• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’بھارت رتن‘ کے اعلانات انتخابی ’ریلیف پیکیج‘ کی طرح لگ رہے ہیں

Updated: February 11, 2024, 4:17 PM IST | Sudeep Thakur | Mumbai

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ پر سابق وزیر اعظم چرن سنگھ اور پی وی نرسمہا راؤ کے ساتھ ساتھ زرعی سائنسداں ایم ایس سوامی ناتھن کو ’بھارت رتن‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔

Karpuri Thakur and Chaudhary Charan Singh. Photo: INN
کرپوری ٹھاکراور چودھری چرن سنگھ۔ تصویر : آئی این این

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ پر سابق وزیر اعظم چرن سنگھ اور پی وی نرسمہا راؤ کے ساتھ ساتھ زرعی سائنسداں ایم ایس سوامی ناتھن کو ’بھارت رتن‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان سے کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن یہ سوال ضرور اُٹھتا ہے کہ اس اعلان کیلئے اِس وقت کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ یہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ’بھارت رتن‘ کی تیسری قسط ہے۔ ان تینوں شخصیات سے پہلے سوشلسٹ مفکر اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ ایودھیا اور رام مندر تحریک کو بی جے پی کیلئے اقتدار کی سیڑھی بنانے والے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کو بھارت رتن سے نوازا جائے گا۔ 
 آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ان اعلانات کا کیا مطلب ہے، یہ سمجھنے کیلئے کسی سیاسی سائنس کے پروفیسر یا سیاسی تجزیہ کار کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سب کچھ سامنے ہے، اس کے باوجود یہ سوال تو کیا ہی جارہا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور مرکز میں دس سال سے حکومت کرنے والی بی جے پی اتنی عجلت میں کیوں ہیں ؟اب جبکہ عام انتخابات میں سو دن بھی باقی نہیں رہ گئے تو بھارت رتن کیوں لٹائے جا رہے ہیں ؟ کچھ دنوں قبل وزیر اعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ اس لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی تنہا۳۷۰؍ اور این ڈی اے۴۰۰؍ سے زیادہ سیٹیں جیت کر ایک مثال قائم کرے گی۔ ایسے میں ایک سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ جو حکومت اور حکمراں جماعت، اپنی کامیابی کیلئے اس طرح سے پُراعتماد نظر آتی ہو، اس نے مختلف سیاسی جماعتوں اور نظریات سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو بھارت رتن دینے کے بارے میں اتنی عجلت کیوں دکھا رہی ہے؟اس میں کسی کوکوئی شک نہیں ہے کہ ۲۰۱۴ء سے بی جے پی کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ’آر ایس ایس‘ کیلئے ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اس کے ٹھیک ایک سال بعد، یعنی۲۰۲۵ء میں وہ اپنی صد سالہ یوم تاسیس منائے گا۔ اس دوران ہونے والی تقاریب کو سرکاری طور پر منعقد کئے گئے’ ایودھیا ایونٹ‘کے کسی بھی طور پر کم نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ 
 یہ اس نئے بیانیے کی اگلی کڑی ہے، جس کی بنیاد مئی۲۰۱۴ء میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی جیت کے ساتھ رکھی گئی تھی۔ اسے ہماری اجتماعی یادداشت سے۱۵؍ اگست۱۹۴۷ء کی قومی تحریک کو مٹانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، جس پر ہندوستان کا سیکولر اور تکثیری نظریہ قائم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری اجتماعی بحث سے سیکولرازم کا لفظ کہاں چلا گیا، اس پر ایک بڑے طبقے کو فکر نہیں ہے؟ اسی طرح اس بات کی فکر نہیں کی جارہی ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوتوا کی بنیاد پر جس ہندوستان کا تصور کرتے ہیں، اس میں ۱۸؍ سے ۲۰؍ فیصد اقلیتوں کی جگہ کہاں ہے؟
