معمر افراد کا احترام مستحسن عمل ہے لیکن وہ شخص اس تصور میں فٹ نہیں بیٹھتا جس نے اپنے سیاسی تصورات و تعصبات کی بنا پر کروڑوں کا قافیہ تنگ کر رکھاہو۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 5:43 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
معمر افراد کا احترام مستحسن عمل ہے لیکن وہ شخص اس تصور میں فٹ نہیں بیٹھتا جس نے اپنے سیاسی تصورات و تعصبات کی بنا پر کروڑوں کا قافیہ تنگ کر رکھاہو۔
۲۰۱۴ء کے بعد ہونے والے ریاستی اور مرکزی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ہونے والے حالیہ احتجاج کی مخالفت نیز اقتدار کا دفاع کرنے والے گروہ نے عجیب و غریب قسم کی منطق کے ذریعہ اقتدار کو بے داغ ثابت کرنے کی غیر منطقی کوشش کی۔ اقتدار پر ستوں کی یہ لاف زنی ثابت کرتی ہے کہ اس گروہ کو اقتدار و عوام کے باہمی روابط سے وابستہ ان آئینی ضابطوں کا مطلق علم نہیں ہے جن کی رو سے گاؤں ، شہر، ضلع، ریاست اور مرکز میں مختلف سطحوں پر ہونے والے انتخابی عمل میں شفافیت اور دیانت داری کو یقینی بنانا اقتدار کی اولین ذمہ داری ہے۔ چیف الیکشن کمیشن کا قیام دراصل اس ذمہ داری کو منظم اور بہتر طریقہ سے انجام دینے کی غرض سے ہی کیاگیا ہے اور جب تک یہ ادارہ اقتدار کی مرضی کا پابند نہیں ہوا تھا تب تک بعض استثنائی معاملات کے علاوہ اس ادارے نے یہ ذمہ داری بخوبی انجام بھی دی۔
یہ بھی پڑھئے: عام شہریوں پر بڑھتا قرض ایک سنگین مسئلہ، ترقی کے حقیقی پیمانوں پر غور کی ضرورت
لیکن اب صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور جمہوری اقدار کے تحفظ و استحکام میں کلیدی کردار ادا کرنے والے انتخابی عمل سے وابستہ ضابطوں کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ اس کا فائدہ لا محالہ موجودہ اقتدار ہی کو حاصل ہوگا۔ اپنے ہم منصب دو افسران کو نظر انداز کر کے کمیشن کے تمام امور کو اپنی ذات تک محدود کرنے اور انتخابی عمل سے وابستہ آئینی ضابطوں کو صریح طور پر نظرانداز کر کے برسر اقتدار پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچانے پرجب چیف الیکشن کمشنر کو ہدف تنقید بنایا گیا تو انھوں نے اس سلسلے میں ایک لفظ بھی بولنے کی زحمت نہیں کی۔ اس کے برعکس ہوا یہ کہ سی ای سی کے دفاع میں اقتدار کے وہ سبھی کارندے میدان میں کود پڑے جو گزشتہ ایک دہائی سے اقتدار اعلیٰ کی مرضی پر سر تسلیم خم کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں جو بنیادی سوال ہے اس کا جواب اب تک نہیں ملا کہ جب معاملہ سی ای سی کا ہے تو ارباب اقتدار انتخابی عمل میں دھاندلیوں پر اس قدر سیخ پا کیوں ہو رہے ہیں اور مظاہرین و غیر جانب دار صحافیوں پر ایسی تہمتیں و الزام لگا رہے ہیں جن کا کوئی منطقی جواز نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اقتدار، سی ای سی کی کارکردگی کی پذیرائی کے طور پر اپنی آئینی حدود سے تجاوز کر کے مظاہرین کے مد مقابل آگیا ہے۔ ایسی صورت میں مظاہرین کا غصہ فطری طور پر ارباب اقتدارکے متعلق ظاہر ہوگا اور اگر اس اظہار میں اقتدار اعلیٰ کی جانب بھی انگلی اٹھ رہی ہے تو یہ کچھ غیر فطری بات نہیں ہے کیوں کہ سی ای سی کے دفاع میں منہمک سیاسی کارندے، مظاہرین کو نچلا بٹھانے پر کمر بستہ انتظامیہ و پولیس اور اقتدار کی خیر خواہی کرنے والے عدلیہ سے وابستہ اراکین، سب کی ڈور اقتدار اعلیٰ کے ہاتھوں میں ہے۔ اقتدار اعلیٰ نے اپنی حکمرانی کو پائیدار بنانے کی خاطر جو منفرد سیاسی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے اس میں عوام کے معیار زندگی سے وابستہ بنیادی معاملات کے بجائے ان مباحث کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جن کا تعلق ایک خاص مذہبی نظریہ کی تبلیغ سے ہے۔ اس سیاسی عیاری نے عوام کا ایک ایسا طبقہ تیار کردیا ہے جو ہمہ وقت دھرم کی افیون کے نشے میں مست رہتا ہے اور اسے تعلیم، صحت، روزگار کے علاوہ اپنے حق جمہور کے حذف ہو جانے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس طبقے نے ہر معاملے میں اقتدار اعلیٰ کا دفاع کرنا خود پر لازمی ٹھہرا لیا ہے۔ نیٹ پیپر لیک اور انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اقتدار اعلیٰ پر ہونے والی تنقید کا دفاع کرنے کی غرض سے یہ طبقہ یہ جواز پیش کر رہا ہے کہ چونکہ وہ سن رسیدہ شخص ہیں لہٰذا ان کی ضعیف العمری کو مد نظر رکھتے ہوئے ان پرطعن و تشنیع نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: جو حکومتیں اپنی قانونی حیثیت پر یقین رکھتی ہیں وہ شہریوں کے اجتماع سے نہیں ڈرتیں
عوامی زندگی سے وابستہ مسائل اور جمہوری اقدار کو پائیدار بنانے کی غرض سے قائم ہونے والے آئینی اداروں میں بدعنوانیوں کیلئے ذمہ داراراکین کی جوابدہی طے کرنے کے بجائے سن و سال کی بنیاد پر ان کا دفاع کرنے والی منفرد تھیور ی اسی ملک میں پیدا ہو سکتی ہے جس ملک کے عوام شخصیت پرستی کے نشہ میں اس حد تک مدہوش ہو چکے ہوں کہ انھیں اپنے آئینی حقوق و فرائض کی کوئی خبر نہ ہو اور نہ انھیں یہ احساس ہو کہ اقتدار کس طرح بنام اصلاحات ان کے آئینی حقوق کو محدود و مسدود کر رہا ہے۔ انسانی اخلاقیات کی رو سے ضعیف العمر افراد کا ادب و احترام عمل مستحسن ہے لیکن وہ ضعیف العمر شخص اس تصور میں فٹ نہیں بیٹھتا جس نے اپنے محدود سیاسی تصورات و تحفظات اور مذہبی تعصبات کی بنا پر کروڑوں کا قافیہ تنگ کر رکھاہو۔ اس سن رسیدہ شخص کے کئی غلط فیصلوں میں نوٹ بندی اور کورونا کے دوران غیرمنصوبہ بند طریقہ سے لاک ڈاؤن کا نفاد دو ایسے فیصلے رہے ہیں جن کے سبب ملک کی سماجی زندگی کا نہ صرف رخ تبدیل ہوا بلکہ معاشی سطح پر غریب و متوسط طبقہ کی کمر ایسی خم ہوئی کہ آج تک سیدھی نہ ہو سکی اور مستقبل قریب میں بھی اس کا امکان کم ہے۔ ان ناقص فیصلوں کے تناظر میں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بینک کی لائنوں میں لگنے والے اور کورونا کے دوران ناقص طبی سہولیات کے سبب کئی سن رسیدہ افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ملک و معاشرہ کو ایسے سنگین حالات میں مبتلا کر دینے اور عوامی زندگی سے وابستہ شعبوں میں بدعنوانی اور مذہبی منافرت کے پروان چڑھنے کی سیاسی راہ ہموار کرنے والے حکمراں کو اس کی آئینی جوابدہی سے صرف اس بنا پر مبرا نہیں قرار دیا جا سکتا کہ وہ ایک ضعیف العمر شخص ہے۔