جنترمنتر کے احتجاج کا حاصل یہ نہیں کہ پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا بلکہ وہ بے باکی ہے جس کی کمی گزشتہ ۱۲؍ برسوں سے محسوس کی جارہی تھی، جگہ جگہ طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج نے واضح کردیا ہے کہ اداروں پر قبضہ ممکن ہے مگر لوگوں کی سوچ کو بہت دنوں تک یرغمال نہیں رکھا جاسکتا۔
چند سال قبل تک لوگوں میں حکومت کے سامنے اس طرح کھڑے ہونے کی ہمت نہیں تھی، یہ غیر معمولی تبدیلی ہے۔ تصویر: آئی این این
جنتر منتر کے احتجاج کے بعد ملک میں جمہوریت ایک نئی کروٹ لیتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ آواز بلند کرنے کی وہ بے باکی اور جرأت جو جمہوریت کی اساس ہے مگر کہیں کھو گئی تھی، ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بھی نظر آرہی ہے اور سڑکوں پر بھی۔ جنتر منتر سے نکل کر دہلی کی سڑکوں پر طلبہ اور نوجوانوں نے پولیس کی لاٹھیوں کا سامنا کرکے اس سیاسی رعب اور دبدبہ سے آزاد ہونے کا اعلان کردیا ہے ، جس نےاب تک لوگوں میں زبان نہ کھولنے کا خوف طاری کررکھاتھا۔
جو شخصیت برسوں سے رعب اور اقتدار کی علامت تھی، اسے نوجوانوں نے ایک ایسے کردار میں تبدیل کردیا جس پر ہنسا جاسکتا ہے، جس کا مذاق بنایا جاسکتا ہے اور جسے چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ یہ تبدیلی بھلے ہی معمولی معلوم ہوتی ہو لیکن اس کا نفسیاتی اثر دونوں طرف(عوام اور حزب اقتدار پر) بہت گہرا پڑتا ہے۔ جنتر منتر کے مظاہرین پر پولیس کی زیادتی کسی سیاسی حکمت عملی کے بغیر نہیں تھی۔ بظاہر طلبہ کے نوجوانوں کے خلاف بھی وہی ہتھ کنڈہ اپنایا گیا جو اس سے پہلے مظاہروں کو ناکام بنانے کیلئے اپنایا جاتا رہا۔ بادی النظر میں اس کا بنیادی مقصد حزب اقتدار کا دبدبہ عوام کے ذہنوں پر قائم رکھنا تھا۔ شاید حکومت کو یہ امید رہی ہوگی کہ نوجوانوں کا گرم خون پولیس کی ذرا سی زیادتی کو برداشت نہیں کرےگا اور کھول اٹھے گا۔ ان کا ردعمل پولیس کی کارروائی سے زیادہ شدید ہوگا اور پولیس ایکشن کو جائز ٹھہرانے کیلئے کافی ہوگا۔ اس طرح جنتر منتر کو آسانی سے خالی کرواکر مظاہرہ کی ہوا نکال دی جائےگی۔ احتجاج کے دوران اور احتجاج کے بعد بی جے پی لیڈروں کےجس طرح کے بیان آرہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کیا بعید ہے کہ مظاہرہ ختم کروانے میں کامیابی کے بعد کچھ اس طرح کی گرفتاریاں کی جاتیں جن سے بھدوڑی جیسے لیڈروں کے پھیلائے جارہے اس بیانیہ کو تقویت ملتی کہ ’’جنتر منتر پر پنکچر بنانے والوں کے بچے زیادہ تھے۔ ‘‘ اس طرح مذہبی منافرت کے ذریعہ ان لوگوں کو جو خود یا جن کے بچے اس مظاہرہ کا حصہ تھے یا جوحمایت کررہے تھے، احساس جرم میں مبتلا کردیا جاتا کہ وہ ’’سازش کا شکار‘‘ ہو کر مظاہرہ کا حصہ بن گئے تھے۔
تاہم طلبہ اور نوجوانوں نے غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرکے نہ صرف ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا بلکہ عوام کا وہ اعتماد لوٹایا جو کھوگیا تھا۔ ان میں یہ یقین بحال کیا کہ سوال پوچھنا جرم نہیں بلکہ جمہوریت کی اساس ہے۔ اس نے اُس رعب اور دبدبہ سے عوامی ذہنوں کو بڑی حدتک آزاد کیا ہے جس کی وجہ سے آوازیں خاموش تھیں۔ یوپی، بہار اور راجستھان میں جین الفا کے مظاہرے ہوں یا راجستھان میں طلبہ یونین کے الیکشن کی بحالی کیلئے تحریک، مدھیہ پردیش میں کسانوں کا مارچ ہو یا ای -۲۰؍ پیٹرول کے خلاف ٹرانسپورٹرس کی پارلیمنٹ تک مارچ کی کوشش، یا پھر جنتر منتر پر ہی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے بعد پنشن کے حوالہ سے ہونےوالا مظاہرہ یا پھرجھارکھنڈ میں پیپر لیک کے خلاف جاری تحریک۔ یہ سب خوف سے آزادی اور جمہوریت کے کروٹ لینے کی مثبت علامتیں ہیں۔
مودی سرکار پرعزم تھی کہ جس طرح نوٹ بندی کے بلنڈر کے بعد وزیراعظم کی شبیہ کے سہارے آسانی سے حالات کو سنبھال لیاگیاتھا، جی ایس ٹی -۲؍ کے نفاذ کے بعد میڈیا کی مدد سے جس طرح اپوزیشن کی آواز کو دبادیا گیاتھا، کووڈ کے دوران لاکھوں شہریوں کی پریشانیوں پر جس طرح تالی اور تھالی بجا کر جوابدہی سے بچ گئے تھے ، اسی طرح موجودہ مظاہرے کو بھی بے اثر کردیا جائے گا اور اگر بے اثر نہ ہوئے تو سی اے اے این آر سی کے خلاف مظاہروں سے جس طرح نمٹا گیا تھا، اسی طرح ان سے بھی نمٹ لیا جائےگا مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ان مظاہروں نے ملک کی جمہوریت کو جلا بخش دی۔
سیاست میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض احتجاج، تحریک یا حکومت کے کسی فیصلے کے خلاف عوامی ردعمل تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ سیاسی ماحول کی سمت بدلنے کی علامت بن جاتے ہیں۔ نوجوانوں کا احتجاج ایسا ہی واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ اس تحریک کا حاصل صرف دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نہیں ہے بلکہ وہ پریشانی اور خوف ہے جس میں اس نے ایوان اقتدار کو مبتلا کر دیا ہے۔ عالم یہ ہے کہ رعب و دبدبہ کا مظاہرہ کرنے والوں کو جوابدہی کا سامنا ہے اور وہ پارلیمنٹ میں حاضر تک نہیں ہو رہے۔ عوام اور خاص طور سے نوجوانوں میں سوال کرنے کا جو مادہ پیدا ہوا ہے، اس نے حکومت کوکس قدر پریشان کیا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ دہلی آئی آئی ٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کو یہ کہنا پڑا کہ ’’صرف سوال نہ پوچھیں، بلکہ ان کے جواب تلاش کرنے کی بھی کوشش کریں۔ ‘‘ انہوں نے بھلے ہی یہ جملہ ’’ترقی یافتہ ہندوستان‘‘ میں تعاون کے حوالے سے کہا مگر اسے جنتر منتر کے احتجاج اور اس کے بعد جمہوریت میں سوال پوچھنے کی اہمیت کے پس منظر سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہئے۔
مودی حکومت کی یہ پہلی سیاسی پسپائی نہیں ہے۔ بھلے ہی عوامی دباؤ کے نتیجے میں یہ مودی کابینہ سے پہلا استعفیٰ ہو مگر اس سے قبل کسانوں کے احتجاج کے نتیجے میں وزیراعظم کو تینوں متنازع زرعی قوانین واپس لینے پڑے تھے۔ اس مرتبہ اہم یہ ہے کہ خود وزیراعظم نریندر مودی کی اُس سیاسی شبیہ کو بٹہ لگا ہے جو دہائیوں کی محنت سے تیار کی گئی تھی اور وہ وزیر داخلہ کٹہرے میں کھڑا ہوگیا ہے جو خود کو سردار پٹیل کے بعد ملک کا دوسرا ’’مرد آہن‘‘ باور کرانے کی خواہش رکھتا ہے۔
وزیراعظم مودی کی سب سے بڑی طاقت یکے بعد دیگرے انتخابی کامیابیاں اور اقتدار پر گرفت نہیں بلکہ وہ شبیہ تھی جو انہیں مضبوط، ناقابلِ تسخیر اور عوامی جذبات کو سمجھنے والا لیڈر بنا کر پیش کرتی تھی۔ ان کے تعلق سے یہ تاثر تھا کہ اپوزیشن کیسی ہی دھماچوکڑی مچا لے، وزیراعظم عوام سے کنکٹ کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ کیسے ہی ناموافق حالات کو اپنے حق میں موڑ لینے میں ماہر ہیں ۔ ماضی میں انہوں نے ایسا کیا بھی اور شاید اسی اعتماد کے ساتھ اس بار وہ انسٹا گرام پر نوجوانوں سے جڑے مگر نوجوانوں کے ایک بڑے حصے نے ان کی اس کوشش کو عقیدت یا مرعوبیت کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے طنز ، میم اور ریل کا موضوع بنا دیا۔ یہ عوام کے نفسیات پر مودی حکومت کی پکڑ کےکمزور پڑنےکی ایک اور واضح علامت ہے۔ یہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ اداروں پر قبضہ کرکے اقتدار پر پکڑ تو مضبوط کی جا سکتی ہے مگر عوام کی سوچ کو بہت دنوں تک یرغمال بنا کرنہیں رکھا جاسکتا۔