• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ایس آئی آر واقعی مودی حکومت کا ’’واٹرگیٹ‘‘ بننے کی جانب گامزن ہے؟

Updated: October 08, 2026, 6:01 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

امریکہ میں واٹر گیٹ اسکینڈل کے انکشافات نے صدر رچرڈ نکسن کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا تھا ، کیا ہندوستان میں بھی ایسا ہی ہونے جارہا ہے ، ایس آئی آر کے تعلق سے انکشافات سے محسوس تو یہی ہو رہا ہے۔

The FIR has sparked an uproar across the country, yet the Modi government remains completely unmoved. Photo: INN
ایس آئی آر کی وجہ سے ملک بھر میں ہنگامہ ہے لیکن مودی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ تصویر: آئی این این

سیاست میں بعض اسکینڈل ایسے ہوتے ہیں جو شروع میں ایک معمولی خبر، ایک چھوٹے سے سوال یا کسی دفتری فائل کے حاشیے سے جنم لیتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ وہ سوال اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں کی پوری عمارت اس سے دہل جاتی ہے۔ امریکہ میں واٹرگیٹ بھی ابتدا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر میں نقب زنی کا واقعہ تھا مگر صحافیوں کی مسلسل تفتیش، سینیٹ کی تحقیقات، عدالتی کارروائی اور وہائٹ ہاؤس سے سامنے آنے والے ٹیپس نے معاملے کو صدر رچرڈ نکسن تک پہنچا دیا۔ بالآخر نکسن نے استعفیٰ دے دیا۔آج ہندوستان میں ایس آئی آر یعنی ووٹر لسٹ  کے خصوصی جائزہ  کے گرد جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کی نوعیت یقیناً واٹرگیٹ سے مختلف ہے لیکن ایک مماثلت ضرور دلچسپ ہے۔ وہ مماثلت یہ ہے کہ حکومت کیا کہہ رہی ہے، یہ اصل سوال نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ  ہے کہ دستاویزات، ریکارڈ اور آزادانہ تحقیقات کیا بتا رہی ہیں۔ایس آئی آر کے معاملے میں سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ تنازع اب صرف سیاسی جماعتوں کے الزامات تک محدود نہیں رہا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ نے جو انکشافات کئے ہیں ان سے نہ الیکشن کمیشن  دامن بچاجاسکتا ہے اور نہ مرکزی حکومت ۔اس رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن نے ووٹر رول سافٹ ویئر کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی بنانے اور بعض معاملات میں ووٹرس کی دوبارہ شمولیت کے  لئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ وہ قانونی طریقہ کار کے مطابق کام کر رہا ہے اور کمیشن کے اندر اختلافات معمول کے ادارہ جاتی اختلافات  ہیں ، ان میں کچھ نیا نہیں ہے۔یہیں سے واٹرگیٹ والی بات پھر سامنے آتی ہے۔ وہاں بھی کہانی صرف نقب زنی کی نہیںتھی، اصل سوال یہ بن گیا تھا کہ نقب زنی کے بعد اسے چھپانے کیلئے کیا کیا گیا؟ نکسن کے معاملے  میں آخرکار وہائٹ ہاؤس کی ٹیپ ریکارڈنگز نے وہ چیز سامنے لائی جسے امریکی تاریخ میں ’’اسموکنگ گن‘‘ کہا گیا۔ سپریم کورٹ نے بھی نکسن کو ٹیپس تحقیقات کے لئے فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد سیاسی حمایت تیزی سے کم ہوئی اور ریپبلکن لیڈروں نے بھی انہیں بتادیا کہ مواخذے سے بچنے کے  لئے ان کے پاس مطلوبہ حمایت نہیں ہے۔ ایس آئی آر میں ابھی ایسی کوئی ’’اسموکنگ گن‘‘ سامنے نہیں آئی ہے لیکن اس کا کبھی بھی سامنے آنا بعید از قیاس نہیں ہے۔البتہ یہ حقیقت ہے کہ معاملہ اب عدالت، میڈیا اور خود الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات تک پہنچ چکا ہے۔ سپریم کورٹ نے گیانیش کمار کی سربراہی والے الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور ایس آئی آر سے متعلق ایک درخواست کی سماعت پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا کمیشن کے اجتماعی اختیارات کو یک طرفہ طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن کے خلاف برہمی کے بیچ سپریم کورٹ پر اُٹھنے والی انگلیاں توجہ طلب

واٹرگیٹ نے دنیا کو یہ سبق دیا تھا کہ صحافت کا کام صرف حکومت کی پریس ریلیز کو خوبصورت زبان میں شائع کرنا نہیں ہے۔ اصل صحافت وہ ہے جو پوچھےفائل کہاں ہے؟ فیصلہ کس نے کیا؟ اعتراض کس نے کیا؟ ریکارڈ میں کیا لکھا ہے؟ اور جو کچھ بتایا جارہا ہے، اس کا ثبوت کہاں ہے؟ایس آئی آر کی کہانی میں بھی یہی سوالات اہم ہوتے جارہے ہیں۔ اگر ووٹر کا نام فہرست سے غائب ہوا تو کیوں؟ اگر کسی ووٹر سے اضافی دستاویز مانگی گئی تو قانونی بنیاد کیا تھی؟ اگر الیکشن کمیشن کے دو اراکین نے اعتراض کیا تو اعتراض کیا تھا؟ فیصلہ کس اکثریت سے ہوا؟ سافٹ ویئر میں تبدیلی کس نے کی؟ اور اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے درست کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جمہوریت میں کبھی کبھی سب سے خطرناک سوال وہ نہیں ہوتا جو حکومت سے پوچھا جائے بلکہ وہ ہوتا ہے جس کا جواب حکومت کے اپنے ریکارڈس میں تلاش کیا جانے لگے۔اس معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن اب ان ووٹرس کو دوبارہ شامل کرنے کے لئے خصوصی مہم کی بات کر رہا ہے جو ایس آئی آر کے دوران فہرست سے باہر رہ گئے۔ اگر نظام پہلے ہی بے عیب تھا تو پھر ’’چھوٹے ہوئے‘‘ ووٹرز کے  لئے خصوصی مہم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر واقعی کچھ لوگ انتظامی یا تکنیکی وجوہات کی وجہ سے شامل ہونے سے رہ گئے تو سوال یہ ہے کہ ایسی غلطیوں کی تعداد، نوعیت اور ذمہ داری کا حساب کون دے گا؟ 

البتہ واٹرگیٹ کی مثال دیتے وقت ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ نکسن کے معاملے میں تحقیقات نے بالآخر وہائٹ ہاؤس کی جانب سے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے اور دیگر اقدامات کے ٹھوس شواہد سامنے رکھے، جن کے بعد سیاسی بحران اپنی آخری منزل تک پہنچا۔ ایس آئی آر کے بارے میں فی الحال ایسے حتمی شواہد موجود نہیں ہیں ۔ اپوزیشن جماعتیں اس پر سنگین الزامات لگا رہی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے عمل کو قانونی قرا ر دے رہا ہے۔ عدالتوں اور مزید آزادانہ تحقیقات کا کردار اسی لئے اہم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت (AI)، فلمسازوں اور فلم کمپنیوں کو نئے کاروباری امکانات فراہم کررہی ہے

لہٰذا اصل سوال یہ نہیںہے کہ ’’کیا ایس آئی آر واٹرگیٹ بن چکا ہے؟‘‘ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایس آئی آر سے اٹھنے والے سوالات کے جواب اتنی شفافیت سے دئیے جارہے ہیں کہ واٹرگیٹ جیسی مثال کی ضرورت ہی نہ پڑے؟واٹرگیٹ میں آخرکار مسئلہ نقب زنی سے زیادہ ’’پردہ پوشی‘‘کا  تھا۔ ایس آئی آر میں بھی اگر کہیں انتظامی غلطی ہے تو اسے تسلیم کرکے درست کرنا، اگر کہیں تکنیکی خرابی ہے تو اسے دور کرنا اور اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو دستاویزات کے ساتھ انہیں غلط ثابت کرنا ہی سب سے مؤثر جواب ہوگاکیونکہ آج کے زمانے میں فائلیں الماریوں میں بند نہیں رہتیں، ڈیٹا سرور پر بھی ہوتا ہے، عدالت میں بھی پہنچتا ہے اور صحافیوں کے لیپ ٹاپ پر بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ واٹرگیٹ کے زمانے میں ایک ’’خفیہ ذریعہ‘‘ تھا جبکہ آج ہر ووٹر کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے  جس کا وہ استعمال کرسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK