• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ان امور میں موازنہ نہ کریں جن میں انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں

Updated: September 18, 2026, 4:10 PM IST | Mohammad Javed Qasmi | Kanpur

کائناتِ خداوندی انتہائی سحر انگیز ،حسین اور دل کش ہے۔ اس کی خوبصورتی کا ایک بڑا راز اس میں پائے جانے والے اختلاف و تنوع میں مضمر ہے۔ کائنات  کا ہر وجود دوسرے سے کسی نہ کسی اعتبار سے  مختلف ہے، یک رنگی و یکسانیت اس کی فطرت  کے خلاف ہے۔

Differences among human beings are not limited merely to physical appearance; disparities also exist in terms of abilities and potential. Picture: INN
انسانوں کے درمیان فرق محض شکل و صورت تک محدود نہیں،بلکہ صلاحیتوں اور استعداد میں بھی تفاوت پایا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

کائناتِ خداوندی انتہائی سحر انگیز ،حسین اور دل کش ہے۔ اس کی خوبصورتی کا ایک بڑا راز اس میں پائے جانے والے اختلاف و تنوع میں مضمر ہے۔ کائنات  کا ہر وجود دوسرے سے کسی نہ کسی اعتبار سے  مختلف ہے، یک رنگی و یکسانیت اس کی فطرت  کے خلاف ہے۔ یہی صورتِ حال اس کائنات  کے اہم ترین اور اشرف وجود، یعنی انسان کی بھی ہے  جو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔ 

ہر انسان دوسرے انسان سے جسمانی ساخت ،  قد و قامت، رنگ و روپ،  طبیعت و مزاج، احساسات و جذبات، مال و دولت  اور صلاحیت و استعداد اور ذہنی ساخت کے اعتبار سے  مختلف ہے ۔ کوئی  کالا ہے، کوئی  گورا   اور کوئی سانولاہے، کوئی حسین ہے تو کسی کو  اس کے مقابلے میں کم حسن عطا ہوا ہے ۔ کسی کا  جسم   دبلا ہے تو کوئی  فربہ ہے،کوئی دراز قامت ہے تو کوئی پستہ قد۔ اسی طرح ذہنی صلاحیت میں بھی یکسانیت نہیں،  کوئی اعلیٰ ذہن رکھتا ہے ، کوئی متوسط اور کوئی نسبتاً کم ذہنی صلاحیت کا حامل ہے۔ طبیعت و مزاج   میں بھی نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے، کوئی نرم  مزاج  ہے تو کوئی  سخت طبیعت، کسی کو جلد غصہ آتا ہے تو کسی کو دیر سے۔ کسی کی پسند و ناپسند دوسروں سے مختلف ہوتی ہے اور کوئی سب کے ساتھ ہوتا ہے، کوئی آرام پسند ہے تو کوئی محنت کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بچوں کو صرف مستقبل کا وارث نہ سمجھیں انہیں مستقبل کا معمار بنانے کی جہد کریں

یہ تمام اختلافات  انسانی معاشرے کا فطری  حصہ ہیں، خالق کائنات نے اپنی حکمت اور مصلحت کے تحت ہر انسان کو ایک خاص صورت،  مزاج اور صلاحیت عطا کی ہے۔ اسی حقیقت کو   قرآن  یوں واضح کرتا ہے: ’’وہی ہے جو (ماؤں کے) رحموں میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے ۔‘‘ (سورہ آل عمران:۶)    اور’’ جس صورت میں چاہا، اس نے تجھے جوڑ کر تیار کیا ۔‘‘ (سورہ انفطار:۸)  ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا: ’’بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا ہے۔‘‘ (سورہ التین: ۴)

  انسانوں  کے درمیان فرق محض شکل و صورت تک محدود نہیں،بلکہ صلاحیتوں اور استعداد  میں بھی نمایا ں تفاوت  پایا جاتا ہے۔کسی کے اندر مؤثر خطاب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہےتو کوئی قلم کا شہسوار  ہوتا ہے ، کسی  میں قائدانہ صلاحیتیں ہوتی ہیں تو کسی کے اندر تدریسی  استعداد  اور کوئی انتظامی امور میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے، کوئی جسمانی کام  میں ممتاز ہوتا ہے تو کوئی ذہنی کام میں، کسی کو بات جلد سمجھ میں آجاتی ہے تو کسی کو سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ کوئی خلوت پسند ہوتا ہے تو کوئی لوگوں میں گھلنا ملنا  پسند کرتا ہے۔ کوئی غیر معمولی قوت حافظہ کا مالک ہوتا ہے، کسی میں تجزیاتی استعداد اور صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور کسی میں تخلیقی  صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔

اسی طرح مال و دولت کے اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ نے  انسانوں  کے درمیان تفاوت رکھا ہے، سب کی معاشی حالت یکساں نہیں، کسی کے پاس زیادہ وسائل اور دولت ہے تو کسی کے پاس کم۔ ارشادِ خداوندی ہے: ’’دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔‘‘(سورہ زخرف:۳۲)

  اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے معاشی  تفاوت ذکر کرنے کے ساتھ  اس کی ایک حکمت بھی بیان فرمائی ہے کہ انسان ایکدوسرے کے کام آسکیں ۔  اگر سب کی مالی حالت یکساں ہوتی تو باہمی تعاون اور تقسیم ِ کار کی وہ بنیاد باقی نہ رہتی جس کے ذریعے انسانی معاشرہ اپنا نظام چلاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:قصہ سات جواں مَردوں کا

معلوم ہواکہ انسانوں میں تفاوت اور اختلاف اللہ رب العالمین کی حکمت کا حصہ ہے، مختلف شکل و صورت عطا کرنا،  الگ الگ  صلاحیتوں سے نوازنا اور مال و دولت میں ایک کو دوسرے پر فوقیت  دینا ، سب امورِ الٰہی ہے۔ اسی لئے  اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں اور اگر کوئی ناکام کوشش کرتا  بھی ہے تو اسے فطرت سے بغاوت کے نتائج کا سامنا ضرور کرنا ہوگا۔ اس کی  وجہ یہ ہے کہ روزگارِ کائنات کو رواں دواں اور جاری و ساری رکھنے کیلئے دنیا میں مختلف صلاحیتوں   اور کرداروں کا  وجود نا گزیر ہے۔ اگر تمام انسان یکساں ہوجائیں تو کاروبارِ  دنیا   جمود  و تعطل  کا شکار ہوجائے گا۔

اسی تناظر میں اگر موازنہ کی نفسیات کا جائزہ لیا جائے تو ان چیزوں  میں موازنہ کرنا جس میں انسان کو کسی قسم کا اختیار نہیں دیا گیا  ہے بے سود ہوگا۔ اگر کوئی شخص اپنی شکل و صورت اور جسمانی ساخت کا  موازنہ کسی دوسرے سے کرتا ہے  اور  اپنے خد و خال  سے ہمہ وقت پریشان رہتا ہے تو یہ رویہ اس کیلئے  تباہ کن ثابت ہوسکتاہے۔ ایسی کوشش  کے نتیجے میں حسرت، یاس، ناشکری اور احساسِ کمتری پیدا ہوسکتا ہے جو انسانی سکون غارت کریگا کیونکہ یہ چیزیں انسان کی  دشمن ہیں۔ 

انسان کو چاہئے کہ ان امور میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے جن میں اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو ایک اعتبار سے فضیلت دی ہے تو کسی دوسرے کو کسی اور اعتبار سے۔ اس لئے ایسی چیزوں کی تمنا کرتے رہنا جنہیں انسان بدل نہیں سکتا، اکثر بے فائدہ حسرت اور ذہنی پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ البتہ جن چیزوں کے حصول میں انسان کو اختیار دیا گیا ہے، ان میں وہ بھرپور جدوجہد کرسکتا ہے، بلکہ اسے کرنا چاہئے۔ دوسروں کے اچھے اخلاق دیکھ کر اپنے اندر وہ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنا، کسی کو زیادہ علم والا دیکھ کر خود علم حاصل کرنے کی محنت کرنا، اور کسی کی عبادت و نیکی سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح اور ترقی کی کوشش کرنا مثبت موازنے کی مثالیں ہیں ۔مالی تفاوت کے معاملے میں بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت عطا فرمائی ہے، اس پر شکر ادا کرتے ہوئے حلال ذرائع سے مزید جدوجہد کرتے رہنا چاہئے۔ کسی دوسرے سے اپنی دولت کا موازنہ کرتے رہنا مناسب نہیں، کیونکہ ایسا موازنہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کی طرف لے جاسکتا ہے اور حسد جیسی مہلک بیماری میں مبتلا کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نعمتیں انسان کے کردار میں نظر آنی چاہئیں، اُس کےتکبر میں نہیں!

اگر کبھی انسانی فطرت کے تقاضے کے تحت دوسروں کا مال و دولت یا ظاہری حالت دیکھ کر دل میں محرومی کا احساس پیدا ہوجائے تو نبی کریمؐ نے اس کا بھی ایک مؤثر علاج بتایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:  ’’جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اسے ایسے شخص کا دھیان کرنا چاہئے جو اس سے کم درجہ کا ہے۔ ‘‘(بخاری)   اس تعلیم کا فائدہ یہ ہے کہ انسان  اپنی نعمتوں کو حقیر نہیں سمجھتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور حسد جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حقیقت سے ناواقفیت کی وجہ سے  انسان موازنہ کا شکار ہوجاتا ہے اور ان چیزوں میں بھی دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے لگتا ہے جن میں اس کا کوئی اختیار نہیں، مثلاً شکل و صورت،حسن و جمال، پیدائشی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں اور بعض معاشی حالات۔ نتیجتاً وہ ذہنی پریشانی، احساسِ کمتری اور بے اطمینانی کا شکار ہوجاتا ہے۔اس سلسلے میں بچوں کے ساتھ بھی بڑی ناانصافی کی جاتی ہے ، بعض والدین معمولی معمولی باتوں پر اپنے بچوں کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرتے ہیں جس سے بچے کے اندر احساسِ کمتری جیسا نفسیاتی عارضہ جنم لے لیتا ہے جو اس کی ذہنی، فکری اور شخصی نشوونما کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ رجحان عام ہے کہ تعلیم کے معاملے میں  بعض اوقات بچے کے فطری رجحان اور صلاحیت کو سمجھے بغیر محض  دوسروں بچوں سے موازنہ کرکے انہیں وہ سبجیکٹ  پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے جس میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ بعض مرتبہ والدین کی طرف سے ایسا دباؤ ہوتا ہے کہ بچہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے  ۔  

بہرکیف، ان امور میں موازنہ کرنا جن میں انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں، بے سود ہے اور اسے ناقدری، ناشکری، حسرت اور احساسِ کمتری میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس مثبت موازنہ جیسے علم میں آگے بڑھنا، اخلاق کو بہتر بنانا، عبادت میں سبقت کرنا، صدقہ و خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور خدمتِ خلق میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنا، نہ صرف جائز  بلکہ قابلِ تحسین  ہے۔

ایک آیت ، ایک تنبیہ
 اگر کوئی شخص اپنی فطری صلاحیتوں کا موازنہ دوسروں سے کرتا ہے  اور ایسی  استعداد حاصل کرنے کی کوشش کرے جس میں اس کا کوئی  اختیار ہی نہیں تو یہ خواہش بھی  پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔  قرآن کریم نے بھی  ایسی تمنا  کرنے سے منع کیا ہے جس میں انسان کو  اختیار حاصل نہیں ۔ دور نبویؐ  میں جب بعض صحابیات  نے یہ تمنا کی کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی جہاد میں حصہ لے کر مزید اجر حاصل کر لیتیں تو اس   پر اللہ نے وحی نازل فرماکر متنبہ فرمایا :’’اور جن چیزوں میں ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے ، ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے ، ان کو اس میں سے حصہ ملے  گا ،اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ،ان کو ان میں سے حصہ ملے گا۔اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب  جاننے والے ہیں۔‘‘ (النسا ء:۳۲) اس آیت کریمہ کا حکم صرف ان  صحابیات تک  ہی محدود نہیں بلکہ  قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے راہنمائی فراہم کرتاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK