کپتان ہرمن پریت کور کنگارو ٹیم کے خلاف بہتر کارکردگی کیلئے پُرعزم۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 4:55 PM IST | New Delhi
کپتان ہرمن پریت کور کنگارو ٹیم کے خلاف بہتر کارکردگی کیلئے پُرعزم۔
ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ہرمن پریت کور نے کہا ہے کہ گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف حاصل کی گئی تاریخی فتح نے ٹیم کا اعتماد بڑھایا ہے اور کئی ذہنی رکاوٹیں دور کر دیں، جس کی بدولت ٹیم اتوار کو ہونے والے اہم ٹی-۲۰؍ورلڈ کپ میچ میں بھی بہترین کھیل پیش کرنے کی امید رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے مانچسٹر میں بنگلہ دیش کو ۵؍ وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل کی امیدیں برقرار رکھی ہیں اور اب اسے آخری گروپ میچ میں ۶؍ بار کی چمپئن آسٹریلیا کو شکست دینی ہوگی۔
ہرمن پریت نے کہا’’نوی ممبئی میں آسٹریلیا کے خلاف گزشتہ کامیابی نے ہمیں بے حد اعتماد دیا اور کئی رکاوٹیں توڑ دیں۔ امید ہے کہ اتوار کو ہم اپنا بہترین کھیل پیش کریں گے۔‘‘لارڈز میں اتوار کو ہونے والا یہ مقابلہ تقریباً ۸؍ ماہ بعد دونوں ٹیموں کے درمیان ہوگا۔ اس سے قبل ہندوستان نے گزشتہ برس خواتین کے ون ڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دے کر پہلی مرتبہ عالمی خطاب جیتنے کی راہ ہموار کی تھی۔ رواں سال آسٹریلیا میں کھیلی گئی ۳؍ ٹی-۲۰؍ میچوں کی سیریز بھی ہندوستان نے دوایک سے اپنے نام کی تھی۔ہرمن پریت نے کہا کہ آسٹریلیا مضبوط حریف ضرور ہے، لیکن ہندوستانی ٹیم کو اس کے خلاف کھیلنے میں ہمیشہ لطف آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خواتین ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ: بٹس کی ناٹ آؤٹ سنچری، جنوبی افریقہ کی نیدرلینڈز پر فتح
انہوں نے کہا’’آسٹریلیا ہماری پسندیدہ حریف ٹیموں میں سے ایک ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایسے بڑے مقابلوں میں ہم اپنا بہترین کھیل پیش کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹ میں ہر میچ فیصلہ کن ہوتا ہے اور ایسے مواقع پر پوری صلاحیت کے ساتھ کھیلنا ضروری ہے۔
کپتان نے بنگلہ دیش کے خلاف کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم اعتراف کیا کہ ٹیم کی فیلڈنگ اب بھی تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہا’’ہم کئی شعبوں میں بہتری لانا چاہتے ہیں لیکن خاص طور پر فیلڈنگ پر مزید محنت کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ہم نے کئی آسان کیچ چھوڑے جبکہ آسٹریلیا کے خلاف میچ انتہائی اہم ہے اور اس میں ہمیں اپنی بہترین کرکٹ کھیلنی ہوگی۔‘‘
ہندوستان کو سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لئے آسٹریلیا کے خلاف کامیابی درکار ہے جبکہ گروپ سے دوسری نشست کے لئے جنوبی افریقہ بھی مضبوط دعویدار ہے۔