رات کے سناٹے میں جب بیشتر گھروں کے دروازے بند ہوچکے ہوتے ہیں، مائیں اپنے بچوں کے انتظار میں ہوتی ہیں، باپ دن بھر کی تھکن کے بعد آرام کر رہے ہوتے ہیں، اسی وقت شہر کے بعض ہوٹلوں اور بیٹھکوں میں کم عمر بچوں کی ایسی محفلیں جمتی ہیں جنہیں دیکھ کر ایک حساس دل کانپ اٹھتا ہے۔
حقہ صرف دھواں نہیں، ایک عادت کا دروازہ بھی بن سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
رات کے سناٹے میں جب بیشتر گھروں کے دروازے بند ہوچکے ہوتے ہیں، مائیں اپنے بچوں کے انتظار میں ہوتی ہیں، باپ دن بھر کی تھکن کے بعد آرام کر رہے ہوتے ہیں، اسی وقت شہر کے بعض ہوٹلوں اور بیٹھکوں میں کم عمر بچوں کی ایسی محفلیں جمتی ہیں جنہیں دیکھ کر ایک حساس دل کانپ اٹھتا ہے۔ کہیں حقے کا دھواں اٹھ رہا ہے، کہیں سگریٹ اور بیڑی سلگ رہی ہے، کہیں موبائل کی اسکرین پر وقت ضائع ہورہا ہے اور کہیں دوستوں کی صحبت میں وہ بچے بیٹھے ہیں جن کی عمر ابھی کتاب، کھیل، تعلیم اور تربیت کی ہے۔ یہ محض ایک سماجی برائی نہیں یہ ہمارے گھروں، ہماری تربیت اور ہماری آئندہ نسل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ فلاں بچہ سگریٹ کیوں پی رہا ہے ؟اصل سوال یہ ہے کہ وہ بچہ رات گئے ہوٹل تک پہنچا کیسے؟ سوال یہ نہیں کہ ایک بچے نے حقہ کیوں پیا؟ سوال یہ ہے کہ اسے روکنے والا کہاں تھا؟ سوال یہ نہیں کہ بچے خراب صحبت میں کیوں بیٹھتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ ہم نے انہیں اچھی صحبت، مناسب مصروفیت اور مقصدِ زندگی کب دیا؟
یہ بھی پڑھئے: نعمتیں انسان کے کردار میں نظر آنی چاہئیں، اُس کےتکبر میں نہیں!
بچپن کھیلنے اور سنورنے کا زمانہ ہے۔بچپن زندگی کا وہ مرحلہ ہے جب شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اس عمر میں بچے جو ماحول دیکھتے ہیں، جن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، جن عادات کو معمول بنتا دیکھتے ہیں، ان کا اثر ان کی شخصیت پر پڑتا ہے۔اسی لئے کم عمر بچوں کا رات دیر تک ہوٹلوں میں بیٹھنا معمولی بات سمجھنا خطرناک غفلت ہے۔
آج بچہ کہتا ہے: میں دوستوں کے ساتھ ہوں۔‘‘ کل وہ کہہ سکتا ہے: ’’مجھے گھر کی بات اچھی نہیں لگتی۔‘‘پھر آہستہ آہستہ گھر والوں سے دوری، تعلیم سے بے رغبتی، عبادت میں سستی اور بری صحبت سے وابستگی پیدا ہوسکتی ہے۔
تمام بچے ایک جیسے نہیں ہوتے لیکن خطرے کو خطرہ سمجھنا ضروری ہے۔ حقہ صرف دھواں نہیں، ایک عادت کا دروازہ بھی بن سکتا ہے ۔بعض لوگ حقے کو سگریٹ سے کم خطرناک سمجھ کر بچوں کے لئے معمولی چیز تصور کرتے ہیں۔ یہ سوچ درست نہیں۔ کم عمر بچے کے لئے تمباکو یا نکوٹین والی مصنوعات کو تفریح کا حصہ بننے دینا صحت مند تربیت نہیں۔ اصل مسئلہ صرف دھواں نہیں، بلکہ عادت، ماحول اور ذہنی رویہ ہے۔جب بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ رات گئے دوستوں کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھنا، حقہ پینا یا سگریٹ نوشی کرنا ’’تفریح‘‘ ہے، تو پھر برائی رفتہ رفتہ معمولی محسوس ہونے لگتی ہے۔