 آپ پوچھ سکتے ہیں کہ بھارت رتن کا ان سوالات سے کیا تعلق ہے؟ جی ہاں ! ان کا تعلق ہے۔ یہ جاننا کافی ہوگا کہ جن تین شخصیات کو آج بھارت رتن سے نوازنے کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں چرن سنگھ بھی شامل ہیں، جنہوں نے جنتا پارٹی کی تشکیل کے دوران آر ایس ایس کے کردار پر تیکھے سوالات اٹھائے تھے۔ بات ۸؍ جولائی۱۹۷۶ء کی ہے۔ جے پی نارائن کی قیادت میں چار اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں چرن سنگھ نے کہا تھا کہ وہ صاف طور پر مانتے ہیں کہ آر ایس ایس کا کوئی کارکن نئی پارٹی کا رکن نہیں بن سکتا، نہ ہی اِس نئی پارٹی کا کوئی رکن آر ایس ایس سے وابستہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دُہری رکنیت کا معاملہ ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نئی پارٹی میں رازداری اور فریب کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ہندوستانی سیاست کا ایک کھلا سچ ہے کہ مرارجی دیسائی کی قیادت میں جنتا پارٹی کی حکومت کے زوال کی سب سے بڑی وجہ دہری رکنیت کا یہی مسئلہ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس حکومت کے گرنے کے بعد چرن سنگھ کانگریس کی حمایت سے وزیر اعظم بنے لیکن صرف ۲۳؍ دن بعد کانگریس نے ان سے حمایت واپس لے لی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس مسئلے پر کانگریس کے اندر کبھی کوئی بحث ہوتی بھی ہے یا نہیں کہ کانگریس نے اتحادی سیاست میں اُسی وقت اپنی ساکھ کھو دی تھی۔ 
 خیر!ہم اس مضمون کے بنیادی سوال کی طرف آتے ہیں کہ بھارت رتن کا اعلان قسطوں میں کیوں کیا جا رہا ہے؟ یہ اعلانات انتخابی ریلیف پیکیج کی طرح لگتے ہیں۔ کچھ اسی سے ملتا جلتا بجلی کے بلب کا اشتہار آیا کرتا تھا کہ ’’ پورے گھر کو بدل دے گا۔ ‘‘
 اس پر بھی غور کیا جانا چاہئےکہ بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوتوا کے اپنے بنیادی موضوع پر ایک ایک کر کے آگے بڑھ رہے ہیں اور ساتھ ہی وہ ان شخصیات کو بھی جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جن سے ان کی کبھی نظریاتی مماثلت نہیں تھی۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء سے جڑی ہماری یادیں اس قومی تحریک کی یادیں ہیں، جس سے گاندھی، نہرو، پٹیل، سبھاش چندر بوس اور بی آر امبیڈکر جیسی کئی شخصیات وابستہ ہیں ... اور اسی کے ساتھ وہ معاملہ کانگریس سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آج وہ کانگریس نہیں ہے، لیکن کیا کوئی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ آزادی کی تحریک کا محور و مرکز کانگریس ہی تھی۔ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ اس محور کو بدلنے کی ایک کوشش سی لگ رہی ہے۔ اس کا مطلب پارلیمنٹ میں کانگریس کی موجودگی سے زیادہ ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب ’کانگریس مکت بھارت‘ کا نعرہ دیا گیا تھا تو صرف کانگریس پارٹی ہی نہیں تھی بلکہ اس سے جڑی اس کی یادیں بھی تھیں ... لیکن اب بی جے پی اپنا دائرہ بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔ 
 دوسری جانب ادیشہ سے بیجو پٹنائک کو بھی بھارت رتن دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ انہیں بھی نواز دیا جائے۔ اس سلسلے میں میرا تجسس یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم مودی اب مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ اور بائیں بازو کے سینئر لیڈر جیوتی باسو کو بھی بھارت رتن دینے کا اعلان کریں گے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK