نام نہاد بڑے حکمرانوں کے جنگی جنون کے آگے وہ ادارے بھی بے بس نظر آ رہے ہیں جن کے قیام کا بنیادی مقصد امن عالم کو مستحکم اور پائیدار بنانا ہے۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 9:53 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
نام نہاد بڑے حکمرانوں کے جنگی جنون کے آگے وہ ادارے بھی بے بس نظر آ رہے ہیں جن کے قیام کا بنیادی مقصد امن عالم کو مستحکم اور پائیدار بنانا ہے۔
عالمی سطح پر عوام ان دنوں ایسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جو طاقت کے زعم میں مبتلا چند نام نہاد بڑے حکمرانوں کے جنگی جنون کا نتیجہ ہے۔ فی الوقت اس جنون کے آگے وہ ادارے بھی بے بس نظر آ رہے ہیں جن کے قیام کا بنیادی مقصد امن عالم کو مستحکم اور پائیدار بنانا ہے۔ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم طاقت کے جس زعم میں مبتلا ہیں وہ ان تمام عالمی قوانین اور ضابطوں سے بھی متجاوز ہو گیا ہے جن کی پاسداری کو جنگی حالات میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس جنون کا خمیازہ عالمی انسانی برادری کسی نہ کسی شکل میں بھگت رہی ہے اور جن ممالک کے عوام ابھی اس سے محفوظ ہیں وہ بھی آئندہ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ عالمی سفارت کاری کے ضابطوں کو صریح طور پر پامال کر کے امریکہ اور اسرائیل نے جس جنگ کا آغاز کیا ہے اس کا دورانیہ جتنا طویل ہوگا عوام کے مسائل میں اسی قدر اضافہ ہوگا۔ امریکہ اور اسرائیل کے بیشتر میڈیا اداروں نے بھی اس جنگ کا بیانیہ اس طرح ترتیب دیا ہے کہ اس میں عوام کو درپیش مسائل اور پریشانیوں کے بجائے جنگ کی تفصیلات کو نمایاں حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تفصیلات کو جاننے اور سننے میں وہ لوگ بھی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں جو خود جنگ زدہ حالات سے پیدا ہوئے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کا خبطی پن اور اظہار رائے کو ترجیح دینے کا ڈھنڈورا پیٹنے والے عالمی میڈیا نے جنگ کو ایسی واردات میں تبدیل کر دیا ہے جس میں جدید جنگی آلات اور ان کے استعمال سے حریف ملک کو ہونے والے نقصانات کی تفصیل تو ہوتی ہے لیکن اس کے سبب پیدا ہونے والے ان مسائل کا ذکر برائے نام ہوتا ہے جو عوام کی زندگی کواجیرن بنائے دے رہے ہیں۔ دنیا میں قیام امن کی پرزور وکالت کرنے والے امریکی صدر اور ان کی پشت پناہی میں ’عظیم تر اسرائیل‘ کے خواب کو اپنے ظالمانہ اور غاصبانہ منصوبوں سے عملی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف صہیونی اقتدار کو جنگ سے پیدا شدہ ان مسائل کی مطلق پروا نہیں ہے جن کی وجہ سے خود ان کے ملک اور دنیا کے دیگر کئی ملکوں کے عوام شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ طاقت کے اظہار کو اپنی سیاسی قد آوری کا وسیلہ سمجھنے والے ان لیڈروں نے عوام کے تئیں ایسا بے حسی والا رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ ایک طرف تو جنگ کی تباہ کاری اور ہیبت ناکی کا ذکر فخریہ انداز میں کرتے ہیں ، ساتھ ہی عوام کی سلامتی اور بہبود اور قیام امن کیلئے اپنی فکرمندی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اگر امریکی صدر کے رویہ کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں جنگ اور اس سے پیدا شدہ حالات کا بیان کرنے میں ایسی لذت کا احساس ہوتا ہے جو ان کے خبطی پن کی تسکین کا سامان فراہم کرتی ہے۔
ایک ماہ سے زیادہ مدت سے جاری جنگ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے بہت موقعوں پر عوام یا میڈیا سے خطاب کیا ہے لیکن ٹرمپ تواتر کے ساتھ میڈیا سے روبرو ہو رہے ہیں اور اپنے جنگی منصوبوں اور ایرانی عوام سے اپنی مصنوعی ہمدردی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ اپنی کابینہ اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ جنگی معاملات پرمسلسل تبادلہ ٔ خیال بھی کر رہے ہیں۔ شاید وہ یہ تاثر قائم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس جنگ کے ممکنہ نتائج پر بہت فکر مند ہیں۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ اس ظاہری فکر مندی کے درون میں ان کا شقی اور غاصبانہ ذہن مسلسل اس سازشی منصوبہ بندی میں مصروف ہے جس کا مقصد ایران کو تاراج کر کے اس کے تیل اور گیس ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔ گزشتہ دنوں ٹرمپ نے اپنے اس منصوبے کا اظہار بھی کر دیا ہے۔
امریکی صدر جنگ کے متعلق میڈیا سے گفتگو کے دوران جس طرح کی حرکات و سکنات کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ صرف زبانی طورجنگ زدہ حالات اور ان حالات سے پیدا ہونے والے مسائل کے تئیں فکر مند ہیں ورنہ سچائی یہ ہے کہ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس جنگ نے کتنے گھروں کے چراغ گل کر دئیے، کتنوں کو اپنا گھر، گاؤں، شہر چھوڑ کر در در بھٹکنے پر مجبور کر دیا، کتنے اسکولوں اور اسپتالوں کو کھنڈر میں تبدیل کردیا اور جو زندہ بچ رہے ہیں انھیں آئندہ کتنے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جنگ سے متعلق صحافیوں کے سنجیدہ سوالوں کا جواب وہ ایسے تمسخرانہ انداز میں دیتے ہیں کہ جیسے اس جنگ کی ہلاکت خیزی اور تباہ کاری ان کے لیے تفریح کاذریعہ ہے۔ پریس کانفرنس میں وہ ایسی باتیں بھی بہت فطری انداز میں کر لیتے ہیں جن کا ذکر جنگ جیسے انتہائی اہم اور حساس موضوع پر گفتگوکے دوران معیوب سمجھا جاتا ہے۔ امریکی صدر کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ انھیں جنگ سے پیدا ہونے والے عوامی مسائل کی مطلق پروا نہیں، انھیں صرف اپنے جنگی جنون کی تسکین ہی سے غرض ہے۔ عالمی سیاسی منظرنامہ پر اس معاملے میں ٹرمپ کا کوئی ثانی نہیں ہے لیکن کچھ دوسرے لیڈر ایسے ضرور ہیں جو عوام کے متعلق ایسی بے حسی کے معاملے میں ان کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایسے لیڈروں کو بھی اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے ملک کے عوام گیس اور تیل کے لیے کن پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی عاقبت نااندیش خارجہ پالیسی کے سبب ملک کو اور کن جہتوں میں مسائل کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے.