رپورٹ کے مطابق ناقص کھانا کھا کر ہر سال عالمی سطح پر تقریباً ۸۷؍ کروڑ افراد مختلف امراض میں مبتلا اور ۱۵؍ لاکھ سے زائد افرادموت سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 3:39 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
رپورٹ کے مطابق ناقص کھانا کھا کر ہر سال عالمی سطح پر تقریباً ۸۷؍ کروڑ افراد مختلف امراض میں مبتلا اور ۱۵؍ لاکھ سے زائد افرادموت سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق آلودہ و بوسیدہ اشیائے خور و نوش کے استعمال سے ہر سال عالمی سطح پر تقریباً ۸۷؍ کروڑ افراد مختلف امراض میں مبتلا اور ۱۵؍ لاکھ سے زائد افرادموت سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ وطن عزیز میں ہر سال اس سبب سے ایک لاکھ ۲۰؍ہزار اموات ہوتی ہیں۔ آلودہ اشیائے خور و نوش کے استعمال سے مختلف امراض میں مبتلا ہونے اور موت سے دو چار ہونے والے افراد کی یہ تخمینی تعداد ہے۔ ممکن ہے کہ اصل صورتحال اس سے زیادہ تشویش ناک ہو اور اگر ایسا ہے تو یہ عالمی انسانی معاشرہ کیلئے ایسا لمحہ ٔ فکر یہ ہے جسے نظر انداز کرنے سے صحت و جان کی سلامتی کو متاثر کرنے والے مزید سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ڈبلیوایچ او کے علاوہ عالمی سطح پر کئی ادارے عوامی صحت کے تحفظ کیلئے سرگرم عمل ہیں اور ان اداروں نے بارہا متنبہ کیا ہے کہ اشیائے خور و نوش فروخت کرنے والے چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑی فیکٹریوں کے مالکان اور لذت زبان و دہن کی تسکین کا بندوبست کرنے والے ریستوراں اور ہوٹلوں کے مالکان مالی منفعت کی خاطر عوام کی صحت سے مسلسل کھلواڑ کر رہے ہیں۔ خام اناج اور اناج کو مختلف قسم کے پکوان کی شکل میں پروسنے والوں کی منافع خوری کے رجحان نے عوام کی یافت کا خاصا حصہ علاج معالجے پر صرف کرنے والا ماحول بنا دیا ہے۔
عوام کیلئے خالص اشیائے خور و نوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کی خاطر مختلف ملکوں میں قوانین بنائے گئے ہیں جن کا مقصد عوام کو آلودہ غذائی اشیا کے استعمال سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے محفوظ رکھنا ہے۔ ہندوستان میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کے نام سے ایک قانون کا نفاذ اگست ۲۰۰۶ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد خالص اشیائے خور و نوش کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ مرکزی وزارت صحت کے تحت کام کرنے والی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا غذائی اشیا کے خالص پن کا معیار طے کے علاوہ ان اشیا کی خرید و فروخت اور در آمدگی کی نگہداشت کرتی ہے۔ اس کا ایک اہم کام ایسے سائنس اساس اصول بنانا ہے جو غذائی اشیا کے خالص پن اور معیار کی جانچ پرکھ کے ساتھ ہی عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔ حکومتی سطح پر کئے جانے والے ان التزامات و اقدامات کے علاوہ سماجی سطح پر بھی وقتاً فوقتاً عوام کو بیدار کرنے کی خاطر مختلف اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ان سب کے باوجود آلودہ اشیائے خور و نوش سے پیدا ہونے والے ایسے مسائل میں اضافہ روز افزوں ہے جو عوام کو صحت و سلامتی کے خطرات میں مبتلا کرنے کے ساتھ ہی مالی اعتبار سے ان کی کمر توڑ رہے ہیں۔
اشیائے خور و نوش میں ملاوٹ اور بوسیدہ غذائی اشیا کے استعمال سے متعلق خبریں اکثر میڈیا میں نظر آتی ہیں۔ دودھ اور دودھ سے بننے والی اشیا میں یوریا، ڈٹرجنٹ، کاسٹک سوڈا، مصالحہ جات میں اینٹ کے ذرات یا سفوف کی ملاوٹ، مختلف قسم کے مشروبات اور کھانے کا تیل وگھی میں مضر صحت کیمیکل کی ملاوٹ نے صحت کے سنگین مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں کو مختلف ادویات اور کیمیکل کے ذریعہ جلدی تیار کر کے بیچنے والوں کی جیب تو بھر رہی ہے لیکن اس کے سبب عام آدمی کی زندگی میں ڈاکٹر اور ادویات کو لازمی جزو کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
امراض قلب اور کینسر جیسے مہلک مرض کا عام بیماری کی شکل اختیار کر لینے کی ایک وجہ آلودہ اشیائے خور و نوش کا استعمال ہے۔ اس معاملے میں اب ان کمپنیوں پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا جو کبھی عوام کے درمیان خالص برانڈ کے طور پر مشہور ہوا کر تی تھیں۔ اسی طرح آلودہ و بوسیدہ اشیا سے پکوان تیار کرنے کے معاملے میں چھوٹے ریستوراں، ڈھابوں اور پانچ ستارا ہوٹلوں کا امتیاز ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بنگلور کے کئی بڑے ہوٹلوں پر ایف ایس ایس اے آئی کے کارندوں کی چھاپہ ماری میں خاصی مقدار میں گوشت، سبزیاں اور ایسی دیگر غذائی اشیا ضبط کی گئیں جن کی میعاد استعمال ختم ہو گئی تھی۔ مئی ۲۰۲۶ء میں مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر کا عہدہ سنبھالنے والے تکارام منڈے بھی ان دنوں سمّیت زدہ غذائی اشیا کی فروخت پر قدغن لگانے کیلئے اپنے سخت اقدامات کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ منڈے کے یہ سخت اقدامات عوامی صحت کے تحفظ اور خالص غذائی اشیا کی فراہمی کی راہ ہموار کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں حالانکہ بعض معاملات میں ان کی کارروائی میں مثالی شدت پسندی کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔
عوام کی صحت سے کھلواڑ کرنے اور انھیں ناگہانی طور پر شدید مالی مسائل میں مبتلا کرنے کا سبب بننے والے تاجروں نے سماج کو ایسے بحران کا شکار بنا دیا ہے جو وسیع پیمانے پر مایوسی و اضطراب کی فضا تعمیر کر رہا ہے۔ معاشرے کو ایسی سم آلود فضا سے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں حکومتی سطح پر جو اقدامات کئے جار ہے ہیں ان کی کامیابی کا بڑا دارومدار ایسے ایماندار و حساس ملازمین پر ہے جو اپنے فرائض منصبی کی تعمیل میں سمجھوتہ نہ کریں۔ اس سے بھی زیادہ اہم صحت و جان کی سلامتی کے تئیں عوام میں ایسی حساسیت اور بیداری کا پیدا ہونا ہے جو آلودہ اشیائے خورو نوش کے استعمال کے مضر اثرات کی آگہی عطا کرے۔ ایسا نہ ہو کہ اس امر میں بے پروائی لذت کام و دہن کو ہلاکت خیزی میں تبدیل کر دے!