Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئی تعلیمی پالیسی کا مطلب غلبہ فرقہ پرستوں کا اور غلامی اونچی ذات کی

Updated: July 24, 2026, 9:49 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

آج آرایس ایس مدارس کے وجود پر واویلا مچارہی ہے حالانکہ ملک بھر میں اُس کے ہزاروں سرسوتی مندر اورششووہار جاری ہیں جہاں کھل کر ہندومت کا پرچار کیا جارہا ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں لیکن وہاں مسلمانوں کے خلاف زہر بھی اُگلا جاتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کسی زمانے میں تاریخ و جغرافیہ کے ساتھ شہریت نام کا ایک مضمون پڑھایا جاتا تھا جس میں ہر شہری کے حقوق و فرائض سے آگہی ہو جاتی تھی۔ سیاسی ماہرینِ تعلیم نے اُس مضمون کے بجائے ایک نیامضمون متعارف کیا اور اُسے نام دیا’سیاسی سائنس‘ ۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ اسکولی زندگی کے دو برس بعد طالب علم کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے اسلئے اچھا شہری کے بجائے اسے اچھا ووٹر بنایا جائے۔ ووٹر بنانے ہی کے لئے سیاسی سائنس مضمون میں سیاسی پارٹیوں کا تعارف بلکہ اُن کی الیکشن کی نشانیاں بھی شامل کی گئیں ۔ نئی نسل کو ووٹ بینک بنانے کیلئے بر سرِ اقتدار بھگوا بریگیڈ اس درجے بے چین ہے کہ ممبران پارلیمان کی تعداد بڑھانے کا بِل پاس کرانے کیلئے نصف درجن پارٹیوں کے اراکین پارلیمان بھی خرید چکی ہے۔ ان سارے معاملات کے دوررس نتائج ملک کے تعلیمی نظام پر کیا مرتّب ہوں گے اس کا ہم جائزہ لیں گے۔ 
اس ملک میں ہمیشہ ہی سے (حکومت چاہے کسی بھی پارٹی کی ہو) ہر پالیسی کی تشکیل میں سنگھ پریوار کا عمل دخل رہا ہے۔ اِس نئی تعلیمی پالیسی میں بھی اعلیٰ ذات کے افراد کی ذہنیت غالب اور واضح ہے۔ وہ ذہنیت جو صدیوں سے اِس ملک میں رائج بھی تھی اور اُسے فرنگیوں نے پروان چڑھایا۔ میکالے کے دَورمیں یہاں کے تعلیمی نظام میں کسی امتحان میں پاس ہونے کیلئے کم از کم فیصد کی بات آئی تو انگریزوں نے کہا کہ یہ ہندوستانی ’احمق‘ ہیں اسلئے برطانیہ میں امتحان میں پاس ہونے کیلئے اگر کم از کم۶۵؍ فیصد مارکس درکار ہیں تو اِن ’کم عقل‘ ہندوستانیوں کو اس کا نصف یعنی۳۲ء۵؍ فیصد کی قیدہی رکھ دو۔ جو بعدمیں ۳۳؍ فیصد اوراب۳۵؍ فیصدطے ہوئی۔ نئی تعلیمی پالیسی میں بھی یہی ہوا۔ اعلیٰ ذات کےنمائندوں کا واضح طور پر اعلان یہ تھا کہ یہ اعلیٰ تعلیم، امتحانات، مقابلہ جاتی کریئر وغیرہ صرف اعلیٰ ذات کے بچّوں کا حق ہے۔ نچلی ذات والے تو کسی امتحانی نظام کے بھی مستحق نہیں ہیں لہٰذا’ آٹھویں تک کوئی امتحان نہیں ‘ پالیسی کوعمل میں لایا گیا تا کہ نچلی ذات کے والدین وطلبہ بے فکر ہو جائیں ۔ اُن کے بچّوں کی بنیادی تعلیم انتہائی ناقص ہو، ظاہر ہے اُس پر جو عمارت تعمیر ہوگی وہ کمزورہی ہوگی۔ مسلمان اور دلت والدین اس جھانسے میں آگئے کہ اب اپنے بچّے کو پہلی جماعت میں داخل کرنا ہے اور نویں جماعت میں پہنچنے کے بعد اُس کی تعلیمی کارکردگی کی خبر گیری کیلئے اسکول جانا ہے۔ 
دلت، مسلمان اور تعلیمی طور پر پسماندہ قوموں کو سوچنا یہ چاہئے تھا کہ اس تعلیمی پالیسی کو متعارف کرانے والے اعلیٰ ذات کے افراد اِن ساری پالیسیوں سے متاثر کیوں نہیں ہوتے؟ اُن کے بچّے دل جمعی سے پڑھتے ہیں، سارے مقابلہ جاتی امتحانات میں بھرپورحصہ لیتے ہیں تو پھر یہ ساری نِت نئی پالیسیاں کس کیلئے ہیں ؟پچھڑی ذات والوں کیلئے تاکہ وہ زندگی کے کسی میدان میں اعلیٰ ذات والوں کے مقابلے میں اُترنہ سکیں ۔ 
۲۰۱۴ء میں جب سنگھ پریوار پوری اکثریت کے ساتھ اس ملک پر راج کرنے لگا تب اُن کے دانشوروں سے لے کر گلی محلّے کے مافیا تک کا یک نکاتی پروگرام رہا ہے: نصاب کو زعفرانی رنگ دینا بلکہ اس ملک کی نئی تاریخ لکھنا، نئی سے مراد سنگھ پریوار کی عینک لگا کر لکھی جانے والی تاریخ۔ اس کا تجربہ گجرات سے شروع ہوا اور اب گنجوں کو جو ناخن مل گئے تو وہ نفرت کی فیکٹری ہر ریاست اور ہر علاقے میں کھولنا چاہتے ہیں ۔ یہ زعفرانی ٹولہ بہت عجلت میں ہے، جلد از جلد اسے اس ملک کو موہن جو داڑو ہڑپّا کے دَور میں لے جانا ہے اور اُس سمت میں اس ٹولے کی ’تحقیق‘ جاری ہے۔ پردھان سیوک نے تو ایک عالمی سائنس کا نفرنس میں یہ کہہ ڈالا تھا کہ اس ملک میں سرجری کی تحقیق صدیوں پرانی ہے۔ ایک مشرقی ریاست کے وزیر اعلیٰ نے کہہ دیا کہ اس ملک میں ہزاروں سال سے سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی موجود ہے۔ بس اب یہ سب سائنس کی نصابی کتابوں میں شامل ہونا اور پڑھایا جانا باقی ہے!انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ کے حالیہ دورے میں پردھان سیوک کا ’نیا‘ میتھ میٹکس بھی باقاعدہ نصاب میں شامل ہوسکتا ہے!
اسی زعفرانی ٹولے نے اب ہر مضمون میں اپنے رنگ دکھانا شروع کئے ہیں ۔ ساتویں جماعت کی تاریخ کی درسی کتاب میں وہ بچّوں کو سکھاتے ہیں : ’جنجیرہ کے سدّی (مسلم طبقہ ) حملہ کر کے آتش زنی، لوٹ کھسوٹ اور زیادتی کرتے تھے۔ بقول سبھاسد :’’گھر میں جیسے چوہے، ملک میں ویسے سدّی‘‘( یہ اور بات ہے کہ دنیا کے معتبر مورّخین اس زعفرانی ٹولے کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں ) یا پھر جہاں چاند بی بی کے بارے میں یہ لکھا ہے: ’’۱۵۹۵ء میں مغلوں نے نظام شاہی کی راجدھانی احمد نگر پر حملہ کردیا اور چاند بی بی کے قتل کے بعد مغلوں نے احمد نگر کا قلعہ فتح کر لیا۔ ‘‘ اگر سنگھ پریوار کو اس ملک میں تاریخ کے ضمن میں حق گوئی سے کام لیتے ہوئے بھائی چارگی کا ماحول تیار کرنا ہوتا تو اس سبق کے آخر میں وہ یہ تبصرہ بھی لکھ دیتے: ’’ بچّو! را جا، بادشاہ یا کوئی بھی حکمران صرف حکمران ہوتا ہے۔ اس کی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کی ریاست کی سرحد یں وسیع سے وسیع تر ہوں اور وہ زمین کے زیادہ سے زیادہ رقبے پر قابض ہو۔ مغلوں نے بھی وہی کیا۔ نظام شاہی گرچہ مسلم حکومت تھی اور اس کی سر براہ چاند بی بی ایک مسلم خاتون مگر مغل حکمرانوں کی نگاہ میں وہ صرف ایک دشمن حکمراں تھی لہٰذا اکبر نے اپنی فوج کو احمد نگر بھیج کر چاند بی بی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ بالکل اسی طرح اور نگ زیب کی نظر میں مراٹھا شاہی اُن کی حکومت کی سرحدوں کو وسعت دینے میں ایک رکاوٹ تھی لہٰذا افغانستان سے لے کر برما تک کی حکومت کا شہنشاہ اورنگ زیب، مرہٹوں کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے ۲۷؍ سال تک دکن میں موجود رہا۔ بچّو! اور نگ زیب اور شیواجی کا یہ ٹکراؤ صرف دو حکمرانوں کا ٹکرائو تھا، ہندو مسلم کا تصادم نہیں ۔ ‘‘ہمیں معلوم ہے کہ اگر نئے مورّخ یہ لکھ دیتے ہیں تو اُنھیں اپنی نفرت کی بھٹّی کیلئے ایندھن کہاں سے ملے گا۔ 
گزشتہ۱۲؍ برسوں میں نصابی کتابوں سے فرقہ پرستی کا زہر پھیلانے کا کام سنگھ پریوار نے منظم طریقے سے شروع کر دیا ہے۔ مکمل اکثریت کے ساتھ اس ملک پر راج کرنے کا موقع ملنا گو یا گنجوں کے ہاتھ ناخن آنے جیسا ہی ہے۔ گزشتہ گیارہ برسوں میں سنگھ پریوار نے اس کا پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ آج آرایس ایس اسلامی مدارس کے وجود پر ہی واویلا مچارہی ہے البتہ ملک بھر میں اُس کے ہزاروں سرسوتی مندر اورششوو ہار جاری ہیں اور اُن میں ہندومت کے پر چار پر ہمیں اعتراض نہیں البتہ مسلمانوں کے خلاف وہاں زہراُگلا جاتا ہے۔ ان کتابوں میں ہندو مسلم حکمرانوں کی جنگوں کواس طرح پیش کیا گیا کہ اکثریتی فرقے کے لوگ اقلیتوں کے صرف دشمن بن جائیں ۔ اس ’نئی تاریخ‘ کی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس میں حقائق کو مکمل مسخ کر دیا گیا جیسے ۴۵۰؍ سال قبل اکبر اور مہارا نہ پرتاپ سنگھ کے درمیان لڑی جانے والی جنگ کے انجام کے بارے میں ہر مؤرّخ نے یہ لکھا کہ اُس میں اکبر کو فتح حاصل ہوئی تھی البتہ راجستھان میں بی جے پی حکومت نے لکھ دیا کہ جیت مہارا نہ پر تاپ کی ہوئی تھی۔ اب پورے ملک میں بھی یہی پڑھایا جائے گا۔ مہاتما گاندھی کے قتل کے الزام سے تکنیکی وجوہات پر بری ہوئے اور انگریزی حکومت سے کم و بیش سات مرتبہ تحریری معافی مانگنے والے ونا یک دامو در ساور کراب ’ویر‘ بن گئے ہیں ۔ درجنوں اداروں کے نام ان کے گرو پنڈت دین دیال اُپادھیائے اور شیاما پرساد مکھر جی سے منسوب ہو چکے ہیں ۔ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں دو دہائی تک کے دہشت گردی کے سارے حملوں کا ذکر درسی کتابوں میں کیا جانے لگا ہے البتہ ۱۸؍ فروری۲۰۰۷ء کا سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین بم دھما کہ، ۱۸؍ مئی۲۰۰۷ء کے مکّہ مسجد بم بلاسٹ اور۲۹؍ ستمبر۲۰۰۸ء کے مالیگاؤں بم دھماکے کے متعلق کوئی ذکر نہیں ۔ مرکز کے کئی وزراء مسلمانوں اور مسلم دَورِ حکومت سے متعلق زہر افشانی کر رہے ہیں اور چند روز قبل ایک مرکزی وزیر نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ آئندہ ہندستانی تاریخ میں مغل، خلجی، تغلق، ٹیپو، حیدر علی اور لودھی خاندان وغیرہ کے بارے میں کچھ نہ پڑھایا جائے!
ہمیں نصاب کے اس بھگوا کرن سے متعلق مکمل بیداری کیلئے نئے سرے سے کوششیں شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK