اندور سے منتخب مدھیہ پردیش کے وزیر برائے شہری ترقیات کیلاش وجئے ورگیہ بی جے پی کے سینئر اور مضبوط لیڈر ہیں، ان کے نزدیک بھاگیرتھ پورہ میں گندے پانی کی سپلائی اور اس کے سبب ہونے والی اموات ’گھنٹہ‘ اور اس انتہائی حساس موضوع پر کسی صحافی کا کچھ پوچھنا ’فوکٹ سوال‘ کی حیثیت رکھتا ہے، یہ کیا ہے؟
آٹھ برسوں سے متواتر ملک کے سب سے صاف شہر کا خطاب جیتنے والے شہر اندور میں گزشتہ دنوں جو سانحہ رونما ہوا وہ واضح طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب عوام ارباب اقتدار سے اپنے معیار زندگی کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرنے کی بجائے مذہبی جذبات کی رو میں آکر حکمراں طبقے کے دلفریب وعدوں کو حقیقت سمجھنے لگتے ہیں تو بالآخر انھیں ایسے حالات سے دوچار ہونا ہی پڑتا ہے جہاں انتظامیہ کی لاپروائی کے سبب ہونے والی ناگہانی اموات ارباب اقتدار کے نزدیک ’گھنٹہ‘ اور ’فوکٹ سوال‘ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ اندور کے بھاگیرتھ پورا میں گندہ پانی پینے سے ہونے والی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک ۲۰؍ سے زیادہ افراد لقمہ ٔ اجل بن چکے ہیں جن میں پانچ ماہ کے بچے سے لے کر ۶۰؍سال کے ضعیف تک شامل ہیں۔ اس حادثے کی خبر عام ہونے کے بعد شہری انتظامیہ کے چند افسران کو معطل اور مرنے والوں کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا اعلان کر کے ریاستی حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے۔
ایم پی کی ریاستی کا بینہ میں شامل کیلاش وجئے ورگیہ جو کہ اندور ہی سے منتخب ہو کر ریاستی ایوان میں پہنچے ہیں اور اتفاق سے شہری ترقیاتی وزارت کا قلمدان سنبھالتے ہیں ، ان کے نزدیک بھاگیرتھ پورا میں گندے پانی کی سپلائی اور اس کے سبب ہونے والی اموات ’گھنٹہ‘ اور اس انتہائی حساس موضوع پر کسی صحافی کا سوال ’فوکٹ سوال‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام کو درپیش مسائل کے متعلق کسی وزیرکا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ارباب اقتدار اب اس حد تک سنگدل ہو چکے ہیں کہ انتظامیہ کی غفلت کے سبب مرنے والے عوام سے اظہار ہمدردی کو بھی تضیع اوقات سمجھنے لگے ہیں۔ ارباب اقتدار کا یہ رویہ صرف اندور کے ایم ایل ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ مذہب آمیز سیاست نے جو فضا تعمیر کی ہے اس میں ارباب اقتدار اور عوام کے باہمی ربط کی نوعیت کچھ اسی طرز کی ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے لیے صرف سیاست داں ہی نہیں بلکہ عوام بھی اسی حد تک ذمہ دار ہیں جن کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے زیادہ وہ جذباتی امور عزیز ہو گئے ہیں جن کا زندگی اور سماج کے اصل معاملات و مسائل سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عام آدمی کو ہوائی جہاز کے سفر کا خواب دِکھا کر ٹرین کا سفر بھی دوبھر کر دیا
دائیں بازو کے افکار ونظریات کی تائید کرنے والے سیاسی نیتاؤں کے لیے مذہب اور ذاتی سیاسی مفاد کو یقینی بنانے والی مصنوعی دیش بھکتی اس آسان حربے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں عوام کو الجھا کر ارباب اقتدار انھیں صرف اچھے دنوں کا خواب دکھاتے رہتے ہیں ۔ اس خواب کے دام میں گرفتار عوام کو زمینی سطح پر جن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے ان کا تصفیہ کرنے کی فکر نہ تو ان سیاست دانوں کو ہوتی ہے اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے ایسی کوئی تدبیر کی جاتی ہے جس سے عوام کو درپیش مسائل کا اطمینان بخش حل نکل سکے۔ اندورمیں بھی سیاسی لیڈرشپ اور شہری انتظامیہ کی غفلت کے سبب کئی لوگوں کی موت واقع ہو گئی اور سیکڑوں افراد اب بھی زیر علاج ہیں جن میں بعض کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے۔ اس حادثہ پر مقامی ایم ایل اے اور ریاستی وزیر کیلاش وجئے ورگیہ نے جو ردعمل ظاہر کیا اس کے تناظر میں اب اس موضوع پر بحث کرناہی بیکار ہے کہ جب اکتوبر ہی سے گندے پانی کی سپلائی کی شکایت کی جارہی تھی تو انتظامیہ نے لوگوں کی اموات سے قبل تک ایسی سردمہری کا مظاہرہ کیوں کیا جو ایسے ہیبت ناک حادثے کا سبب ہوئی ؟ اس وقت اقتدار اور عوام کے رابطے نے جو شکل اختیار کر لی ہے اس کا ناگزیر تقاضا ہے کہ ایسے سوال پر غور کرنے سے زیادہ عوام اپنے اس رویے پر غور کرے جو مفاد عامہ اور ملک و معاشرہ کی خوشحالی اور وقار سے وابستہ معاملوں کو دھرم کی عینک سے دیکھنے کا عادی ہو چکا ہے۔ عوام کے اسی رویہ کے سبب سیاست داں اور انتظامیہ کو اپنے ان فرائض اور ذمہ داریوں کی مطلق پروا نہیں رہی جن کا براہ راست تعلق عوام کے معیار زندگی سے ہے۔
جمہوریت میں مرکزی حیثیت رکھنے والے عوام کو کچھ تو دھرم آمیز سیاست کرنے والے نیتاؤں اور کچھ خود ان کی عاقبت نااندیشی نے اس مقام پر لا دیا ہے کہ اب ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ان کے شہر کا میئر، مقامی ایم ایل اے، ایم پی اور انتظامیہ کسی کو اس کی مطلق پروا نہیں کہ ان کے علاقے میں عوام کو کن مسائل سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے کیا اقدامات لازمی طور پر کئے جانے چاہئے۔ بات صرف اندور کی نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر اقتدار اور عوام کے رابطہ نے ہی شکل اختیار کر لی ہے۔ مرکزی راجدھانی دلی میں آلودگی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اس کے باوجود ایک طبقہ اسی بحث میں الجھا ہوا ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں آلودگی کس حد تک تھی اور موجودہ حکومت میں اس کی حد کیا ہے؟ مفاد عامہ کے معاملات پر عوام کا رویہ جب تک اس قسم کا رہے گا تب تک کسی بھی مسئلے کے تئیں نہ تو سیاسی لیڈرشپ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی اور نہ ہی انتظامی امور سے وابستہ افسران کو اس کی مطلق پروا ہوگی کہ عوام کا معیار زندگی کس سطح پر ہے اور عوام اندور جیسے حادثات سے دوچار ہوتے رہیں گے۔