Inquilab Logo Happiest Places to Work

دولت مشترکہ میں کامیابی کیا اولمپک کی راہ ہموار کرتی ہے یا ہمیں اور انتظار کرنا ہوگا؟

Updated: August 10, 2026, 3:47 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

کامن ویلتھ گیمز میں ہندوستان کے تمغوں کو حکومت ’’کھیلو انڈیا‘‘ مہم کی کامیابی قرار دے رہی ہے لیکن اصل سوال اور کسوٹی تو اولمپک میں کامیابی ہے، تو کیا ہم اس کیلئے تیار ہیں؟

Women athletes who won medals in the boxing event at the Commonwealth Games can be seen. Picture: INN
کامن ویلتھ گیمز میں باکسنگ کے ایونٹ میں تمغے جیتنے والی خاتون کھلاڑیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
کسی بھی ملک کے کھیلوں کے سفر میں چند تمغے صرف تمغے نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کا اشارہ ہوتے ہیں کہ ملک نے اپنے کھلاڑیوں کے لئے کس طرح کا ماحول بنایا ہے، کتنے نوجوان کھیلوں کی طرف آ رہے ہیں ، انہیں تربیت، سہولت، کوچنگ اور مالی مدد کس حد تک مل رہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اس پورے نظام سے ایسے کھلاڑی پیدا ہو رہے ہیں جو دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے یعنی اولمپکس میں مسلسل کامیابی حاصل کرسکیں۔ ہندوستان کے لئے حالیہ کامن ویلتھ گیمز کا نتیجہ اسی لئے اہم ہے۔ گلاسگو میں ۲۰۲۶ء کے کامن ویلتھ گیمز میں ہندوستان نے۳۹؍ تمغے حاصل کئے جن میں ۱۳؍ طلائی، ۱۷؍ چاندی اور ۹؍ کانسےکے تمغے شامل ہیں۔ ہندوستان تمغوں کے جدول میں چوتھے نمبر پر رہا۔ 
یہ نتیجہ بظاہر ہندوستانی کھیلوں کے لئے اچھی خبر ہے۔ حکومت بھی اسے ملک میں گزشتہ برسوں کے دوران تیار کئے گئے کھیلوں کے نظام بالخصوص ’’کھیلو انڈیا‘‘ پروگرام کی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ حکومت کے مطابق کھیلو انڈیا نے نچلی سطح سے ٹیلنٹ تلاش کرنے ، انہیں تربیت دینے، بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے اور بین الاقوامی سطح کے لئے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جولائی۲۰۲۶ء تک حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ۱۰۶۷؍ کھیلو انڈیا مراکز قائم کئے جاچکے ہیں ، ۲۶۷؍ اکیڈمیوں کو تعاون دیا جارہا ہے اور۲۷۴۵؍کھیلو انڈیا ایتھلیٹس کو کوچنگ، سامان، طبی سہولت اور مالی مدد فراہم کی جارہی ہے لیکن یہا ں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، کیا کامن ویلتھ میں زیادہ تمغے جیتنے کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان اب اولمپکس میں بھی بڑی طاقت بننے کی راہ پر ہے؟اس سوال کا جواب ’’ہاں ‘‘ بھی ہے اور ’’ابھی نہیں ‘‘ بھی۔ ’’ہاں ‘‘ اس لئے کہ کھیلوں کا کوئی بھی مضبوط نظام اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لئے برسوں تک نچلی سطح پر کھلاڑیوں کی شناخت، انہیں سہولت، کوچنگ، مقابلوں کا تجربہ، کھیلوں کی سائنس، غذائیت اور مالی تحفظ فراہم کرنا پڑتا ہے۔ کھیلو انڈیا ۲۰۱۶ءمیں ایک ایسے ہی پروگرام کے طور پر شروع ہوا تھا جس کا مقصد ایک طرف کھیلوں میں عوامی شرکت بڑھانا اور دوسری طرف اعلیٰ سطح کے کھلاڑی تیار کرنا تھا۔ بعد میں اس کے تحت کھیلوں کے مراکز، اکیڈمیاں ، نوجوان کھلاڑیوں کیلئے مقابلے اور ٹیلنٹ کی شناخت کا نظام وسیع کیا گیا۔ 
 
 
اس نظام کے اثرات کے کچھ اعداد و شمار واقعی متاثر کن ہیں۔ حکومت کے مطابق ہانگ ژو ایشین گیمز میں ہندوستانی دستے (۶۶۱؍ اتھلیٹ) کے ۱۲۴؍ کھلاڑی کھیلو انڈیا سے وابستہ تھے اور ان کھلاڑیوں نے ہندوستان کے مجموعی ۱۰۶؍ میں سے ۴۲؍ تمغے جیتنے میں حصہ لیا جن میں ۹؍ طلائی تمغے بھی شامل تھے۔ پیرس اولمپکس ۲۰۲۴ء کے۱۱۷؍ رکنی ہندوستانی دستے میں بھی ۲۸؍ کھیلو انڈیا ایتھلیٹ شامل تھے۔ 
یہ اعداد اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی اجازت نہیں دیتے کہ کھیلو انڈیا نے ہندوستانی کھیلوں کو فائدہ نہیں پہنچایا۔ فائدہ ضرور ہوا ہے لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں حکومت کے دعوے اور کھیلوں کی حقیقت کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ اولمپکس ، کامن ویلتھ گیمز سے بالکل مختلف امتحان ہے۔ کامن ویلتھ میں ہندوستان کی روایتی طاقت چند مخصوص کھیلوں میں رہی ہے۔ ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور بعض اوقات باکسنگ اور ایتھلیٹکس میں ہندوستانی کھلاڑی مسلسل تمغے جیتتے رہے ہیں۔ کامن ویلتھ میں ۲۰۱۴ءمیں ہندوستان نے ۶۴؍، ۲۰۱۸ء میں ۶۶؍ اور۲۰۲۲ء میں ۶۱؍ تمغے حاصل کئےتھے۔ لیکن کامن ویلتھ میں کامیابی کا دائرہ اولمپکس کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ گلاسگو میں بھی صرف ۱۰؍کھیل شامل تھے اور ہندوستان کی کئی روایتی میڈل امیدیں ، مثلاً ریسلنگ اور بیڈمنٹن پروگرام میں شامل ہی نہیں تھیں۔ اس لئے کامن ویلتھ کے ۳۹؍ تمغوں کو ہندوستانی کھیلوں کی مجموعی صحت کا حتمی سرٹیفکیٹ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل امتحان اولمپکس ہے۔ پیرس۲۰۲۴ء میں ہندوستان نے چھ تمغے حاصل کیے، جن میں ایک چاندی اور پانچ کانسے کے تمغے شامل تھے۔ 
 
 
یہ نتیجہ مایوس کن بھی تھا اور امید افزا بھی۔ مایوس کن اس لئے کہ ہندوستان جیسے ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ملک سے اولمپک سطح پر اس سے کہیں زیادہ توقع کی جاتی ہے۔ امید افزا اس لیے کہ چھ تمغوں کے باوجود کئی ہندوستانی کھلاڑی فائنل اور میڈل مقابلوں کے انتہائی قریب پہنچے۔ یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ ہندوستان میں صلاحیت نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ صلاحیت کو مستقل عالمی معیار میں تبدیل کرنے کا نظام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ یہاں ’’کھیلو انڈیا‘‘ کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ اگر کھیلو انڈیا صرف اسکول اور کالج کی سطح پر نوجوانوں کو کھیلوں میں لاتا ہے، مقابلے کراتا ہے اور چند باصلاحیت کھلاڑیوں کو مالی مدد دیتا ہے تو یہ کھیلوں کی بنیاد مضبوط کرنے کا ایک اچھا پروگرام ضرور ہوگا لیکن اولمپک میڈل کا نظام نہیں بنے گا۔ اولمپک چمپئن بنانے کیلئے ۱۲؍ تا ۱۴؍ سال کی عمر میں ٹیلنٹ تلاش کرنا صرف پہلا قدم ہے۔ اس کے بعد ان کھلاڑیوں کو کئی برس تک عالمی معیار کی کوچنگ، اسپورٹس سائنس، بایومکینکس، غذائیت، نفسیاتی تربیت، انجری مینجمنٹ، بین الاقوامی مقابلوں کا تجربہ اور مسلسل مالی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
بقیہ :دولت مشترکہ میں کامیابی کیا اولمپک  ......
حکومت کا ایک اور پروگرام ’’ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم‘‘ یعنی’’ ٹاپس‘‘ اسی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت منتخب کھلاڑیوں کو غیرملکی تربیت، عالمی معیار کے کوچ، خصوصی سامان، مقابلوں میں شرکت، فزیوتھراپی اور دیگر سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔  یہاں سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے، ہندوستان کے کھیلوں کے مستقبل کی امید صرف ’’کھیلو انڈیا‘‘ میں نہیں بلکہ کھیلو انڈیا، ٹاپس نیشنل سینٹرز آف ایکسی لینس، ریاستی نظام، نجی اکیڈمیوں اور کھیلوں کی سائنس کے درمیان بہتر تال میل میں ہے۔دوسری طرف ایک مسئلہ کھیلوں کے انتخاب کا بھی ہے۔ ہندوستان اکثر انہی کھیلوں میں زیادہ سرمایہ اور توجہ مرکوز کرتا ہے جن میں فوری طور پر تمغے آنے کی امید ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے کھیل جن میں اولمپکس میں بہت زیادہ میڈل دستیاب ہیں، ان میں ہندوستان کی موجودگی اب بھی محدود ہے۔ مثال کے طور پر تیراکی، جمناسٹک، سائیکلنگ اور ٹریک اینڈ فیلڈ کے کئی مقابلوں میں ہندوستان کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ اگر ہندوستان کو اولمپک میڈل ٹیبل میں نمایاں مقام حاصل کرنا ہے تو صرف ویٹ لفٹنگ، شوٹنگ، ریسلنگ، باکسنگ اور بیڈمنٹن پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ایک اور بنیادی سوال اسکول کے کھیلوں کا ہے۔
ہندوستان میں کھیل اب بھی ہر بچے کے لئے تعلیم کا لازمی اور باقاعدہ حصہ نہیں بن سکے ہیں۔ بہت سے بچوں کے لئے کھیل اور پڑھائی ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں۔ غریب خاندانوں کے لئے تو صورتحال اور بھی مشکل ہے کیونکہ کھیل کو اکثر محفوظ روزگار کے بجائے غیر یقینی مستقبل سمجھا جاتا ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنے کے  لئے صرف اسٹیڈیم بنانا کافی نہیں  بلکہ کھلاڑی کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اگر وہ کھیل میں اپنا مستقبل بنانا چاہتا ہے تو اس کے پاس تعلیم، روزگار اور سماجی تحفظ کا راستہ بھی موجود ہے۔اس سلسلے میں حکومت کا کھیلو انڈیا میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمت کے  لئے اہل بنانے کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے لیکن اس کا فائدہ ملک کے کروڑوں بچوں تک اسی وقت پہنچے گا جب کھیل واقعی ایک قابلِ احترام اور معاشی طور پر قابلِ عمل کریئر بنے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ٹاپس نے ٹوکیو  اور پیرس اولمپکس میں ہندوستان کے تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK