مارے گئے گلفام

Updated: September 06, 2020, 12:14 PM IST | Prof Syed Iqbal

جنہوں نے بھی انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل ) کا میچ پہلی بار دیکھا ،وہ کرکٹ کے اس سجے سجائے چہرے کے دیدار سے دم بخود تھا۔ للت مودی نے بازی مارلی تھی اور دُنیا کی مختلف ٹیموں سے کرکٹر کو اونچے داموں میں خریدنے کی روایت ڈال کر انہیں راتوں رات لکھ پتی بنادیاتھا۔ خود اس کی کمپنی ان میچوں کوٹیلی ویژن پر دکھانے کے حقوق فروخت کرکے مالا مال ہوچکی تھی اور اسٹیڈیم سے ٹکٹوں کی آمدنی نے سبھوں کو روپوں سے نہلادیاتھا

Mumbai Indians - Pic : INN
ممبئی انڈینس ۔ تصویر : آئی این این

پچھلے۲؍دنوں سے انّا خوش تھا کہ اب اسے نریمان پوائنٹ سے چوپاٹی کے آخری کنارے تک چکر لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے ناریل وانکھیڈے اسٹیڈیم کی گلی کے نکّڑ  ہی پر بک جاتے تھے۔لیموں کا شربت بیچنے والے بھیّا نے بتایا تھا کہ آج کل کرکٹ  میچ دیکھنے کیلئے شہر بھر سے لوگ آرہے ہیں اور ساری دنیا کے کرکٹرز ان میچوں میں کھیل رہے ہیں، اسلئے میچ دلچسپ ہوچکے ہیں۔ انّا نے کبھی کرکٹ کھیلی تھی نہ کسی اسٹیڈیم میں کوئی کھیل دیکھاتھا۔ اسے تو اپنی ٹوکری  میں  رکھے بیس پچیس ناریل بیچنے میں ہی دلچسپی تھی، جس کیلئے وہ دن بھرمیرین ڈرائیو کے چکر لگاتا تھا۔ آج بھی ایسا ہی ہوا۔ جوں ہی میچ ختم ہوا، انسانوں کی ایک بھیڑ گلی میں اُبل پڑی اور زیادہ تر نوجوان چرچ گیٹ اسٹیشن جانے کے بجائے میرین ڈرائیو کی طرف چل پڑے۔ اسٹیڈیم میں میچ کے ختم ہونے پر ہمیشہ کی طرح پارٹی ہوئی، کھلاڑیوں اور دیگر مہمانوں نے دھینگا مشتی کی اورکسی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ شری سنت اس بھیڑ سے خاموشی سے نکل کر اپنی کار میں بیٹھ چکا ہے۔ شری سنت کی گاڑی نے دھیمے سے گلی پار کی ، باندرہ جانے کیلئے یوٹرن لیا اور پھر اس فراٹے سے دوڑنے لگی کہ آس پاس کے ڈرائیور اسے حیرت سے دیکھنے لگے کہ آخر اس نوجوان کو اتنی کیا جلدی ہے؟ مگر شری سنت کو جلدی تھی۔ اس کے کچھ دوست ایک کلب میں اس کا انتظار کررہے تھے جہاں اس نے ایک پارٹی کا انتظام کیاتھا۔ شری سنت کو اپنی گاڑی چلاتے ہوئے احساس بھی نہیں ہوا کہ پولیس کی دو گاڑیاں اس کا تعاقب کررہی ہیں۔ جب تک وہ ورلی کی کھلی سڑک پر پہنچتا، پولیس کی کاریں اسے وورٹیک کرچکی تھیں اور ورلی پہنچتے پہنچتے اس کی کار رُکوا کر اسے حراست میں لے لیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نےBookies  سے  ساز باز کرکے میچ ’فکس‘کیا ہے اوراس ’خدمت‘کیلئے۷۰؍ ہزار ڈالر وصول کئے ہیں۔ شری سنت کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا کیونکہ پولیس نے ’آپریشن یوٹرن‘ عرصہ پہلے شروع کررکھا تھا اوراس کے پاس شری سنت کو حراست میں لینے کیلئے بھی کافی ثبوت تھے۔ دوسرے دن یہ خبر شاہ سرخیوں میں شائع ہوئی اور ہرکوئی کرکٹ ایسے Gentleman`s Game  میں ایسی ذلت آمیز حرکت کیلئے کھلاڑیوں کی لالچ کو الزام دینے لگا۔ چند ہی دنوں کی تفتیش کے بعد کچھ درجن بھر سٹے بازوں اور دوکھلاڑیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس اسکینڈل میں بی سی سی آئی کے  اعلیٰ ترین ذمہ دار شری نواسن کا نام بھی اُبھرا اور مزید تفتیش کے بعد ان کے داماد میّپن کو جیل بھیج دیاگیا۔
  یہ ساری کرامت اس ایک شخص کی تھی جس کا نام  للت مودی ہے۔ للت مودی راجستھان کے ایک متمول گھرانے کا فرد تھا جسے  پڑھنے لکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے کسی طرح اسکول کی تعلیم مکمل کی تو  والدین  نے اعلیٰ تعلیم کیلئے اسے امریکہ  بھیج دیا۔ وہاں بھی پڑھائی کی طرف توجہ دینے کے بجائے یہ باسکٹ بال اور بیس بال میں دلچسپی لینے لگا۔ ایک بار اپنے دوستوں کے ساتھ کوکین کا استعمال کرتے ہوئے پکڑا بھی گیا مگر جج کے سامنے اپنی صحت کو بنیاد بناکر کچھ اس طرح سے  فریاد کی کہ اسےجیل تو نہیں بھیجا گیا البتہ چھ ماہ کیلئے  اسے کمیونٹی سروس کرنی پڑی۔ وطن لوٹنے پر اس نے مقامی سیاستدانوں سے تعلق بڑھاکر راجستھان کے ریاستی کرکٹ بورڈ کی صدارت حاصل کرلی اور کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح بی سی سی آئی کے حلقہ میں شامل ہوجائے۔ اسے ایک ہی دھن تھی کہ جب برطانیہ اور آسٹریلیا کرکٹ کو ’کمرشیلائز‘کرسکتے ہیں تو ہندوستان کیوں نہیں کرسکتا؟ اگر بیس سال اور باسکٹ بال کے کھلاڑی سپراسٹار بن کر لاکھوں ڈالر کماسکتے ہیں تو ہمارے کرکٹرز کب تک چندہزار روپوں پر قانع رہیں گے؟ آخر ہم کب تک کرکٹ کے میچ پانچ دنوں تک دیکھتے رہیں گے جس میں اکثر میچ ڈرا ہوجاتے ہیں ؟ اسے رہ رہ کر یہی خیال آتا کہ جب تک ہندوستان میں کرکٹ کا موجودہ ’فارمیٹ‘تبدیل نہیں کیاجاتا، تب تک اس کھیل کو کاروباری شکل نہیں دی جاسکتی۔ یوں بھی کرکٹ ایسے روایتی کھیل کوکچھ سابق کھلاڑی، کرکٹ انتظامیہ کے کارکنان ، غیر اہم سیاستداں ، ریٹائرڈ سرکاری افسران اور کچھ سوشل قسم کی خواتین ہی دیکھنے آتی ہیں۔ یہاں تک کہ اسٹیڈیم کی نشستیں اکثر خالی رہتی ہیں۔ بیچارے کرکٹرز جو ۶۰ء اور۷۰ء کی دہائی میں فی میچ ڈھائی سوروپے کماتے تھے اب بھی چند ہزار روپے ہی کماپاتے ہیں۔ بلاشبہ کرکٹ ہمارے لئے قومی کھیل کا درجہ حاصل کرچکا ہے مگراس کی مقبولیت اب بھی بڑے شہروں تک ہی محدود ہے۔ اسے قصبوں اور گاؤں تک لے جانے کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب اسے ٹیلی ویژن پر دکھایاجائے اور اتنا دلچسپ بنایاجائے کہ ناظرین کیلئے یہ ایک میچ نہ ہو بلکہ تفریح کا سامان بن جائے۔
  یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ہمارے ہاں کرکٹ کا انتظام سیاستداں دیکھتے ہیں اور کسی ریٹائرڈ کرکٹر کو موقع دینے کے بجائے  وہ اسے بھی اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ شردپوار برسوں تک ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن کے صدر کیوں بنے رہے؟ ارون جیٹلی نے برسوں دہلی بورڈ کی صدارت کیوں نہیں چھوڑی؟ خود نریندر مودی گجرات کرکٹ بورڈ کے صدر رہے تھے اور وزیراعظم بننے کے بعد یہ منصب امیت شاہ کے حوالے کر دیاتھا۔ غرض کرکٹ بھی سیاست کے سامنے سرنگوں تھا اور سیاستدانوں کی اجازت کے بغیر اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں تھی۔ ظاہر ہے اس نئے فارمیٹ کیلئے سیاستداں اپنی جیب سے  پیسہ دینے سے رہے۔ وہ تو چاہیں گے کہ جتنی کمائی ہو اس میں ان کی حصہ داری برقرار رہے۔ للت مودی سیاستدانوں کی اس اجارہ داری سے عاجز تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کھیل میں صرف سرمایہ دار پیسے لگائیں جو کاروبار جانتے ہیں اور اپنا برانڈ مشتہر کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ مودی نے بی سی سی آئی کے ذمہ داروں کو جب اپنے منصوبے سے آگاہ کیا تو اس منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے انہوںنے رشوت طلب کی جو مودی کسی حال دینا نہیں چاہتا تھالہٰذا اس نے اپنے طورپر ملک کے کچھ بڑے سرمایہ داروں سے بات کی، انہیں منافع کی شرح بتاکر بوتل میں اتارا اور یوں چھ ماہ کی محنت کے بعد کچھ۸؍ فرنچائز تیارہوگئے۔ کھیل کو مزید رنگین بنانے کی خاطر اس نے فلمی ستاروں کو بھی قائل کیا تاکہ وہ بھی ٹیمیں خرید کر اپنی شہرت میں چار چاند لگائیں۔ یہاں بھی اس کی چرب زبانی کام کرگئی اور شاہ رخ خان، پریتی زینٹا اور شلپا شیٹی اپنی اپنی ٹیمیں لے کر میدان میں اتر آئے۔ مکیش امبانی اور وجے مالیا اپنی ٹیموں کے ساتھ پہلے ہی تیار تھے۔ نئے فارمیٹ کے تحت للت مودی نے پانچ دن کے کھیل کو تین گھنٹے کے تماشے میں بدل دیاتھا اور بیس اوور کے اس مقابلے کو دومہینوں تک جاری رہنا تھا۔ اب ۲۰۰۸ء کا سال کرکٹ کی تاریخ کے زریں سال میں بدل چکا تھا جب کروڑوں ہندوستانیوں نے اس رنگا رنگ میچ کو اپنے اپنے ٹیلی ویژن اسکرین پر بڑےمزے سے دیکھا۔ جہاں ہر چوکے اور چھکے کا اعلان کچھ گوری لڑکیاں موسیقی کے ساتھ رقص کرکے کرتی تھیں۔ ڈھیر سارے کیمرے اسٹیڈیم  میں بیٹھے نوجوان چہروں کے ساتھ فلمی اداکاروں کو بھی کور کرتے تھے اور کھلاڑیوں کے کلوزاپ اور بولرز کا ہر بال اور بیٹس مین کی ہر ہٹ قریب سے دکھائی جاتی تھی۔ جس نے بھی انڈین  پریمیر لیگ (آئی پی ایل ) کا میچ پہلی بار دیکھا ،وہ کرکٹ  کے اس سجے سجائے چہرے کے دیدار سے دم بخود تھا۔ للت مودی نے بازی مارلی تھی اور دنیا کی مختلف ٹیموں سے کرکٹر کو اونچے داموں میں خریدنے کی روایت ڈال کر انہیں راتوں رات لکھ پتی بنادیاتھا۔ خود اس کی کمپنی ان میچوں کوٹیلی ویژن پر دکھانے کے حقوق فروخت کرکے مالا مال ہوچکی تھی اور اسٹیڈیم سے ٹکٹوں کی آمدنی نے سبھوں کو روپوں سے نہلادیاتھا۔
 اس تماشے کا ڈراپ سین شری سنت کے فراڈ اوراس کی گرفتاری کی صورت میں نظر آیا اور اس مقدمے نے آئی پی ایل کی بنیادیں ہلادیں۔ معاملہ مقامی عدالت سے نکل کر سپریم کورٹ تک پہنچ گیا اور سپریم کورٹ نے ونود رائے نامی ایک سنجیدہ اور انصاف پسند بیوریو کریٹ کو نامزد کرکے ایک  انکوائری کمیٹی بنادی جس کی رپورٹ نے کرکٹ کے پس پردہ دوسرے کھیلوں کی بھی پول کھول دی۔ اس رپورٹ کے مطابق ابتدا میںسرمایہ داروں نے اپنی ٹیم ایک سو ملین میں خریدی تھی جس کی قیمت اگلے سیزن میں تین سو ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ کوچی سے کچھ لوگوں نے ایک Cartel بناکر اپنے لئے ٹیم  خریدی جس میں کانگریس کے ششی تھرور نے بھی پیسے لگائے تھے لیکن مذکورہ رپورٹ نے  تھرور کی ٹیم کو کھیل سے بے دخل کردیا نتیجتاً  آئی پی ایل کے دفاتر میں انکم ٹیکس کے چھاپے پڑنے لگے۔ بی سی سی آئی نے اپنی عزت بچانے کی خاطرللت مودی کو نکا ل باہر کیا حالانکہ سپریم کورٹ سے شری نواسن کو کلین چٹ مل گئی تھی مگر اپنے داماد کے ملوث ہونے پر انہیں بھی بی سی سی اے کی صدارت چھوڑنی پڑی۔ موصوف ترقی کرکے عالمی کرکٹ بورڈ کی صدارت بھی ہتھیاچکے تھے۔ انہیں وہاں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ برطانیہ اور آسٹریلیا نے للت مودی کے بڑھتے ہوئے اثرات کےخلاف دھاوا بول دیا اور میڈیا میں اس مسئلے کو لے کر جنگ شروع ہوگئی۔ کرکٹ کے بھولے بھالے شائقین کو یہ بھی پتہ  چلا کہ اس کھیل میں غیر قانونی سٹے بازی ۷۵۰؍ بلین ڈالرز تک پہنچ چکی  ہے (جنوبی افریقہ کے ہنسی کرونئے تو مفت میں مارے گئے) جبکہ ہرٹیم میں کوئی نہ کوئی کرکٹر یہ کھیل آج بھی کھیل رہا ہے۔ ان دنوں یہ بات بھی مشہور ہوئی کہ دبئی اور پاکستان میں بیٹھے کچھ صاحبان اپنے محفوظ قلعوں سے اس کھیل کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ چوکے اور چھکے پر رقص کرنے والی ’چیئرلیڈزر‘ نے بھی کھلاڑیوں کی بدتمیزیوں کی کہانیاں بیان کیں اور انہیں ٹیم سے دور الگ ہوٹلوں میں رکھاجانے لگا۔ایک صاحبزادی کو اپنی داستان شائع کرنے کی پاداش میں امریکہ واپس جانا پڑا۔ کچھ تنظیموں نے ان کے لباس پر تنقیدیں کیں اور ہندوستانی تہذیب کی دہائی دیتے ہوئے انہیں سرے سے ہٹانے کی تجویز بھی رکھی۔
 لیکن جس نسل کیلئے یہ تماشہ منعقد کیا گیا تھا، اسے اس واردات سے بڑی مایوسی ہوئی۔ وہ معمر افراد بھی شاکی تھے جو اس نئے فارمیٹ کے تھرل سے گھر بیٹھے  لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اکثر لوگوں کو دکھ تھا کہ صرف ایک آدمی کو نیچا دکھانے کیلئے بی سی سی آئی نے اتنا ہنگامہ کیوں برپاکیا؟ کیا برسوں سے امریکی  ٹیلی ویژن پر کشتیوں کے مقابلے نہیں دکھائے جاتے ( جنہیں نوراکشتی کہنا چاہئے) جن کے نتائج مقابلوں سے قبل ہی طے ہوچکے ہوتے ہیں؟ لوگ یہ نہیں دیکھ پائے کہ ہمارے شری سنت کا مسئلہ کیا تھا؟ دراصل اس کے ایسے کھلاڑی اتنے کم عمر ہوتے ہیں کہ ان پر دولت اور شہرت کا نشہ بڑی  تیزی سے اثر کرتا ہے اور وہ اپنا کریئر اور عزت بھول کر سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ویسے بھی اب ہماری دنیا میں Gentlemanکم ہی رہ گئے ہیں اوران کا Game بھی اتنا مہذب اور شائستہ نہیں ر

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK