جہاں غیر اردو اخبارات نے اپنے اداریوں میں اس قلت کو مرکزی حکومت کی انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے طنز کا نشانہ بنایا ہے وہیں عالمی سطح پر جنگ مخالف لہر اور لاکھوں امریکیوں کے احتجاج نے ڈونالڈ ٹرمپ کے مبینہ آمرانہ رویے اور ہٹ دھرمی کو بین الاقوامی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔
امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف ’نوکنگ‘ نعرے کے تحت مظاہرے میں ۸۰؍ لاکھ شہریوں نے شرکت کی۔ تصویر: آئی این این
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے سائے اب عالمی معیشت سے نکل کر براہ راست عوامی زندگی پر حاوی ہو رہے ہیں جس کا واضح ثبوت ملک بھر میں پیدا ہونے والا ایل پی جی کا شدید بحران ہے۔ جہاں غیر اردو اخبارات نے اپنے اداریوں میں اس قلت کو مرکزی حکومت کی انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے طنز کا نشانہ بنایا ہے وہیں عالمی سطح پر جنگ مخالف لہر اور لاکھوں امریکیوں کے احتجاج نے ڈونالڈ ٹرمپ کے مبینہ آمرانہ رویے اور ہٹ دھرمی کو بین الاقوامی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ دوسری جانب ملک کے سیاسی افق پر ہندی اور انگریزی اخبارات کیرالا کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بائیں محاذ کے بڑھتے ہوئے قدموں اور ان کی جیت کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ان تمام تر سیاسی گہما گہمی کے درمیان گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے اخبارات کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ نظام عدل کی روشنی میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا پردہ چاک کریں۔
زمینی حقائق حکومت کے دعووؤں سے مختلف ہیں
پربھات( مراٹھی، ۲؍اپریل)
’’ ہندوستان میں ان دنوں پیٹرول پمپوں اور گیس ایجنسیوں کے باہر لگی طویل قطاریں ایک تشویشناک منظر پیش کر رہی ہیں۔ عوام میں پھیلی بے چینی اور گھبراہٹ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایندھن کی فراہمی کے نظام میں کہیں نہ کہیں سنگین خلل موجود ہے۔ اگرچہ حکومت مسلسل یہ یقین دہانی کرا رہی ہے کہ ملک کے پاس ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی قسم کی قلت کا اندیشہ نہیں لیکن زمینی حقائق ان دعووؤں سے مختلف تصویر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ شہری علاقوں میں پیٹرول پمپوں پر گھنٹوں طویل انتظار اور دیہی علاقوں میں ایندھن اور گیس کی کمی نے عوام کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے اور اسی اضطراب نے انہیں گھبراہٹ میں خریداری پر مجبور کر دیا ہے۔ اس صورتحال کو اس وقت مزید تقویت ملی جب حالیہ دنوں میں ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ سامنے آئی جس میں دعوی کیا گیا کہ ہندوستان کے پاس صرف ۵؍ دن کے ایندھن کے ذخائر باقی ہیں۔ اگرچہ اس دعوے پر بحث جاری ہے اور حکومت اسے مبالغہ قرار دے رہی ہے لیکن پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار خود کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ وزیر مملکت برائے پٹرولیم کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہندوستان کے پاس۵ء۳؍ ملین میٹرک ٹن خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے مگر اس کا صرف۶۴؍ فیصد حصہ ہی استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ ایک تہائی گنجائش خالی پڑی ہے۔ یہ حقیقت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ جب عالمی حالات میں بے یقینی بڑھ رہی تھی اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کے آثار نمایاں تھے تو ان اسٹریٹجک ذخائر کومکمل کیوں نہیں کیا گیا۔ یہ مسئلہ محض اعداد و شمار کی بحث نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ‘‘
ٹرمپ ازم سے پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہے
نوشکتی( مراٹھی، ۳۱؍ مارچ)
