Inquilab Logo Happiest Places to Work

سال نوکی اشاعتوں میں اخبارات نے محاسبۂ گزشتہ سال اور حالات حاضرہ کو موضوع بنایا

Updated: January 04, 2026, 5:40 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

نئے سال کی آمد کے ساتھ جہاں عوام نئے ارادوں اور امیدوں کے ساتھ آگےبڑھنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں ملک کے بڑے اخبارات بھی گزشتہ سال کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا سنجیدہ جائزہ لیتے ہیں۔

Protests were taking place across the country against BJP leader Kuldeep Singh Sengar. Photo: INN
بی جے پی لیڈرکلدیپ سنگھ سینگر کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے ہورہے تھے۔ تصویر: آئی این این

نئے سال کی آمد کے ساتھ جہاں عوام نئے ارادوں اور امیدوں کے ساتھ آگےبڑھنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں ملک کے بڑے اخبارات بھی گزشتہ سال کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا سنجیدہ جائزہ لیتے ہیں۔ اس مرتبہ ملک کے مؤقر اخبارات نے اپنی نئے سال کی اشاعتوں میں نہ صرف گزرتے وقت کا محاسبہ کیا بلکہ آنے والے دور کی سمت کا اشاریہ بھی فراہم کیا ہے۔ سال رفتہ کے اختتام پر سپریم کورٹ نے اناؤ آبروریزی کیس میں مجرم قرار پانے والے سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا کو عارضی طور پر معطل کیا۔ اس فیصلے نے ملک بھر میں نئی بحث کو جنم دیا۔ بیشتر قومی و علاقائی اخبارات نے اس اقدام کو قانون، عدلیہ اور شفاف عدالتی عمل کی جیت قرار دیا ہے۔ ہندی اخبار لوک مت سماچار نے ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس کی موجودہ کمزوریوں پر روشنی ڈالی اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 
غیر ملکی سرمایہ کاروں میں اتنی بے چینی کیوں ہے؟
لوک ستہ ( مراٹھی، یکم جنوری )
’’ہندوستان کی معاشی صورتحال ان دنوں ایک دلچسپ بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف سرکاری سطح پر یہ بلند و بانگ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ ہندوستان بہت جلد دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہا ہے تو دوسری طرف عالمی مالیاتی منڈیوں سے آنے والے اعداد و شمار کچھ الگ ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار بڑی تیزی سے ہندوستانی بانڈز اور حصص کی مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملکی معیشت واقعی اتنی مستحکم ہے تو غیر ملکی سرمایہ کاروں میں یہ بے چینی کیوں ہے؟کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا اندازہ صرف اس کی درجہ بندی سے لگانا درست نہیں ہوتا۔ معیشت صرف نمبروں کا کھیل نہیں ہے بلکہ اس کا براہ راست تعلق عام آدمی کی زندگی سے ہے۔ اگرچہ ہندوستان مجموعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہو رہا ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ فی کس آمدنی کے معاملے میں ہم اب بھی بہت سے چھوٹے ممالک سے پیچھے ہیں۔ ترقی کے بڑے بڑے دعوؤں کے درمیان عام شہری کی قوت خرید میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے معاشی خوشحالی کے تصور کو دھندلا دیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستانی بازار سے کنارہ کشی اختیار کرنا ایک خطرے کی گھنٹی ہے سرمایہ کار ہمیشہ وہاں پیسہ لگاتے ہیں جہاں انہیں استحکام اور واضح منافع نظر آئے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے حالات اور ہندوستان کی اندرونی معاشی پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے غیر ملکی مالیاتی ادارے اب یہاں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے اپنا پیسہ نکالنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بانڈز کی فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی منڈیوں کو شاید ہندوستان کے’تیزی سے ترقی‘ کرنے والے دعوؤں پر اس طرح یقین نہیں ہے جیسا کہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ‘‘
کیا کیلنڈر بدلنے سے حالات بھی بدل جاتے ہیں ؟
سامنا( مراٹھی، یکم جنوری )
’’سال ۲۰۲۵ء اختتام پزیر ہوا اور ۲۰۲۶ء کی صبح طلوع ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں نئے سال کا استقبال خوشیوں اور آتش بازی کے ذریعے کیا گیا مگر ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہے کیا صرف کیلنڈر بدلنے سے حالات بدل جاتے ہیں ؟اگر ملک کے مسائل جوں کے توں باقی رہیں جمہوری ادارے دباؤ میں ہوں اور عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ متزلزل ہو رہی ہو تو نئے سال کی آمد صرف ایک رسمی تبدیلی بن کر رہ جاتی ہے۔ گزشتہ برس کا سب سے دلخراش واقعہ پہلگام میں ہونے والادہشت گردانہ حملہ تھا جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ ۲۲اپریل کے اس سانحے میں ۲۶ افراد کی جانیں گئیں۔ اس کے جواب میں `آپریشن سندور` کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی گئی مگر حیرت انگیز طور پر اسے اچانک روکنا پڑا۔ حیرت کی بات یہ بھی رہی کہ حالات جنگ کے دہانے پر تھے، لیکن امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر خود ہی جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور مرکزی حکومت نے اس پر کوئی باضابطہ ردِعمل دینے کی زحمت بھی نہ کی۔ امریکی حکومت نے بھارتی مصنوعات پر ۵۰ فیصد ٹیریف عائد کر دیا جس سے براہ راست ہزاروں کروڑ کا نقصان ہوا۔ امریکہ میں مقیم غیر قانونی ہندوستانیوں کو ہتھکڑیاں لگا کر ملک بدر کرنا ایک شرمناک منظر تھا جس نے عالمی سطح پر ملک کی امیج پر سوالات کھڑے کیے۔ چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔ اسی دوران ایئر انڈیا کے ایک بین الاقوامی طیارے کے حادثے نے دنیا بھر کی سرخیوں میں جگہ پائی اور ہندوستان کی فضائی سلامتی پرتشویش بڑھائی۔ گزشتہ سال کی سب سے روشن جھلک نوجوان نسل کی بے خوف بیداری تھی۔ بے روزگاری، مہنگائی اور بدعنوانی کے خلاف جین زی کی آواز نے پورے خطے میں سیاسی ہوا کا رُخ بدل دیا۔ نیپال میں نوجوانوں کی قیادت میں اٹھنے والی عوامی تحریک اس بات کا ثبوت ہے کہ جب اختیار طاقت کے نشے میں اندھا ہو جائے تو عوام اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کی سیاسی قیادت اس خطے میں برپا تبدیلیوں سے کوئی سبق اخذ کرے گی؟ یا پھر لوگ نئے سال میں بھی انہی خدشات کے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے؟"
عدالت عظمیٰ نے عدالتی نظام پر بھروسہ بحال کردیا
دی فری پریس جنرل( انگریزی، ۳۱؍ دسمبر)
’’سپریم کورٹ نے ۲۰۱۷ء کے بدنام زمانہ’اناؤ زیادتی کیس‘ میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر کے انصاف کا بول بالا کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی رہائی کا جو حکم دیا تھا اس پر روک لگا کر عدالت عظمیٰ نے عوام کا عدالتی نظام پر ٹوٹتا ہوا بھروسہ بحال کر دیا ہے۔ تین رکنی بنچ کا یہ فیصلہ وقت کی ضرورت تھا کیونکہ ہائی کورٹ کا حکم اخلاقی طور پر کسی صورت درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سینگر کوئی عام ملزم نہیں جسے شک کا فائدہ دے کر چھوڑ دیا جاتا بلکہ وہ ایک ثابت شدہ مجرم ہے جسے ۱۶؍ سالہ بچی کی زندگی برباد کرنے اور اس کے والد کو قتل کروانے کے سنگین جرائم میں سزا ہو چکی ہے۔ اس کیس کی تلخ حقیقتیں روح کانپا دینے والی ہیں۔ متاثرہ لڑکی کے والد پر نہ صرف جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے بلکہ پولیس حراست میں ان پر اس قدر وحشیانہ تشدد کیا گیا کہ وہ دم توڑ گئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے قانون کی ایک باریک فنی خامی کا سہارا لے کر مجرم کو رعایت دینے کی کوشش کی۔ عدالت نے یہ منطق تسلیم کر لی کہ جرم کے وقت ایک ایم ایل اے عوامی خادم کی تعریف میں نہیں آتا تھا، اسلئے اسے کم سزا ملنی چاہئے۔ یہ دلیل عقل سے بالاتر ہے کہ ایک کانسٹیبل تو سرکاری ملازم کہلائے مگر وہ رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ جو کروڑوں کے فنڈز، اداروں پر کنٹرول اور سرکاری مراعات رکھتا ہو وہ اس تعریف سے باہر ہو۔ قانون کی روح تو یہی کہتی ہے کہ طاقتور عہدے داروں پر ذمہ داری بھی زیادہ عائد ہوتی ہے۔ اس موقع پر سی بی آئی کی کارکردگی بھی قابل ستائش ہے جس نے اس فیصلے کو چیلنج کر کے انصاف کی شمع گل ہونے سے بچائی۔ ‘‘
کانگریس کو اپنے کارکنوں کی آواز سننی ہوگی
لوک مت سماچار( ہندی، ۲۹؍ دسمبر)
’’کانگریس نے حال ہی میں اپنا ۱۴۰؍ واں یوم تاسیس منایا۔ اس موقع پر پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے کانگریس کو محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ہندوستان کی روح کی آواز قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ ملک کے کمزور اور پسماندہ طبقات کی خاطر آمریت اور ناانصافی کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ بظاہر یہ باتیں جوش و جذبے سے بھرپور ہیں لیکن کیا صرف بیانات سے پارٹی کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی اس وقت ایک عجیب و غریب تضاد اور تنظیمی بحران کا شکار ہے۔ اسے ایک دلچسپ اتفاق ہی کہیے کہ یوم تاسیس سے ٹھیک ایک دن پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر دِگ وجے سنگھ نے آر ایس ایس کی تنظیمی قوت کی تعریف کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔ ان کی حمایت میں ششی تھرور بھی کھڑے نظر آئے۔ تھرور اس سے پہلے بھی آر ایس ایس اور بی جے پی سے اپنی قربت کا اشارہ دے چکے ہیں۔ یہ اشارہ اس جانب ہے کہ پارٹی کے اندر ہی ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کر رہا ہے کہ جب تک کانگریس کا ڈھانچہ زمینی سطح پر مضبوط نہیں ہوگا، وہ بی جے پی اور سنگھ کی منظم مشینری کا مقابلہ نہیں کر پائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا محض مرکزی حکومت اور مودی مخالف نعروں سے ووٹروں کو جوڑا جا سکتا ہے؟ بہار اور مہاراشٹر کے انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ عوام اب بھی کانگریس کو ایک متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن پارٹی اس عوامی حمایت کو کسی بڑی انتخابی کامیابی میں بدلنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ اگر کانگریس واقعی ایک نئی زندگی چاہتی ہے تو اسے اپنے کارکنوں کی آواز سننی ہوگی۔ پارٹی کو سوشل میڈیا اور بیانات کی سیاست سے نکل کر گلی کوچوں میں اپنی تنظیم کو کھڑا کرنا ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK