے چھپی ہوتی ہے۔ یہ مثالیں ہندوستان میں   دواؤں کی قیمتوں کے نظام کی بنیادی خامی کو ظاہر کرتی ہے۔ یعنی دوا کے پیکٹ پر درج قیمت اس قیمت سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے جس پر دوا فروش اسے خریدتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مچھلی پکڑ کر دینا بہتر ہے یا مچھلی پکڑنا سکھانا؟

مقدمہ کی سماعت کے دوران سخت سوالوں کا سامناکرنے کے بعد حکومت نے کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ کینسر کی منتخب دواؤں پر قیمت فروخت پر ۳۰؍ فیصد منافع کی حد مقرر کرنے جارہی ہےتاہم عدالت اس سے مطمئن نہیں  ہوئی اوراس نے بجاطور پر یہ سوال کیا کہ منافع کی حد تمام دواؤں  کیلئےکیوں نہیں   طے کی جاسکتی۔ جسٹس وکرم اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ دراصل ۲؍ اہم پٹیشنوں پر سماعت کررہی تھی۔ ایک پٹیشن ایڈوکیٹ کشن چند جین نے داخل کی ہے جس میں  انہوں  نے دواؤں کی قیمتوں  پر لگام، ڈاکٹروں  کیلئے دواؤں  کے جینرک نام تجویز کرنے کو لازمی کرنے اور طبی آلات پرمنافع کی حدمقرر کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری پٹیشن دراصل ۲۰۲۲ء میں  کیرالا ہائی کورٹ میں  داخل کی گئی کینسر کی ایک مریضہ سروجم رادھا کرشنن کی ہے۔ وہ بینک کی سبکدوش ملازمہ تھیں۔ کینسر کی تشخیص کے بعد علاج پر ان کا ماہانہ خرچ ۶۳؍ہزار سے تجاوز کرگیاتھا جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ان کی ساری جمع پونجی ختم ہوگئی بلکہ ان کی پنشن کی رقم بھی دواؤں  کی نذر ہونے لگی۔ یہ احساس ہونے کےبعد کہ اس طرح توکینسر سے متاثر ہونےوالے ہزاروں  افراد اوران کے اعزہ تہی دامن ہو جاتے ہوں گے، انہوں  نے کیرالا ہائی کورٹ میں  انفرادی پٹیشن داخل کی۔ علاج کے دوران اسی سال ستمبر میں  وہ چل بسیں، ہائی کورٹ میں ان کی پٹیشن ابتدائی مراحل میں ہی تھی تاہم ان کی پٹیشن نے چونکہ آئن کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت جینے کے حق کی ضمانت کے ذیل میں  صحت عامہ کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھایا تھا اس لئے ہائی کورٹ نےان کےانتقال کے بعد اس معاملہ کو ختم کرنے کے بجائے اس پٹیشن کو مفاد عامہ کی پٹیشن میں تبدیل کردیا۔ اسی سال ۱۷؍ جولائی میں  سپریم کورٹ نے اس معاملہ پراز خود (سوموٹو) توجہ دی اور یہ معاملہ کیرالا ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ پہنچگیا۔

یہ بھی پڑھئے: اروناچل پردیش کی ایک قبائلی آبادی ’’نئیشی‘‘

سپریم کورٹ میں  جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا سماعت کے دوران یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دوا کی قیمت فروخت اور دوا فروشوں کو وہ جس قیمت پر ملتی ہے اس کے درمیان ۱۰۰؍ یا ۲۰۰؍ فیصد کا نہیں بلکہ ایک ہزار فیصد تک کا فرق ہے۔ عدالت نے بجا طور پر اسے ’’دن دہاڑے ڈکیتی‘‘قرار دیا ہے حالانکہ یہ ڈکیتی سے بڑھ کر ہے۔ ۱۱؍ روپے کے آئی وی کا ۲۷۰؍ روپے چارج کرنا کہاں سےجائز ٹھہرایا جاسکتاہے مگر اسپتالوں  کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے اس کا یہ جواز پیش کیا کہ نجی طبی مراکز کو اپنے انفراسٹرکچر، آلات اور ۲۴؍ گھنٹے خدمات فراہم کرنےکے اخراجات کیلئے ادویات سےمنافع درکار ہے۔ دوسری طرف مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈوکیٹ ایشوریہ راٹھی کی دلیل تھی کہ حکومت کو دواؤں   کےعام آدمی کیلئے قابل خرید رکھنے، دوا ساز کمپنیوں   کےکمپٹیشن اور فارما شعبہ کی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ توازن یقیناً ضروری ہے مگر لوٹ مار کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے۔ حکومت زمینی حقائق کو کیسے نظر انداز کرسکتی ہے۔ انڈین ایکسپریس میں  ششانک مہیشوری نے نشاندہی کی ہے کہ پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے محققین کی ایک رپورٹ کےمطابق جو برٹش میڈیکل جرنل ’اوپن‘ میں شائع ہوئی ہے، ۹۴-۱۹۹۳ء سے ۱۲-۲۰۱۱ءکے درمیان ریاستوں کے لحاظ سے مقررہ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے ہندوستانی گھرانوں کا تناسب۴ء۱۹؍ فیصد سے بڑھ کر۴ء۴۸؍فیصد ہوگیا۔ یعنی تقریباًمزید۵ء۵؍کروڑ افراد خط افلاس سے نیچے چلے گئے۔ ان میں سے تقریباً۳ء۸؍کروڑ افراد غربت کا شکار دواؤں کے اخراجات کی بنا پر ہوئے۔ بہرحال سپریم کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ نے جن تیوروں   کے ساتھ مقدمہ کی سماعت مکملکی اور فیصلہ محفوظ کیا اس سے یہ امید کی جانی چاہئے کہ عدالت کے فیصلے سے عوام کو راحت ملے گی۔ اس لئے کہ سرکاری اسپتالوں  کی کمی کی وجہ سے عوام کا ایک بڑا طبقہ علاج معالجہ کیلئے نجی اسپتالوں  کا رخ کرنے پر مجبور ہے۔ دوسرا اہم میڈیکل انشورنس کا ریکٹ ہے۔ ملک میں  علاج کے مہنگے ہونے کی ایک بڑی وجہ میڈیکل انشورنس ہیہے جسے ہونا تو عوام کی سہولت کیلئے تھا مگر یہ اب لوٹ مار کا ذریعہ بن گیا ہے۔ وہ علاج جو بغیر میڈیکل نشورنس کےاگر ۱۰؍ روپے میں دستیاب ہوسکتا ہےتو میڈیکل انشورنس کی بنا پر ۵۰؍ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ملک میں طبی خدمات فراہم کرنے کے نام پر نجی اداروں  اور کاروباریوں   کو جس طرح بے مہار چھوڑ دیاگیا ہے اس کی قیمت عام آدمی چکا رہا ہے۔ 
زیر بحث مقدمات میں امید کی جاسکتی ہے کہ جج راحت فراہم کرنے کا حکم دیں گر مگر ہم جانتے ہیں  کہ عدالتی مداخلت کی بھی حدود ہوتی ہیں، بہتری کا انحصار حکومت کی پالیسیوں پر ہے۔ صحت عامہ کے شعبے میں  صرف ادویات ہی نہیں ہیں  جن کے معاملے میں  لوٹ مچی ہوئی ہے۔ طبی جانچ، ڈاکٹروں  اور جانچ مراکز کے درمیان کمیشن کا رشتہ، دواساز کمپنیوں  اور ڈاکٹروں کے درمیان ساز باز اور اسپتالوں  میں خدمات کی آسمان چھوتی قیمتیں  ، وہ اہم امور ہیں  جن کی جانب توجہ دینے کی ضرورت بھی پہلے سے زیادہ ہے۔ اس پورے مسئلے کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ بھی تعلیم کو کاروبار بنانے کا ہی نتیجہ ہے۔ وہ نوجوان جو لاکھوں  روپے خرچ کرکےڈاکٹر بنتے ہیں، انہیں  طبی اخلاقیات کا درس دیا تا جوسکتاہے مگر وہ اس درس کو کس حدتک قبول کریں گے، اس کا اندازہ ہی لگایا جاسکتاہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK