Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں ہالی ووڈ کی بڑھتی مقبولیت؛ یہ برانڈ ویلیو ہے یا نیا ٹرینڈ؟

Updated: August 10, 2026, 2:27 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

آج سے چند برس پہلے ہندوستانی سنیما گھروں میں ہالی ووڈ کی فلمیں صرف ایک ’’متبادل‘‘ تفریح تھیں مگر اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔

In the last few years, several Hollywood films have joined the Rs 100 crore club in the country. Picture: INN
گزشتہ چند برسوں میں ملک میں کئی ہالی ووڈ فلمیں ۱۰۰؍ کروڑ کلب میں شامل ہوئی ہیں۔ تصویر: آئی این این
آج سے چند برس پہلے ہندوستانی سنیما گھروں میں ہالی ووڈ کی فلمیں صرف ایک ’’متبادل‘‘ تفریح تھیں مگر اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ اب بعض ہالی ووڈ فلمیں محض ریلیز نہیں ہوتیں، قومی سطح کے ’’ایونٹس‘‘ بن جاتی ہیں۔ ٹکٹیں ایڈوانس میں فروخت ہوتی ہیں، آئی میکس کے شوز کئی دنوں پہلے فُل ہوجاتے ہیں، سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو جاتی ہے اور ملٹی پلیکس اپنے بہترین اسکرین انہی فلموں کیلئے مختص کر دیتے ہیں۔ 
سوال یہ نہیں کہ ہالی ووڈ بالی ووڈ پر غالب آ رہا ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آخر ہندوستانی ناظر فلم کے بجائے ایک عالمی برانڈ خریدنے پر کیوں آمادہ ہے؟
یہ تبدیلی محض ذوق کی نہیں، کاروباری حکمت عملی کی ہے۔ فلمی صنعت میں اب مقابلہ ہالی ووڈ بمقابلہ بالی ووڈ کا نہیں رہا بلکہ گلوبل انٹلیکچوئل پراپرٹی بمقابلہ مقامی اور اصل کہانی کا ہے۔ ’اسپائیڈر مین‘، ’اوڈیسی‘، ’اسٹار وارز‘، ’ایونجرز‘ یا ’ڈُون‘ جیسی فلمیں صرف کہانی اور اسکرپٹ کے بل پر کامیابی نہیں حاصل کررہی ہیں بلکہ برسوں میں بنائے گئے ایسے ’’برانڈز‘‘ پر کھڑی ہیں جن کے کروڑوں مداح دنیا بھر میں موجود ہیں۔ جب بھی ایسی کسی فلم کا اعلان ہوتا ہے تو اس کی مارکیٹنگ صفر سے شروع نہیں ہوتی، کیونکہ ناظر اس کے متعلق پہلے ہی سے کافی معلومات رکھتا ہے۔
 
 
ہندوستان میں یہی رجحان اس سال واضح طور پر نظر آیا۔ کرسٹوفر نولن کی ’’دی اوڈیسی‘‘ نے ریلیز سے پہلے ہی غیر معمولی ایڈوانس بکنگ حاصل کی، جبکہ آئی میکس شوز کی مانگ نے یہ ثابت کیا کہ ناظر صرف فلم نہیں بلکہ ایک مخصوص سنیمائی تجربے کیلئے بھی اضافی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔ امریکہ میں اس فلم کی ایڈوانس بکنگ ریلیز کے ٹھیک ایک سال پہلے شروع ہوئی اور چند منٹوں میں تمام ٹکٹ فروخت ہوگئے۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سنیما گھر اب صرف نشستیں فروخت نہیں کرتے، بلکہ تجربہ فروخت کرتے ہیں۔ آئی میکس، 4DX، ڈولبی سنیما اور دیگر پریمیم فارمیٹس عام اسکرین کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں۔ 
حالیہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق بعض بڑی فلموں کی اوپننگ ویک اینڈ کلیکشن کا تقریباً ۲۴؍ فیصد حصہ صرف پریمیم اسکرینوں سے آیا، حالانکہ ان کی تعداد مجموعی اسکرینوں سے کہیں کم ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ سنیما مالکان اور فلمسازوں کو ایک پریمیم نشست، عام نشست کے مقابلے میں زیادہ منافع دے رہی ہے۔
اسی لئے جب کسی عالمی بلاک بسٹر کی ریلیز متوقع ہو تو ملٹی پلیکس چینز اس کیلئے زیادہ شوز، بہتر اسکرینیں اور خصوصی پروموشن مختص کرتی ہیں۔ یہ فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ فی اسکرین آمدنی اور فی نشست منافع کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے سب سے بڑے نمائش کنندگان بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ صنعتی نمائندوں کے مطابق عام برسوں میں ہالی ووڈ فلمیں مجموعی باکس آفس کا تقریباً ۲۰؍ سے ۲۵؍ فیصد کا اشتراک کرتی ہیں مگر مضبوط ریلیز سیزن میں یہ حصہ ۲۵؍ سے ۲۸؍ فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ 
دوسری طرف بالی ووڈ کا حصہ عموماً ۵۵؍ سے ۶۰؍  فیصد کے درمیان رہتا ہے جبکہ باقی حصہ علاقائی سنیما کے پاس ہوتا ہے۔ فرنچائز فلمیں غیر فرنچائز فلموں کے مقابلے میں اوسطاً ۱۲؍ سے ۱۵؍ فیصد زیادہ شائقین کو سنیما گھروں تک کھینچتی ہیں۔ 

 
واضح ہو کہ یہ صرف فلموں کی نہیں، برانڈ ویلیو کی بھی کامیابی ہے۔ ڈجیٹل دور نے اس ٹرینڈ کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پہلے کسی فلم کی شہرت کو ایک سے دوسرے ملک تک پہنچنے میں وقت لگتا تھا۔ اب ایک ٹریلر چند گھنٹوں میں دنیا بھر میں کروڑوں افراد دیکھ لیتے ہیں۔ 
سوشل میڈیا، ری ایکشن ویڈیوز، فین کمیونٹیز اور عالمی مارکیٹنگ مہمات نے ریلیز کو مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی تقریب بنا دیا ہے۔ نتیجتاً ممبئی، نیویارک، لندن اور سیول کے ناظر تقریباً ایک ہی وقت میں ایک ہی فلم کے بارے میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔
اس کا ایک معاشی پہلو یہ بھی ہے کہ فلم کی کامیابی صرف ٹکٹوں کی فروخت سے نہیں ناپی جاتی۔ کھلونے، ویڈیو گیمز، اسٹریمنگ حقوق، مرچنڈائز، برانڈ پارٹنر شپس اور تھیم پارک جیسے ذرائع مل کر ایک ایسی معیشت بناتے ہیں جس میں فلم صرف ’’پہلا دروازہ‘‘ ثابت ہوتی ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ عالمی اسٹوڈیوز ایک کامیاب کردار یا کہانی کو کئی برسوں تک مختلف کاروباری شکلوں میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف ہندوستانی فلمی صنعت کیلئے اصل چیلنج ہالی ووڈ نہیں بلکہ کاروباری ماڈل ہے۔ اب بھی متعدد فلمیں صرف بڑے ستاروں کے سہارے مارکیٹ میں آتی ہیں جبکہ عالمی اسٹوڈیوز کردار، کہانی اور فرنچائز کو برانڈ میں تبدیل کرتے ہیں۔ اگر کسی کردار کے گرد ’’کائنات‘‘ (Universe) بن جائے تو ہر نئی فلم اپنے ساتھ پہلے سے موجود ناظر بھی لے کر آتی ہے۔ اس کے برعکس ہر نئی اصل فلم کو اپنی مارکیٹنگ تقریباً صفر سے شروع کرنی پڑتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK