سال رواں میں سماج کو ان عناصر سے نجات حاصل ہونا ضروری ہے جو نفرت اور تشدد کے بل پر بدامنی پھیلا کر عوام کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 04, 2026, 6:02 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
سال رواں میں سماج کو ان عناصر سے نجات حاصل ہونا ضروری ہے جو نفرت اور تشدد کے بل پر بدامنی پھیلا کر عوام کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں۔
نیا سال اپنی آ مد کے ساتھ نئی امیدوں اور آرزؤں کو اپنے ہمراہ لاتا ہے۔ جو گزر چکا وہ یاد بن کر دل و دماغ میں محفوظ ہو گیا اور جو کچھ آئندہ کے بطن میں ہے اس کے ظہور سے انسان کو فطری طور پر کچھ تلخ اور کچھ شیریں تجربات حاصل ہوں گے۔ حالات خواہ کتنے بھی نا خوشگوار ہوں انسان ان ناخوشگواریوں میں بھی امید اور حوصلہ مندی کے آثار تلاش کر ہی لیتا ہے۔ یہی انسانی فطرت اس نئے سال میں بھی انسان کو یہ حوصلہ دے گی کہ وہ مسائل کو حل اور مشکلات کو آسان بنانے کی تدبیر کر سکے۔ اگر انسانی جبلت اس وصف سے محروم ہو جائے تو پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی زندگی کے شب و روز بسر کرنا ناممکن ہو جائے۔ اس وصف ہی کی بدولت نیک خو اور صالح افکار کے حامل انسان شیطانی عناصر کے ان منصوبوں کی راہ مسدود کئے ہوئے ہیں جن کے بروئے کار آ جانے پر دنیا سے امن و آشتی کے آثار معدوم ہو جائیں۔ یہ دو عناصر عالمی سطح پر مختلف صورتوں میں اپنی انسانیت نواز تدابیر اور شیطنت اساس سازشوں کے ساتھ ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔ اس وقت دنیا کے بیشتر حصوں میں ان عناصر کے اس تصادم کو بہ آسانی دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے جس کا مقصد مد مقابل کو پسپاکرنا اور عالمی انسانی برادری سے اپنے افکار و افعال کی تائید حاصل کرنا ہے۔
سال گزشتہ جن واقعات اور حادثات کے ساتھ رخصت ہو چکا ہے ان میں سے بعض کی صدائے بازگشت اس برس بھی سنی جائے گی۔ عالمی سطح پر جو حادثہ قیام امن کی تمام تر کوششوں کے باوجود صہیونی قوت کی خوں چکاں روداد غزہ کی سرزمین پر لکھتا رہا وہ انسانی تہذیب و تمدن کے ان تمام دعوؤں کو بے حقیقت ثابت کر دیتا ہے جن دعوؤں کی بنیاد پر انسان اپنی فضیلت کا بکھان کرتا پھر رہا ہے۔ عالمی امن کی نام نہاد ٹھیکیداری کرنے والوں نے غزہ کے ان ہزاروں مظلوم بچوں کی ہلاکت پر اپنے ان مفادات کو ترجیح دی جو اُن کی فوجی قوت اور معیشت کو استحکام کر سکیں۔ ارباب اختیار کی ایسی خودغرضی نے نہ صرف دنیا کو مسائل کی آماجگاہ بنا رکھا ہے بلکہ اس کی وجہ سے قیام امن کی وہ مخلصانہ کاوشیں بھی متاثر ہوتی ہیں جن کا مقصد واقعی امن و آشتی کی سازگار فضا تعمیر کرنا اور انسانوں کیلئے زندگی کی مشکلات کو آسان بنانا ہے۔
وطن عزیز میں بھی گزشتہ برس کچھ ایسے حالات و واقعات رونما ہو ئے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غریبوں کی داد رسی کا دعویٰ کرنے والے ارباب اقتدار کو صرف ان کی فکر ہے جو ان کے منظور نظر ہیں۔ اقتدار کی قربت سے فیض اٹھانے والے یہ عناصر اپنی صنعت و تجارت کا دائرہ وسیع کرنے کی ہوس میں اس قدر مبتلا ہو چکے ہیں کہ انھیں اس کی بھی مطلق پروا نہیں کہ ان کی بعض خواہشات کی تکمیل نہ صرف ملک کے قدرتی وسائل کے اس توازن کو بگاڑ سکتی ہے جس کی وجہ سے جغرافیائی اثاثہ ہندوستان کی ثروت مندی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اقتدار کے منظور نظر کارپوریٹ گھرانوں کے مفاد کو یقینی بنانے والی پالیسیاں تیار کرنے والوں کو گزشتہ برس کے اختتامی دور میں اس عوامی مزاحمت سے دوچار ہونا پڑا جس کا مقصد اراولی کو محفوظ رکھنا ہے۔ ایسے اہم موضوع پر عوام کا متحد ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب عوام کو اپنے حقوق اور قوت کا احساس اور اس کے موثر اظہار کی تدبیر عمل میں آتی ہے تو اقتدار کو بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اگر عوام ان معاملات پر بھی اس اتحاد کا مظاہرہ کریں جو ان کی زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے متعلق ہیں تو یقینی طور پر حالات میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے، جس کا تمام ہندوستانیوں کو شدت سے انتظار ہے۔
اس سال اگر طلبہ، کسان اور مزدور کے حالات میں تبدیلی کے آثار پیدا ہو سکیں تو سماج اور ملک کو کئی سطح پر فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس سال میں بے روزگار اور مہنگائی سے عوام کو نجات حاصل ہو اورعوام کی بہتر تعلیم اور تحفظ صحت کو یقینی بنانے کی راہ ہموار ہو سکے تو ہی نیا سال حقیقی معنوں میں سود مند ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ سماج کو ان عناصر سے بھی نجات حاصل ہونا ضروری ہے جو نفرت اور تشدد کے بل پر عوام کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں۔ مختلف سطح پر نفرت کے اظہار اور ارباب اختیار کے ذریعہ اس اظہار کی بالواسطہ پشت پناہی نے ملک گیر سطح پر ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ عام آدمی ہمہ وقت عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا رہنے لگا ہے۔ عوام کے دلوں سے اس احساس کا ختم ہونا ہی حقیقی معنوں میں اس نئے سال کا ایسا بیش قیمت تحفہ ہوگا جو نہ صرف اسے بلکہ سماج اور ملک کو بھی فیض پہنچائے گا۔ اس وقت ملک جن حالات سے دوچار ہے اس کے سبب ملک کے سیکولر کردار کے تئیں عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے خدا کرے کہ نیا سال نہ صرف اس اعتماد کو بحال کرنے میں معاون ثابت ہو بلکہ اپنے ہمراہ امید کی وہ رمق بھی لائے جو جمہوریت کو مستحکم بنائے۔ یہ نیا سال پورے ملک میں امن و آشتی کی ایسی فضا تعمیر کرے جو خوشحالی اور ترقی کی راہ کو آسان بنائے جس کی بدولت عوام کو ان کا وہ جائز حق بھی مل سکے جس کے ملنے کی امید گزشتہ دس بارہ برسوں کے دوران دھندلی پڑتی جا رہی ہے۔