اے آئی کی رفتار صرف فلم بنانے کا طریقہ ہی نہیں بلکہ فلمی صنعت کے کاروباری ڈھانچے کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ ایسے مستقبل کا تصور کریں جہاں ہیرو، ہیروئن یا ویلن انسان نہ ہوں بلکہ اے آئی سے بنے کردار ہوں۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 9:20 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
اے آئی کی رفتار صرف فلم بنانے کا طریقہ ہی نہیں بلکہ فلمی صنعت کے کاروباری ڈھانچے کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ ایسے مستقبل کا تصور کریں جہاں ہیرو، ہیروئن یا ویلن انسان نہ ہوں بلکہ اے آئی سے بنے کردار ہوں۔
اے آئی کی رفتار صرف فلم بنانے کا طریقہ ہی نہیں بلکہ فلمی صنعت کے کاروباری ڈھانچے کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ ایسے مستقبل کا تصور کریں جہاں ہیرو، ہیروئن یا ویلن انسان نہ ہوں بلکہ اے آئی سے بنے کردار ہوں۔ یہ تبدیلی اب سائنس فکشن نہیں رہی۔ یہ تخلیقی صنعت کے دروازے پر کھڑا ایک نیا کاروباری زاویہ ہے۔
۲۰۲۵ء میں گوا میں منعقدہ ملک کے پہلے اے آئی فلم فیسٹیول میں ۱۸؍ ممالک سے ۶۸؍ فلموں کا اندراج ہوا جبکہ ۲۰۲۶ء کے ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی ’’اے آئی فلمز‘‘ کیلئے الگ گوشہ رکھا گیا۔ اے آئی اب فلمساز کے کمپیوٹر میں موجود صرف سافٹ ویئر نہیں رہ گیا ہے۔ اس کے گرد فلم فیسٹیول، ہیکاتھون، ٹولز اور نئی تخلیقی خدمات کا ایک باقاعدہ مارکیٹ تیزی سے بن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: Doc at Home، جس طرح گروسری آرڈر کرتے ہیں، طبی خدمات بھی بک کر سکتے ہیں
اے آئی سے بنائے گئے شوز کیلئےاسکرپٹ اور پرومپٹ رائٹنگ کا شعبہ بھی تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ایسے کئی اے آئی کانٹینٹ کریئٹر (متن ساز) ہیں جو اے آئی سافٹ ویئرز کی مدد سے مائیکرو ڈراما یا مختصر فلمیں بنا رہے ہیں جنہیں صارفین ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔ کیا اس سے روایتی فلمی صنعت متاثر ہوگی؟ ہاں! فی الوقت اس نقصان کا فیصد کافی کم ہےلیکن مستقبل میں یہ بڑھ سکتا ہے۔
ایک فلم بنانے کے اخراجات پر غور کریں۔ روایتی فلم میں ایک منظر کیلئے مقام، سیٹ، کیمرہ، روشنی، سفر اور عملہ درکار ہوتا ہے۔ اے آئی ان میں سے کئی چیزوں کو کم کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایک روایتی اداکار ایک وقت میں ایک شوٹنگ کر سکتا ہے مگر ڈجیٹل کردار کو مختلف زبانوں، کہانیوں اور اشتہارات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس کے چہرے، آواز، شخصیت اور استعمال کے حقوق واضح معاہدے سے محفوظ ہوں تو وہ صرف فلم کا کردار نہیں رہتا؛ وہ ایک قابلِ لائسنس اثاثہ بن جاتا ہے۔ اس کی نمایاں مثال چین ہے جہاں حکومت کمپیوٹنگ سہولت، مراعات اور صنعتی مراکز کے ذریعے اے آئی ویڈیو بنانے والوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئسکریم پارلرز: ایک Scoop کے ذریعے توجہ پانے کیلئے برانڈز لے رہے ہیں رِسک!
تصور کریں کہ ایک کمپنی نے ایسا اے آئی کردار تیار کیا جو ایک فلم میں جاسوس ہے۔ اگلے پروجیکٹ میں وہی کردار ویب سیریز کا مرکزی کردار، موبائل گیم کا اوتار، برانڈ کا سفیر اور مرچنڈائز کا چہرہ بن سکتا ہے۔ یہاں کمائی صرف ٹکٹوں سے نہیں، لائسنس، اشتہارات، گیمز، مرچنڈائز، اسٹریمنگ اور علاقائی زبانوں کے ورژن سے ہوسکتی ہے۔ یوں اے آئی فلم ایک بڑے تجارتی نظام کا دروازہ بن سکتی ہے۔ پرانی فلمیں نئے اے آئی مواد کیلئے خام مال بن سکتی ہیں۔ جس اسٹوڈیو کے پاس مقبول کرداروں اور کہانیوں کا ذخیرہ ہے، اسکے پاس مستقبل میں استعمال ہونے والی دانشورانہ ملکیت بھی ہے۔ ہندوستان میں اس تبدیلی کی دلچسپ مثال اشتہارات سے تب سامنے آئی جب راجکمار ہیرانی کی ہدایتکاری میں بجاج گروپ کے صد سالہ جشن کیلئے راجیو بجاج کا اے آئی اوتار تیار کیا گیا۔ واضح ہو کہ مستقبل میں برانڈز کسی شخصیت کو بار بار کیمرے کے سامنے بلانے کے بجائے، اُن کی اجازت سے بنائے گئے ڈجیٹل ورژن کے ذریعے متعدد مہمات چلا سکتے ہیں۔ اس نظام میں حقوق سب سے قیمتی شے بن جائیں گے۔ لیکن یہ سوال بھی اہم ہیں: کسی اداکار کے چہرے اور آواز کو کون استعمال کرسکتا ہے؟ کسی کردار کا مالک اداکار ہوگا، اسٹوڈیو یا اسے تخلیق کرنے والی کمپنی؟ مرنے والے فنکار کی ڈجیٹل شناخت کی آمدنی کس کو ملے گی؟
یہ بھی پڑھئے: ناظرین کی توجہ ’’ہتھیانے‘‘ کی ہوڑ، اِس کوشش میں جو جیتا وہی سکندر ہے!
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر ہر شخص چند گھنٹوں میں فلم یا شو بنا سکتا ہے تو مواد کاسیلاب آجائیگا۔ چین میں ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں Douyinپر ایک لاکھ ۲۳؍ ہزار سے زیادہ اے آئی شوز شروع ہوئے ہیں۔ اے آئی شوز کے درمیان وہی فلمیں اور ڈرامے جگہ بناسکیں گے جن کی کہانی اچھی ہو، اور جن میں یاد رہ جانے والے کردار اور باتیں ہوں۔ خیال رہے کہ جب مواد سستا ہوتا ہے تو شناخت مہنگی ہوجاتی ہے۔ اے آئی سنیما میں کاروباری انقلاب کیمرے کے پیچھے نہیں، حقوق کے کاغذ پر ہوگا۔ کل اسٹوڈیوز کے پاس اداکار تھے؛ آنے والے کل میں ان کے پاس ایسے کردار ہونگے جو برسوں، کئی زبانوں اور متعدد پلیٹ فارمز پر کمائی کرتے ہونگے۔ پھر سنیما کا اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ اے آئی فلم بنا سکتی ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہوگا کہ اس کردار کی قیمت کون طے کرے گا، ملکیت کس کے پاس ہوگی اور اس ایک چہرے سے کتنی بار کاروبار کیا جاسکے گا۔