Inquilab Logo Happiest Places to Work

روپے کے استحکام کے لیے آر بی آئی کی مضبوط مداخلت ضروری: ایس بی آئی ریسرچ

Updated: June 01, 2026, 5:01 PM IST | Mumbai

روپیہ ۸۳ء۹۶؍ کی ریکارڈ کم ترین سطح تک گرنے کے بعد، ایس بی آئی ریسرچ نے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی ملک کے مضبوط معاشی بنیادی عوامل سے مطابقت نہیں رکھتی، اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے مؤثر اور حکمتِ عملی پر مبنی مداخلت کی ضرورت ہے۔

RBI Office.Photo:INN\
آر بی آئی آفس: تصویر:آئی این این

ایس بی آئی ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی ) روپے کی تیز گراوٹ کو روکنے کے لیے زیادہ مضبوط اقدامات کرے۔ رپورٹ کے مطابق، روپے کی کمزوری ملک کے معاشی اشاریوں اور بنیادی اقتصادی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
اتوار کو جاری ہونے والی پری پالیسی رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے ابھرتے ہوئے دباؤ کے باعث آر بی آئی آئندہ مالیاتی پالیسی میں موجودہ شرحوں کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلی تین سہ ماہیوں میں صارفین کی مہنگائی (کنزیومر انفلیشن)۵؍ فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ مالی سال۲۷ء۔۲۰۲۶ء  کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو ۶ء۶؍فیصد متوقع ہے۔
تاہم، رپورٹ کی اصل تشویش روپے کی حالیہ کارکردگی ہے۔ اس میں روپے کی قدر میں کمی کی رفتار کو ’بے قابو‘ قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ۹۰؍ سے ۹۵؍ تک گرنے میں صرف ۱۵۲؍ دن لگا، جبکہ ۲۰؍ مئی کو یہ ۸۳ء۹۶؍کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا’’ مضبوط معاشی بنیادوں کے باوجود روپیہ دیگر کرنسیز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے گرا ہے۔‘‘
ایس بی آئی ریسرچ کے مطابق، ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اتنے مضبوط ہیں کہ وہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ کو کم کرنے اور روپے کو سہارا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں آر بی آئی کی مداخلت ناکافی رہی ہو سکتی ہے، اور اس کے لیے ایک جامع پالیسی ردعمل کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ادائیگیوں کے توازن (Balance of Payments) پر مبنی ایک وسیع پیکیج تجویز کیا گیا، جس میں لیکویڈیٹی اقدامات، سرمایہ کے بہاؤ کے انتظام کے آلات اور حکمتِ عملی پر مبنی مارکیٹ مداخلت شامل ہوں۔
رپورٹ نے ۲۰۱۳ء کے کرنسی بحران کے دوران آر بی آئی کے اقدامات کا حوالہ دیا، جب مرکزی بینک نے روپے کو مستحکم کرنے کے لیےمارجینل اسٹینڈنگ فیسیلٹی  (ایم ایس ایف)کی شرح میں اضافہ کیا تھا۔ اسی طرح آپریشن ٹویسٹ  جیسے اقدامات کی بھی تجویز دی گئی، جس کے تحت مختصر مدتی شرحِ سود میں اضافہ اور طویل مدتی شرحِ سود میں کمی کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ریلائنس گروپ نے ایک لاکھ سے زیادہ نئی بھرتیاں کیں

ایس بی آئی ریسرچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں روپیہ ہندوستان کی معاشی بنیادوں کے مقابلے میں کم قدر (Undervalued) رکھتا ہے اور اس کی قیمت  ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ  کے مطابق متوقع منصفانہ سطح سے نیچے جا چکی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ خام تیل کی بلند قیمتیں اور کمزور ہوتا روپیہ درآمدی مہنگائی (Imported Inflation) میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ حالیہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی گراوٹ کے باعث مئی میں درآمدی مہنگائی بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ڈیوڈ دھون کی آخری فلم ہوگی: کرن جوہر


 مزید برآں، موسمی خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق معمول سے کم مانسون  اورایل نینو   کے امکانات زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ مل کر یہ عوامل مہنگائی کے خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اگرچہ مہنگائی اب بھی آر بی آئی کی مقررہ حد کے اندر رہنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK