فلم کا عنوان ایک مشہور حدیث سے مستعار ہے جو معاشرے میں ماں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ فلم ایک غیر معمولی انسانی صورت حال میں مسلم کردار کو پیش کرتی ہےکہ کیسےوہ دین و دنیا دونوں کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 5:30 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
فلم کا عنوان ایک مشہور حدیث سے مستعار ہے جو معاشرے میں ماں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ فلم ایک غیر معمولی انسانی صورت حال میں مسلم کردار کو پیش کرتی ہےکہ کیسےوہ دین و دنیا دونوں کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔
ہالی ووڈ فلم’’یور مدر یور مدر یور مدر‘‘ گزشتہ دنوں ہی ریلیز ہوئی ہے۔ جب دنیا کے ایک بڑے حصے میں مسلمان کی شناخت کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہو، ایسے وقت میں ایک مسلمان باپ، اس کے بچوں، اس کے غم، اس کے ایمان اور اس کی اخلاقی کشمکش پر بننے والی فلم محض تفریح پر مبنی نہیں ہے بلکہ ایک سماجی اور تہذیبی مکالمہ ہے۔ سنیما کی دنیا میں بعض فلمیں اپنی کہانی، اداکاری اور تکنیکی خوبیوں کی وجہ سے توجہ حاصل کرتی ہیں جبکہ کچھ فلمیں اپنے موضوع اور اس موضوع کو پیش کرنے کے انداز کی وجہ سے دیر تک ذہنوں میں زندہ رہتی ہیں۔ مشہور اداکار مہر شالا علی کی فلم’’ یور مدر، یور مدر، یور مدر‘‘ کو دوسری قسم کی فلموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس فلم کی خاص بات صرف یہ نہیں کہ اس میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار مہرشالا علی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے، بلکہ اس کا اصل امتیاز یہ ہے کہ اس نے ایک ایسے وقت میں ایک مسلمان کردار کو مرکزی حیثیت دی ہے جب عالمی سنیما اور میڈیا کے بعض حلقوں میں مسلمانوں کی شناخت کو ایک مخصوص منفی تصور کیساتھ پیش کرنے کا رجحان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: درختوں کی کٹائی، اسرائیلی سیاست اور ایم ایل سی نتائج اخبارات میں موضوعِ بحث رہے
اکتوبر۲۰۲۶ء میں سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو بین الاقوامی فلمی ناقدین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ معروف فلمی ویب سائٹ روٹن ٹماٹوز پر اسے ۹۶؍ فیصد ناقدین کی مثبت ریٹنگ حاصل ہوئی جبکہ ناظرین کی جانب سے بھی اس کی ریٹنگ ۹۳؍ فیصد رہی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا اشارہ ہیں کہ فلم نے ناقدین اور عام ناظرین دونوں کی توجہ حاصل کی ہے۔
فلم کی کہانی لطیف نامی ایک ایسے مسلمان شخص کے گرد گھومتی ہے جس کا کردار مہرشالا علی نے ادا کیا ہے۔ لطیف ایک طرف ایک مذہبی مسلمان ہے، مسجد جاتا ہے، نماز پڑھتا ہے اور اپنے ایمان سے وابستہ ہے لیکن دوسری طرف وہ پیشے کے اعتبار سے ایک کرائے کا قاتل ہے۔ اس کی بیوی اچانک انتقال کر جاتی ہے اور وہ تین بچوں کی پرورش کی ذمہ داری کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔ اس کی سب سے چھوٹی بچی ماں کے دودھ کے بغیر غذا قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ ایک ایسے شخص کو جو پر تشدد اور خطرناک دنیا کا حصہ ہے اپنی ننھی بچی کے لئے ماں کے دودھ کی تلاش میں دربدر ہونا پڑتا ہے۔ فلم ایک غیر معمولی انسانی صورت حال پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف اس شخص کے ہاتھوں پر خون ہے، دوسری طرف وہ اپنے بچوں کیلئے پریشان ہے۔ ایک طرف وہ خدا سے رحمت اور مغفرت کی دعا کرتا ہے، دوسری طرف اس کا پیشہ اس کے مذہبی عقائد سے متصادم ہے۔ فلم اس تضاد کو چھپاتی نہیں ہےبلکہ اسے کہانی کا بنیادی سوال بناتی ہے۔ فلم کا عنوان بھی حضرت محمدؐ کی مشہور حدیث سے متاثر ہے۔ اس حدیث کو فلم میں محض مذہبی حوالہ نہیں بنایا گیا بلکہ ماں کی اہمیت، بچوں کی پرورش اور ایک باپ کی بے بسی کے جذباتی پس منظر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
فلم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مسلمان کردار کو فرشتہ بنا کر پیش نہیں کرتی۔ لطیف کے کردار میں خامیاں بھی ہیں، اخلاقی تضادات بھی اور ایسے فیصلے بھی ہیں جن پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہی بات اسے ایک سنجیدہ انسانی کہانی بناتی ہے۔ یہ فلم دنیا میں بڑھتے اسلامو فوبیا کے واقعات کے پس منظر میں بھی اہم ہے۔ اس مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اکثر اس کے ذمہ دار افراد کی شناخت کو پوری مسلم آبادی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص تشدد کرے تو اسے انفرادی مجرم، ذہنی مریض یا انتہا پسند کہا جا تا ہے لیکن مسلمان کے معاملے میں بعض اوقات اس کے مذہب کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ یہ دہرا معیار کس قدر عجیب ہے کہ ایک شخص جرم کرے تو اس کی ذاتی ذمہ داری زیر بحث آتی ہے لیکن دوسرا شخص جرم کرے تو اس کے مذہب کے کروڑوں پیروکاروں سے وضاحت طلب کی جانے لگتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سی جے پی، مودی سرکار سے ناراض نوجوانوں کیلئے پلیٹ فارم بن گیا ہے
اسی پس منظر میں ’’یور مدر یور مدر یور مدر‘‘ جیسی فلموں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ فلم ناظرین کو ایک مسلمان گھرانے کے اندر لے جاتی ہے۔ وہاں انہیں صرف مسجد، نماز، حلال و حرام یا مذہبی لباس دکھائی نہیں دیتا بلکہ ایک باپ کی پریشانی، بچوں کا دکھ، بیوی کی جدائی، روزمرہ زندگی کے مسائل، ایمان کی کشمکش اور انسانی کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں۔ مسلمان بھی دوسرے انسانوں کی طرح محبت کرتے ہیں، غمگین ہوتے ہیں، غلطیاں کرتے ہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں اور اپنی زندگی میں اخلاقی فیصلوں کی آزمائش سے گزرتے ہیں۔ یہ بات سننے میں معمولی معلوم ہوتی ہے لیکن جس معاشرے میں کسی پوری مذہبی برادری کو ایک ہی رنگ میں رنگنے کی کوشش ہو وہاں یہی معمولی بات ایک بڑی سماجی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔
سنیما نے اگر تعصبات کو ہوا دی ہے تو اس نے ان تعصبات کو چیلنج بھی کیا ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں ایسی کئی فلمیں بنائی گئی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے تعصبات اور غلط تصورات کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں کرن جوہر کی ہدایت کاری میں بنائی گئی شاہ رخ خان کی فلم ’’ مائی نیم از خان ‘‘ اور انوبھو سنہا کی ہدایتکاری میں بنائی گئی رشی کپور کی فلم ’’ملک ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ اسلاموفوبیا کاقابل غور پہلو یہ ہے کہ اس کے بعض علمبردار اپنے تعصب کو عقل، تحقیق، تہذیب اور انسانی حقوق کے نام پر پیش کرتے ہیں۔
