Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیپر لیک قانون میں مجوزہ سختی بھی کارآمد ثابت نہیں ہوگی

Updated: August 10, 2026, 4:00 PM IST | Ashok Lavasa | Mumbai

عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ طرز عمل کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل میں کی جانے والی تبدیلیوں کی مخالفت بے معنی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ طرز عمل کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل میں کی جانے والی تبدیلیوں کی مخالفت بے معنی ہے۔ امتحان میں بدعنوانی پر سخت سزائیں دینے، تحقیقات اور مقدمات کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور قانون کے تحت جرائم سے نمٹنے کیلئے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے خلاف کوئی کیسے ہو سکتا ہے؟ دراصل، پوری نسل کی امیدوں کو برباد کرنے کے مجرم، قید کی سزا اور بھاری جرمانے سے بھی زیادہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ جرمانے یا جیل کی سزاؤں کی کوئی رقم اس بدعنوانی اور مایوسی کا مناسب طور پر ازالہ نہیں کر سکتی جو سماج میں غلط طریقے سے بنائے اور غلط طریقے سے چلائے گئے نظام سے جنم لیتی ہے۔ اسی طرح یہ یقین کرنا فضول ہے کہ ان تبدیلیوں سے پیپر لیک ہونے کا مسئلہ ختم ہو جائیگا۔ اسی مسئلے نے احتجاج کو جنم دیا، سرکار کو قانون کو مزید سخت کرنے پر مجبور کیا، جس کا اب تک کوئی اثر نہیں ہوا۔ 
 
 
نئے قانون کا مقصد مجرمین میں خوف پیدا کرنا ہے۔ عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ طرز عمل کی روک تھام ایکٹ۲۰۲۴ء بھی اسی مقصد کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ قانونی خلا کو پُر کرے گا۔ اس ایکٹ کے مقاصد اور وجوہات کے بیان میں کیا گیا ہے کہ ’’مرکزی حکومت اور اس کی ایجنسیوں کے ذریعہ منعقد ہونے والے عوامی امتحانات میں شامل مختلف اداروں کی طرف سے غیر منصفانہ طرز عمل یا جرائم سے نمٹنے کیلئے کوئی خاص، جامع قانون نہیں ہے لہٰذا، امتحانی نظام میں کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی کرنا اور ان کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کیلئے ایک جامع اور شفاف مرکزی اورجامع قانون لانا ضروری ہے۔ امتحانی نظام اور نوجوانوں کو یقین دلانا کہ ان کی ایماندارانہ اور مخلصانہ کوششوں کا صلہ ملے گا اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائیگا، اس بل کا مقصد ایسے افراد، منظم گروہوں ، یا اداروں کو مؤثر طریقے سے روکنا ہے جو مالیاتی یا غیر قانونی فائدے اور عوامی امتحانی نظام پر منفی اثر ڈالنے کیلئے مختلف غیر منصفانہ طریقے استعمال کرتے ہیں۔ 
بقیہ:پیپر لیک قانون میں.....
دو سال بعد ہمیں یقین دلایا جا رہا ہے کہ اس بار کی تبدیلیاں ہر مسئلے کو حل کر دیں گی۔ قانون صرف اس صورت میں خوف پیدا کرتا ہے جب اسے صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے۔ دوسری صورت میں، یہ صرف خطرے اور اس خطرے کی قیمت کو بڑھاتا ہے۔ کیا طلبہ صرف بار بار پیپر لیک ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر آئے؟ کیا اس کی وجہ تعلیمی نظام کا عدم توازن، داخلہ امتحانات کی ضرورت سے زیادہ مرکزیت اور اچھی ملازمتوں کی کمی تھی؟ یا نوجوانوں نے اپنے غصے کے اظہار کیلئے نئے طریقے تلاش کیے اور انتظامیہ اسے صحیح طریقے سے سنبھالنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے تحریک اس قدر پھیلی؟
۲۰۲۴ء کے قانون میں ذکر کردہ ’امتحانی نظام کی کمزوریوں‘ کو دور کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ امتحانی نظام کو مرکزی بنانے اور ایک بڑی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) بنانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس بڑی کوچنگ انڈسٹری کا کیا ہوگا جو لاکھوں طلبہ کو امتحانات پاس کرنے کیلئے شارٹ کورسز پیش کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، اور طلبہ بار بار ان میں داخلہ لیتے ہیں۔ اس طرح، وہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے ’سنہری موقع‘ کا پیچھا کرتے ہوئے قیمتی سال ضائع کر دیتے ہیں یا ایسے امتحانات کی تیاری جاری رکھتے ہیں جو بدعنوانی کا شکار ہوں؟ طلبہ اور والدین دونوں کیلئے رسمی تعلیمی نظام  کے غیر موثر ہونے کے بارے میں کیا خیال ہے؟
 
 
مجھے یاد ہے کہ چنڈی گڑھ کے ایک طالب علم نے تقریباً۲۵؍ سال قبل مجھے بتایا تھا کہ اس کے ۱۱؍ویں جماعت کے ریاضی کے استاد نے تعلیمی سال کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ اسکول میں صرف چند ابواب پڑھائیں گے کیونکہ زیادہ اہم، جو مسابقتی امتحانات کیلئے درکار ہیں، ان کے ٹیوشن سینٹر میں پڑھائے جائیں گے۔ ایسے ہی ایک سینٹر چلانے والے  نے چند  برسوں میں ایک پوری یونیورسٹی بنا لی۔
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اسکول کے نمبر کتنے غیر معمولی ہو کر رہ گئے۔ ۲۰۲۳ء میں، دہلی کے ایک بڑے کالج نے سی بی ایس ای کے امتحان میں ۹۰؍فیصد سے زیادہ اسکور کے ساتھ۸۰۰؍ سے زیادہ طلبہ کو شارٹ لسٹ کیا۔ یہ طلبہ بی اے انگلش (آنرز) پروگرام میں ۳۰؍ نشستوں کیلئے مقابلہ کر رہے تھے۔ مختلف نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان اور ان کو سنبھالنے والوں کی بے بسی افسوسناک ہے۔
 
 
نیٹ ۲۰۲۴ء گھوٹالے کے بعد، اسی طرح کی ایک رادھا کرشنن کمیٹی ’نیٹ یوجی‘ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی تھی۔ کمیٹی نے اکتوبر۲۰۲۴ء میں۱۰۱؍قابل عمل تجاویز پیش کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کی۔کمیٹی کی سفارشات کو قلیل مدتی اصلاحات (فیز ۔۱) اور طویل مدتی اصلاحات (فیز۔۲) میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ این ٹی اے کو’غلطی سے پاک،  ضرورت کے حساب سے  بدلنےوالی اور ایک دوسرے سے منسلک‘عمل میں تبدیل کیا جا سکے لیکن وہ بڑی حد تک  نافذ نہیں کی گئیں۔
۱۷۔۲۰۱۶ء میں اخراجات کے سیکریٹری کے طور پر، میں نے اخراجات کی مالیاتی کمیٹی کی صدارت کی تھی جس نے این ٹی اے بنانے کی تجویز پر غور کیا تھا۔ اُس وقت، میں نے اس خطرے کی نشاندہی کی تھی کہ کسی ایک ایجنسی کے اندر بڑی ناکامی پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم، محکمہ کے سیکریٹری نے ملک بھر میں میرٹ کی بنیاد پر یکساں نظام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ آج این ٹی اے موجودہ تنازع کے مرکز میں ہے، اور یہ اپنی مختصر تاریخ میں پہلی بار نہیں ہے کہ یہ تنازعات میں گھرا ہو۔
(مضمون نگار سابق الیکشن کمشنر ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK