حالیہ خلیجی جنگ میں اے آئی کا استعمال بالکل واضح دکھائی دیا اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے کہ وہ ڈیٹا، الگورتھم اور مصنوعی ذہانت سے یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں سارے اہداف اے آئی کی مدد ہی سے حاصل کئے گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 9:55 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai
حالیہ خلیجی جنگ میں اے آئی کا استعمال بالکل واضح دکھائی دیا اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے کہ وہ ڈیٹا، الگورتھم اور مصنوعی ذہانت سے یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں سارے اہداف اے آئی کی مدد ہی سے حاصل کئے گئے ہیں۔
کیا یہ کوئی مذہبی جنگ ہے ؟
اسرائیل ساری دُنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ یہ اُس کیلئے ایک مذہبی جنگ ہے۔ اس ضمن میں وہ یہودی جو اَپنے مذہب سے میلوں دُور ہیں اورخدا میں یقین بھی نہیں رکھتے، وہ بھی ہفتے میں ۴؍مرتبہ یہ دعا کرتے ہیں کہ بیت المقدس پھر ان کے ہاتھ آجائے وہ ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کرسکیں۔ اس طرح فلسطین کو ہی اپنا وطن سمجھتے ہیں جبکہ دو ہزار سال کی تاریخ میں کبھی وہاں یہودیوں کی آبادی ۵؍ فیصد بھی نہیں رہی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد امن قائم کرنے کیلئے لیگ آف نیشنز کاقیام ہوا مگر برطانیہ نے اُسی تنظیم کی مددسے شدت پسند یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنا شروع کیا جو اس عقیدے پر عمل پیرا ہیں کہ’’ اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں ‘‘ یعنی آج وہ سارے عرب ممالک کو اپنی حدود میں شامل کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ دنیا بھر کے ارب پتی اور کھرب پتی یہودیوں نے اپنے منصوبے پر عمل شروع کیا، اپنی دولت اورٹیکنالوجی کی طاقت سے امریکہ سمیت ساری عالمی طاقتوں کو اپنا ہمنوا بنادیا۔
آج خلیج کے تنازع کو اسرائیل ایک مذہبی جنگ قرار دے رہا ہے، لیکن ایسا کہتے ہوئے وہ بھول جاتا ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اوّل ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک مسجدِ حرام اور مسجد نبویؐ کے بعد تیسرا مقدّس ترین مقام مسجدِ اقصیٰ ہی ہے۔ یہی نہیں سفرِ معراج کے دوران مسجد حرم سے حضورؐ یہیں پہنچے تھے لہٰذا صہیونیت کو پھیلانے کیلئے لڑی گئی کوئی بھی جنگ مذہبی نہیں ہے، وہ صرف اور صرف ساری دنیا پرظلم و زیادتی ہے۔
موجودہ جنگ کیا ہے؟
نو جوانوں کو ہم بتانا چاہیں گے کہ کوئی بھی جنگ اب مذہبی نہیں ہوتی، نظریاتی بھی نہیں اور اُصولی بھی نہیں۔ اب صرف اور صرف مفادات کی جنگ ہوتی ہے۔ سیاسی سائنس کے طلبہ اس کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ عیسائی امریکہ نے عیسائی و ینزولا پر حملہ صرف اور صرف تیل کیلئے کیا تھا۔ امریکہ نے عرب ممالک میں اپنے فوجی اڈّوں کا جال اسلئے بچھایا کہ وہاں کے تیل اوراس کے ذخائر پر قبضہ کرسکے اور آج امریکہ ایران پر اپنی پوری طاقت سے اسلئے جنگ کر رہا ہے کہ وہ ایران کے تیل اور قدرتی گیس کے ذخائرپر پوری طرح قبضہ کرسکے۔ یہ حقیقت معمولی طالب علم کو بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ اتنی سی بات کچھ حکمرانوں کو سمجھ میں نہیں آتی۔
ہیروشیما اور ناگاسا کی
موجودہ خلیجی جنگ میں سر پھرے اور سنکی لیڈران نیو کلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی بھی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ۶؍اور ۹؍ اگست۱۹۴۵ء کو اس روئے زمین کے سب سے ہولناک واقعات کا اُس وقت بھی ذمہ دار امریکہ ہی تھااور بڑی ڈھٹائی سے وہ کہے جا رہا ہے کہ وہ اُن جارحیت وحیوانیت کے واقعات کو دہرا سکتا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا پر ریٖل دیکھنے میں مصروف نئی نسل کو ہم مختصراً بتانا چاہیں گے کہ اُن دوشہروں میں کیا ہوا تھا۔ ۶؍ اگست ۱۹۴۵ء کو ہیروشیما شہر پر ۱۵؍ہزار ٹن دھماکہ خیز مواد ڈالا گیا جس سے چند منٹوں کے اندر ایک لاکھ ۴۰؍ہزار افراد موت کی آغوش میں چلے گئے تھے اور جو بچ گئے تھے، وہ زندگی بھر موت کی آس کرتے رہے کیونکہ وہ اس قدر جھلس گئے تھے کہ ان کی زندگی اجیرن ہوگئی تھی۔ امریکہ کو پھر بھی سکون نہیں ملا، اسلئےتین دن بعد ناگاساکی پر مزید طاقتور بم ڈال دیاجس کی وجہ سے ایک منٹ میں ڈیڑھ لاکھ افراد فوری طور پرہلاک ہوگئے۔ ان جاپانی دو شہروں میں آج بھی پیدا ہونے والی نسلیں نفسیاتی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ ماحولیات کا جو نقصان اب تک ہوا ہے وہ نا قابل تلافی ہے۔
نوجوانو! اِن عالمی طاقتوں کے خلاف ہم کچھ نہیں کر سکتے مگر اپنی باتوں سے، اپنی زبان سے، اپنے قلم سے، اپنے ہر دستیاب میڈیا سے احتجاج تو کرہی سکتے ہیں !
جنگ اور مصنوعی ذہانت
سوچا اور سمجھا تو یہ جارہا تھا کہ قدرتی ذہانت کی مدد کیلئے مصنوعی ذہانت آ گئی ہے۔ مگر بہر حال یہ مصنوعی ذہانت ہے۔ انسان کی تخلیق کردہ وہ انسانی فطرت سے وابستہ خباثتوں سے دُور کیسے رہ سکتی ہیں۔ حالیہ خلیجی جنگ میں اے آئی کا استعمال بالکل واضح دکھائی دیا اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے کہ وہ ڈیٹا، الگورتھم اور مصنوعی ذہانت سے یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ سارے اہداف اے آئی کی مدد ہی سے حاصل کئے گئے ہیں اور کئی ہتھیاروں کا جونقصان ہوا ہے وہ بھی الگورتھم کی غلطیوں ہی سے ہو اہے۔ اے آئی ہی کی مدد سے حالیہ جنگ میں ۱۲؍گھنٹے میں ۹۰۰؍ سے زائد راکٹ حملے بھی ممکن ہوئے اور وہ بھی اپنے اہداف پراپنے اپنے دشمن کی حرکات و سکنات پر نگرانی اے آئی کے ذریعے ممکن ہوگئی ہے۔ ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو جعلی ویڈیوز اور پروپگنڈہ مواد تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور ا س طرح مکمل جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی کیلئے مصنوعی ذہانت کا استعمال ہو رہا ہے۔ جنگ کے دونوں فریقین اگر اسی طرح اے آئی کا استعمال کریں تو سچائی کی پہچان کس قدر دُشوار ہو جائے گی؟ہمارے نوجوانوں کو اے آئی کے ان جھوٹ کو پکڑنے کا راستہ/راستے معلوم کرنے ہی چاہئیں۔
طلبہ سے
(الف) معاشیات کے طلبہ سے: امریکہ کیلئے جنگ کمائی کا ذریعہ کیسے ہے، ملاحظہ کیجئے:۲۰۲۱ء میں امریکہ، یورپی ممالک کو۲۸؍ فیصد ایل این جی سپلائی کیا کرتا تھا جواَب ۵۸؍ فیصد ہو گیا۔ ڈالر روپے کے مقابلے ۱۰۰؍ کا ہندسہ پار کرنے جا رہا ہے۔ سونا ۲۰؍فیصد لڑھک گیا اور پراپرٹی کی قیمتیں ۴۰؍فیصد نیچے آگئیں۔
(ب) سیاسی سائنس کے طلبہ سے : ہندوستان حالیہ خلیجی جنگ کا فریق نہیں ہے البتہ دُنیا کے سارے قسم کے اخلاقی، معاشی گھپلوں میں ہمارے ملک کےکئی سیاست داں ملوث ہیں، اسلئے غلط کاموں سے دھیان ہٹانے کیلئے ملک کے شہریوں کو مصروف رکھا گیا ہے اور سبھی گیس اور مہنگائی کے موضوع پر بحث کر رہے ہیں اور اسی لئے اب لاک ڈاؤن کی بات ہو رہی ہے۔ دراصل سیاست دانوں کی جانب سے یہ احتیاط نہیں، اعتراف ناکامی ہے۔
سیاسی و سماجی سائنس کے طلبہ یہ بھی نوٹ کر لیں کہ گزشتہ ۱۲؍ برسوں سے’ سناتن خطرے میں ہے‘ کا نعرہ اتنا مؤثر ثابت ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے عوام سے قربانیاں مانگتی ہے اور بدلے میں مہنگائی، کرپشن اور بے یقینی و ذہنی بیزاری فراہم کر رہی ہے۔
(ج) پھر آن لائن : جنگ زدہ، ، آفت زدہ علاقوں میں بھی اسکول کھُلے رکھنے کی تدبیریں کی جاتی ہیں کیوں کہ قوم وملک کے چند ذمہ دار افرادہی سہی، یہ سمجھ گئے ہیں کہ اگر علم کی کسی ایک شاہرہ پر بھی اندھیرا چھا جائے تو کئی بستیوں پر بم برسائے بغیر بھی تباہی مچائی جاسکتی ہے۔
سائرن
دُبئی کی ایک شاہراہ پر کھڑا وہ خطرے کے سائرن سن رہا تھا۔ پولیس کی وین سے اعلان ہورہا تھا کہ ڈرون اور میزائیل کبھی بھی گرسکتے ہیں، ابھی بھی راستے کھُلے ہیں، اپنے اپنے ملک کیلئے نکل جائو۔ وہ سوچنے لگا کہ گھر میں دو بِن بیاہی بہنیں موجود ہیں، بوڑھے ابّا ڈائلیسس پر ہیں، ساہو کار ہر ایک تاریخ کو گھر پر آکر پورا محلہ سرپر اُٹھالیتا ہے۔ یہ ساری آوازیں سائرن کی آواز پربھاری تھیں۔ جیب سے دس لاکھ روپے کے لائف انشورنس کاکارڈ نکالا، اُسے دیکھا اور پھر مطمئن ہوکر وہیں چوراہے پر بیٹھ گیا جہاں ڈرون اور میزائل گر رہے تھے۔