انہیں مسلمانوں کے لباس سے مسئلہ ہے، ان کے کھانے سے مسئلہ ہے، ان کی عبادت سے مسئلہ ہے، ان کی مسجد سے مسئلہ ہے اور بعض اوقات ان کے نام سے بھی مسئلہ ہو جاتا ہے۔گویا مسلمان کے لئے ایک ایسا امتحانی پرچہ تیار کر دیا گیا ہے جس کے تمام سوالات کے درست جواب دینے کے باوجود نتیجہ پہلے سے طے ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی جرم میں ملوث ہو جائے تو بعض حلقوں کو اس کے مذہب میں جرم کی وجہ تلاش کرنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے مجرموں کے معاملے میں مذہب کو اکثر غیر متعلق قرار دے دیا جاتا ہے۔کیا یہ انصاف کا کوئی نیا عالمی اصول ہے کہ اچھا کام کرنے والے مسلمان کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اچھا مسلمان بھی ہے اور اچھا شہری بھی جبکہ دوسرے شہریوں کو محض اچھا انسان ہونا کافی سمجھا جاتا ہے؟اور پھر اسلاموفوبیا کے خلاف بات کرنے والوں کو اکثر یہ نصیحت بھی کی جاتی ہے کہ مذہب پر تنقید کی آزادی ہونی چاہئے،بالکل ہونی چاہیے۔ کسی بھی مذہب، مذہبی ادارے، عقیدے یا مذہبی رہنما کے نظریات پر تنقید کرنا ایک جائز فکری عمل ہےلیکن مذہبی عقائد پر تنقید اور مذہب کے ماننے والوں سے نفرت دو الگ چیزیں ہیں۔
اگر کسی مذہبی تصور سے اختلاف ہے تو اس پر دلیل دیجیے، علمی بحث کیجیے، سوال اٹھائیےلیکن کسی شخص کو صرف اس لئے مشکوک سمجھنا کہ وہ مسلمان ہے، تنقید نہیں بلکہ تعصب ہے۔یہ بھی ایک عجیب منطق ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز باتیں کرنے والوں کا دفاع کیا جاتا ہے لیکن جب مسلمان اپنے خلاف تعصب پر سوال اٹھاتے ہیں تو ان پر آزادی اظہار محدود کرنے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ یہاں ایک اہم بات یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف بننے والی فلموں کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان کردار کو ہمیشہ نیک، بے عیب، مظلوم اور معصوم دکھایا جائے۔ ایسا کرنا بھی حقیقت سے فرار ہوگا۔ مسلمان بھی دوسرے انسانوں کی طرح اچھے اور برے ہو سکتے ہیں۔ ان کے درمیان بھی اختلافات، جرائم، انتہا پسندی اور اخلاقی کمزوریاں موجود ہیں۔ کسی مسلمان کردار کو منفی انداز میں پیش کرنا بذات خود اسلاموفوبیا نہیں ہے۔اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک پوری برادری کی نمائندگی چند منفی کرداروں کے ذریعے کی جائے اور اس کے دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جائے۔’’یور مدر یور مدر یور مدر‘‘ اس اعتبار سے قابل توجہ ہے کہ اس میں مسلمان کردار کی پیچیدگی کو جگہ دی گئی ہے۔ لطیف ایک کرائے کا قاتل ہے، اس لئے اس کے اعمال کا اخلاقی دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کے باوجود اس کی مذہبی شناخت، والد ہونے کی ذمہ داری، بچوں سے محبت اور ذاتی غم کو کہانی سے الگ نہیں کیا گیا۔یہی وہ انسانی زاویہ ہے جس کی عالمی سنیما کو ضرورت ہے۔ کسی کردار کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نہ تو فرشتہ بنایا جائے اور نہ شیطان۔ اسے ایک مکمل انسان کے طور پر پیش کیا جائے، جس کے اچھے اور برے دونوں پہلو ہوں۔’’یور مدر یور مدر یور مدر‘‘ کی کامیابی سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ ایک فلم اسلاموفوبیا کو ختم کر سکتی ہے۔ تعصب کے پیچھے سیاسی مفادات، سماجی رویے، میڈیا کے رجحانات اور تاریخی تصورات بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کا مقابلہ صرف سنیما کے ذریعے ممکن نہیں۔ اس کے لئے تعلیم، صحافت، قانون، سیاسی شعور اور معاشرتی مکالمے کی بھی ضرورت ہے۔