Updated: September 11, 2026, 4:21 PM IST
| Mumbai
اسلام نے انسان کو ایک متوازن اور باوقار طرزِ زندگی اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال ہے تو اسے اعتدال میں خرچ کرنے کا حکم ہے ۔ مال کے تئیں نہ تو تکبر اور ریاکاری پیدا ہو اور نہ ہی ایسا بن جائے کہ زندگی کسمپرسی میں گزرے۔
نعمت دراصل اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور انسان اس کا محض امین ہے؛ اس لئے اسے اپنی بڑائی، برتری اور دوسروں کو مرعوب کرنے کا ذریعہ بنانا مناسب نہیں۔ تصویر: آئی این این
اللہ رب العزت نے اگر ہمیں مال و دولت، آسائش، عزت، صحت، اولاد، علم یا کسی بھی دوسری نعمت سے نوازا ہے تو اس کا صحیح اور شکر گزارانہ استعمال شرعی و اخلاقی اعتبار سے ضروری ہے۔ نعمت دراصل اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور انسان اس کا محض امین ہے؛ اس لئے اسے اپنی بڑائی، برتری اور دوسروں کو مرعوب کرنے کا ذریعہ بنانا مناسب نہیں۔ مال و دولت کو حلال طریقے سے کمانا، جائز ضروریات میں خرچ کرنا، اہل و عیال کی کفالت کرنا، محتاجوں کی مدد کرنا اور اللہ کی رضا کے کاموں میں استعمال کرنا نعمت کا حقیقی حق ہے۔ لیکن جب اسی مال و دولت کے اظہار میں نام و نمود، خودنمائی، فخر اور دوسروں سے برتری جتانے کی خواہش شامل ہوجائے تو یہ طرزِ عمل قرآن و حدیث اور اعلیٰ اخلاق دونوں کے اعتبار سے ناپسندیدہ ہوجاتا ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ اس کی نعمتیں اس کے کردار میں نظر آئیں، اس کے تکبر میں نہیں؛ اس کی سخاوت میں ظاہر ہوں، اس کی نمائش میں نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بحیثیت شوہر آپؐ کی حیات ِ مبارکہ میں ازواجِ مطہرات کی دلداری بھی ہے، عدل بھی اور دینی تربیت بھی
قرآن کریم نے ریا، خودنمائی اور لوگوں کو دکھانے کے لئے مال خرچ کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا (النساء:۳۶)، ’’ (اور ان لوگوں کو بھی) جو لوگ اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (النساء:۳۸) اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام خوبصورت لباس، اچھا گھر یا جائز آسائش سے منع کرتا ہے، بلکہ ممانعت اس ذہنیت کی ہے جس میں انسان نعمت کو اللہ کی عطا سمجھنے کے بجائے اپنی بڑائی کا ذریعہ بنالے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح البخاری) لہٰذا بظاہر ایک ہی عمل کسی وقت شکر اور جائز خوش حالی کا اظہار ہوسکتا ہے، اور کسی وقت ریا، فخر اور خودنمائی کا ذریعہ؛ اصل فیصلہ نیت اور اندازِ اظہار سے ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں اسلام نے انسان کو ایک متوازن اور باوقار طرزِ زندگی اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال ہے تو اسے محض دکھاوے سے بچنے کے نام پر کسمپرسی اور بے ترتیبی کی زندگی گزارنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں کہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھیں۔‘‘ (جامع الترمذی) اس حدیث کی عملی تشریح یہ ہے کہ اللہ نے کسی کو وسعت دی ہے تو وہ مناسب، پاکیزہ اور باوقار لباس پہنے، اپنے گھر اور ضروریات کا مناسب اہتمام کرے، اپنے اہل و عیال پر کشادگی سے خرچ کرے اور اللہ کی دی ہوئی نعمت کو بدحالی کا مصنوعی لباس نہ پہنائے۔ مگر اس کا مقصد دوسروں کو حقیر سمجھنا یا اپنی دولت کا چرچا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ نعمت کا اثر شکر، پاکیزگی، سخاوت اور حسنِ معاشرت میں نظر آنا چاہیے، نہ کہ تفاخر اور نمود و نمائش میں۔
یہ بھی پڑھئے: قصہ سات جواں مَردوں کا
مال و دولت، قیمتی اشیاء، ذاتی آسائشوں اور اپنی خوش حالی کی مسلسل نمائش کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ انسان نادانستہ طور پر بدباطن لوگوں کی بدنظری اور حسد کا شکار ہوسکتا ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’نظر لگنا حق ہے۔‘‘ (بخاری) اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نقصان کو فوراً نظربد قرار دے دیا جائے بلکہ اسلام نے نظرِ بد کے وجود سے آگاہ کرتے ہوئے احتیاط اور مسنون اذکار کی تعلیم دی ہے۔ اس لئے اپنی ہر نعمت، ہر کامیابی، ہر قیمتی چیز اور ہر خوش حالی کو غیر ضروری طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرنا دانش مندی نہیں۔ خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں ہر شخص کے حالات، جذبات اور نیتوں کا ہمیں علم نہیں، سادگی اور احتیاط انسان کے لئے زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ نعمت چھپانا مقصود نہیں، مگر نعمت کو تماشا بنانا بھی مومن کی شان نہیں۔
البتہ اسلام نے مال و دولت اور دوسری نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی بارہا تلقین فرمائی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا واضح ارشاد ہے: ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب سخت ہے۔‘‘ (سورۃ ابراہیم:۷ ) شکر کا مطلب صرف زبان سے’’الحمدللہ‘‘ کہنا نہیں، بلکہ نعمت دینے والے کو پہچاننا، دل سے اس کا اعتراف کرنا اور نعمت کو اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ مال ملا ہے تو اس میں محتاجوں کا حق +پہچانا جائے، صحت ملی ہے تو اسے نیکی میں استعمال کیا جائے، اولاد ملی ہے تو ان کی صالح تربیت کی جائے اور عزت ملی ہے تو اسے خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا جائے۔ شکر نعمت کو محفوظ بھی کرتا ہے اور بابرکت بھی بناتا ہے؛ جبکہ نمائش نعمت کو آزمائش میں بدل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نبی کریمؐ نے صحابہ کرامؓ کے مزاج کی اصلاح کرکے دنیائے انسانی میں انقلاب پیدا کردیا
نمائش کا ایک نہایت اہم اور دور رس نقصان یہ ہے کہ ہمارے بچے ہماری عادات کو ہم سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ اختیار کرلیتے ہیں۔ اگر وہ اپنے والدین کو ہر وقت مال و دولت، لباس، گاڑی، گھر، تقریبات اور آسائشوں کی نمائش کرتے دیکھیں گے تو ان کے ذہن میں یہ تصور جڑ پکڑ سکتا ہے کہ انسان کی قدر اس کے اخلاق، علم اور کردار سے نہیں بلکہ اس کے پاس موجود چیزوں سے ہوتی ہے۔ پھر یہی ذہنیت آگے چل کر مقابلہ بازی، احساسِ برتری، حسد، فضول خرچی، قرض لے کر دکھاوا کرنے، دوسروں کو حقیر سمجھنے اور سوشل میڈیا پر مصنوعی زندگی پیش کرنے جیسی کئی برائیوں کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ بچوں کو صرف یہ نہ سکھایا جائے کہ ’’ہمارے پاس کیا ہے‘‘ بلکہ یہ بھی سکھایا جائے کہ ’’اللہ نے ہمیں کیوں دیا ہے اور ہمیں اسے کہاں خرچ کرنا ہے۔‘‘ گھر کا ماحول اگر شکر، سادگی، سخاوت اور عاجزی کا ہوگا تو بچے بھی نعمتوں کو نمائش کے بجائے ذمہ داری سمجھیں گے۔
خلاصہ یہ ہے کہ نعمتیں تو صرف اور صرف اللہ رب العزت کی عطا کردہ ہوتی ہیں، یہ ہماری ذاتی بڑائی کا پروانہ یا اس کی سند نہیں۔ اسلام نہ تو جائز خوش حالی اور پاکیزہ زندگی سے منع کرتا ہے اور نہ اللہ کی نعمتوں کو چھپانے کا حکم دیتا ہے؛ بلکہ وہ ہمیں شکر، اعتدال، پاکیزگی، سخاوت اور عاجزی کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی نعمتوں کو اللہ کی رضا کا ذریعہ بنائیں، لوگوں پر اپنی برتری جتانے کا وسیلہ نہ بنائیں۔
نمائش کا روحانی نقصان
ابتدا میں انسان دوسروں کو دکھانے کیلئے اپنی نعمت بیان کرتا ہے، پھر اسے دوسروں سے بہتر نظر آنے کی خواہش ہونے لگتی ہے، اور رفتہ رفتہ دل میں یہ احساس پیدا ہوسکتا ہے کہ میں دوسروں سے بڑا اور برتر ہوں۔ حدیث قدسی میں ہے، اللہ رب العزت نے فرمایا: ’’تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے؛ پس جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک میں مجھ سے مقابلہ کرے گا، میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔‘‘ (مسلم) اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حقیقی کبریائی اور عظمت اللہ تعالیٰ کی شان ہے؛ انسان کا مقام عاجزی، بندگی اور شکر ہے۔ جس نعمت نے انسان کو جھکانے کے بجائے اکڑنا سکھا دیا، اس نعمت کا حق ادا نہیں ہوا۔ مومن کی اصل زینت مال نہیں، عاجزی ہے؛ اس کی اصل دولت سامان نہیں، دل کی بے نیازی اور رب سے تعلق ہے۔
نمائش کا سماجی نقصان
انسان بعض اوقات اپنے بدخواہوں کی تعداد خود بڑھانے کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔ جب کوئی شخص ہر وقت اپنی دولت، اثر و رسوخ، کامیابی، مہنگی اشیاء اور آسائشوں کا ذکر کرتا ہے یا انہیں دوسروں کے سامنے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے تو اس کے گرد حسد، احساسِ محرومی اور دل آزاری کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہر انسان کا دل یکساں مضبوط نہیں ہوتا اور ہر شخص دوسرے کی خوش حالی کو یکساں کشادہ دلی سے برداشت نہیں کرتا۔ ایک صاحبِ عقل انسان اس لئے اپنی زندگی میں غیر ضروری نمائش سے گریز کرتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نعمت کا اظہار ضروری نہیں، ہر کامیابی کا اعلان ضروری نہیں اور ہر خوشی کو منظرِ عام پر لانا ضروری نہیں۔ انسان جتنا اپنے رب کی عطاؤں کا شکر گزار اور لوگوں کے احساسات کا خیال رکھنے والا بنتا ہے، اتنا ہی اس کی نعمت باعث ِ محبت بنتی ہے؛ اور جتنا وہ نمائش اور تفاخر کا راستہ اختیار کرتا ہے، اتنا ہی دلوں میں اس کے لئے اجنبیت پیدا ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