اور جب برائی معمول بن جائے تو معاشرہ اسے روکنے کے بجائے برداشت کرنا شروع کردیتا ہے۔
آج بہت سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم، لباس اور جیب خرچ کا انتظام تو کرتے ہیں، مگر ان کے اوقات، دوستوں اور سرگرمیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔ بچے کو مہنگا موبائل دے دینا، ہر فرمائش پوری کردینا اور جیب میں پیسے ڈال دینا آسان ہے لیکن اس کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا، اس کی پریشانی سننا، اس کے دوستوں کو جاننا اور اس کی روزمرہ زندگی پر نظر رکھنا اصل ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تعلیمات ِنبویؐ کی روشنی میں تدریسی و اخلاقی ذمہ داریاں
والدین کو اپنے بچوں سے محبت بھی کرنی چاہئے اور مناسب حدود بھی مقرر کرنی چاہئیں۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کو ہر آزادی دے دی جائے۔اور تربیت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کی جائے۔ ضرورت محبت، حکمت، نگرانی اور بہترین مکالمے گفتگو کی ہے۔
بچے گھر سے نہیں، بعض اوقات توجہ کی کمی سے دور ہوتے ہیں ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض بچے گھر میں ہوتے ہوئے بھی جذباتی طور پر تنہا ہوتے ہیں۔والدین کے پاس ان کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ باپ کاروبار میں مصروف، ماں گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف، اور بچہ موبائل اور دوستوں کے حوالے۔ پھر وہ جس دوست سے توجہ، ہمدردی یا قبولیت محسوس کرتا ہے، اسی کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔لہٰذا والدین اپنے بچوں سے روزانہ کچھ وقت ضرور بات کریں۔ ان سے پوچھیں:تمہارا دن کیسا گزرا؟آج کس کے ساتھ رہے؟کسی چیز نے پریشان تو نہیں کیا؟کیا تمہیں اسکول یا مدرسے میں کوئی مسئلہ ہے؟کیا تمہارے دوست تمہیں کسی غلط کام پر مجبور کرتے ہیں؟ وغیرہ، یہ چھوٹے چھوٹے سوال کبھی کبھی بڑے مسائل کو پیدا ہونے سے پہلے روک دیتے ہیں۔
ہوٹل، کیفے اور بیٹھک چلانے والے افراد بھی اپنے کاروباری کردار کے ساتھ سماجی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ اگر کسی جگہ کم عمر بچے رات گئے بیٹھے ہوں اور وہاں تمباکو نوشی یا دوسری نامناسب سرگرمیاں جاری ہوں تو اس پر خاموش رہنا معاشرتی ذمہ داری سے فرار ہے۔ کاروبار ضرور کیجئے، مگر بچوں کے مستقبل کی قیمت پر نہیں۔ چند روپے کی آمدنی کے مقابلے میں ایک بچے کی صحت، تعلیم اور کردار کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
اگر ہم بچوں کو مثبت سرگرمیاں نہیں دیں گے تو منفی سرگرمیاں خود ان تک پہنچ جائیں گی۔یاد رکھیں ۔اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہئے۔
معاشرے کو ایک اجتماعی عہد کرنا ہوگا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف ’’خراب ہونے کے بعد‘‘ نہیں سنبھالیں گے۔بلکہ خراب ماحول سے پہلے بچائیں گے۔آج اگر ہمارا بچہ رات کے اندھیرے میں کسی ہوٹل کے کونے میں بیٹھا ہے تو ہمیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ’’وہ تو دوسرے بچوں کے ساتھ گیا ہے۔‘‘ہمیں کہنا چاہئے:وہ ہمارا بچہ ہے۔اس کی کامیابی ہماری خوشی ہے، اس کی تباہی ہماری ناکامی۔آج اسے وقت دے دیا تو شاید کل وہ ہمارا فخر بنے گا۔ آج اس کے ہاتھ سے سگریٹ چھڑا کر کتاب پکڑا دی تو شاید کل وہ اپنے گھر، اپنے شہر اور اپنی قوم کے لئے چراغ بن جائے۔بچوں کو صرف مستقبل کا وارث نہ سمجھیں۔ انہیں مستقبل کا معمار بنائیں۔کیونکہ قوموں کی تباہی اچانک نہیں آتی۔وہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب ایک نسل اپنے بچوں کی بگڑتی عادات کو "بچوں کی شرارت" کہہ کر نظر انداز کرنا شروع کردیتی ہے۔
دوستوں کا انتخاب زندگی بدل سکتا ہے
اسلام نے صحبت اور رفاقت کی اہمیت پر بار بار توجہ دلائی ہے۔ قرآن کریم قیامت کے دن بری صحبت پر افسوس کا نقشہ کھینچتا ہے:’’اے کاش! میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘یہ آیت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دوست صرف وقت گزارنے والا شخص نہیں ہوتا۔ وہ انسان کی سوچ، عادت اور راستے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس لئے بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ ’’برے دوست چھوڑ دو‘‘ بلکہ انہیں اچھے دوست تلاش کرنا بھی سکھائیں۔ مسجد سے وابستہ نوجوان، تعلیمی سرگرمیاں، کھیل، مطالعہ، دینی مجالس، ہنر سیکھنے کے مواقع اور مثبت اجتماعی سرگرمیاں بچوں کو بہتر ماحول فراہم کرسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فتاوے: تقسیم پہ رضامندی کے بعد انکار، مسافر امام کی اقتداء، ایئر فون لگاکر نماز پڑھنا
مساجد کا کردار
مساجد صرف نماز پڑھنے کی جگہیں نہیں وہ معاشرتی اصلاح کے مراکز بھی ہوسکتی ہیں۔ ائمہ اور علماء کو چاہئے کہ نوجوانوں کے مسائل پر حکمت کے ساتھ گفتگو کریں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "سگریٹ حرام ہے" یا "بری صحبت چھوڑ دو"؛ نوجوانوں کو یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ وہ بری عادت کی طرف کیوں جارہے ہیں، اس سے کیسے بچ سکتے ہیں اور اپنی زندگی کا مقصد کیا بنائیں۔ مساجد میں نوجوانوں کے لئے علمی نشستیں، اخلاقی تربیت، مطالعہ اور مفید سرگرمیوں کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ نوجوان اگر مسجد سے جڑیں گے تو معاشرہ مضبوط ہوگا۔
معاشرے کی ذمہ داری
کسی بچے کی تربیت صرف گھر میں نہیں ہوتی۔ اسکول، مدرسہ، محلہ، دوست، سوشل میڈیا اور پورا معاشرتی ماحول اس کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔محلے کے ذمہ دار افراد کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ہمارے علاقے کے بچے رات گئے کہاں بیٹھتے ہیں؟ انہیں کون سی سہولتیں میسر ہیں؟ کیا ان کے لئے کھیل کا میدان ہے؟ کیا مطالعے کی جگہ ہے؟ کیا دینی و اخلاقی تربیت کا کوئی منظم انتظام ہے؟ ہوٹل مالکان کم عمر بچوں کے معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔علماء نوجوانوں سے حکمت اور محبت کے ساتھ رابطہ بڑھائیں۔ اساتذہ بچوں کے رویوں میں آنے والی تبدیلیوں پر توجہ دیں۔