’’دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت کے دعویدار ملک امریکہ میں اس وقت صورتحال انتہائی سنگین اورپیچیدہ رخ اختیار کرچکی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جو خود کو امریکہ کا مسیحا اور عالمی امن کا واحد علمبردار قرار دیتے ہیں آج خود اپنے ہی ملک اور عالمی برادری کیلئے ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی’جنگ پسند‘ فطرت نے دنیا کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب یہ بیزاری صرف بیرونی دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ خود امریکی عوام ٹرمپ ازم کے خلاف سینہ سپر ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور دیگر ریاستوں میں منعقدہ’نو کنگز‘ ریلی، جس میں تقریباً ۸۰؍ لاکھ شہریوں نے شرکت کی، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی عوام اب اپنے صدر کے آمرانہ طرز عمل سے تنگ آچکے ہیں۔ جنوری ۲۰۲۵ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ نے جس طرح کے متنازع فیصلے کئے ہیں، انہوں نے نہ صرف داخلی انتشار کو ہوا دی بلکہ بین الاقوامی تعلقات کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ مظاہرین کا یہ نعرہ کہ ہمیں ’جمہوریت چاہئے، بادشاہت نہیں ‘ ٹرمپ کے اس طرز حکمرانی پر کاری ضرب ہے جس میں وہ خود کو آئین اور قانون سے بالاتر ایک راجہ تصور کرنے لگے ہیں۔ ان کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر ٹرمپ کی پالیسیاں جنہیں حقارت سے ٹرمپ ازم کہا جاتا ہے دنیا کو ایک نئی سرد جنگ یا شاید تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ‘‘
کیرالا میں بائیں بازو کو سخت مشکلات کا سامنا ہے
نوبھارت( ہندی، ۳۱؍مارچ)
’’کیرالہ کی سیاست ایک بار پھر انتخابی سرگرمیوں کے عروج پر ہے اور ۹ا؍اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات نے ریاست کے سیاسی ماحول کو خاصا گرم کر دیا ہے۔ روایت کے مطابق اس بار بھی اصل مقابلہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی قیادت والے لیفٹ ڈیمو کریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اور کانگریس کی سربراہی میں قائم یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے درمیان ہوگا۔ اگرچہ بی جے پی بھی اس انتخابی مثلث کا تیسرا فریق ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سیاست میں اس کی موجودگی اب تک محدود رہی ہے اور اس کے حصے میں چند نشستیں ہی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے کیرالا میں ایل ڈی ایف کی حکومت قائم ہے اور وزیر اعلیٰ پنارائی وجین اس عرصے میں ریاست کی سیاست کے سب سے مضبوط اور بااثر لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ کیرالا کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے مسلسل دو مدتیں مکمل کیں اور اب تیسری بار اقتدار میں واپسی کی امید رکھتے ہیں۔ بنگال اور تری پورہ میں کمیونسٹ سیاست کے زوال کے بعد کیرالا ہی وہ واحد ریاست رہ گئی ہے جہاں بائیں بازو کی حکومت برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب کو محض ایک ریاستی مقابلہ نہیں بلکہ بائیں بازو کی سیاسی بقا کی جنگ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ایل ڈی ایف نے اپنی انتخابی مہم کو بنیادی طور پر ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے گرد مرکوز رکھا ہے۔ ریاست میں سوشل سیکوریٹی پنشن کے دائرے کو وسعت دینا۔ غربت کے خاتمے کیلئے مختلف اقدامات ’لائف مشن‘ کے تحت غریب خاندانوں کو رہائشی مکانات فراہم کرنا اور تعلیم، صحت و بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں وسیع سرمایہ کاری حکومت کی اہم کامیابیوں کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں۔ تاہم اس بار بائیں محاذ کو اندرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ چند حلقوں میں باغی امیدوار میدان میں ہیں دوسری جانب کانگریس کی قیادت میں قائم یو ڈی ایف کو حالیہ بلدیاتی انتخابات سے کچھ حوصلہ ضرور ملا ہے۔ ۲۰۲۵ء کے بلدیاتی انتخابات میں کئی مقامات پر اس اتحاد کو واضح کامیابی حاصل ہوئی تھی جسے عوامی رجحان میں ممکنہ تبدیلی کی علامت سمجھا گیا، پھر بی کانگریس کے سامنے کئی سنجیدہ مسائل موجود ہیں۔ ‘‘
کیا ذات پات کا درد صرف مخصوص مذاہب تک محدود ہے؟
لوک مت ٹائمز( انگریزی، ۲۶؍مارچ)
’’ سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ فیصلہ ایک بار پھر اس بحث کو چھیڑ گیا ہے جو دہائیوں سے ہمارےسماجی اور قانونی نظام کے درمیان ایک نہ سلجھنے والی گتھی بنی ہوئی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ عیسائیت قبول کرنے والا شخص فوری طور پر شیڈولڈ کاسٹ( ایس سی) کے زمرے اور اس سے وابستہ تمام قانونی و آئینی تحفظات سے محروم ہو جاتا ہے۔ عدالت نے اسے دستور کی دفعہ ۳۴۱؍ کی لفظی تشریح قرار دیتے ہوئے ایک اصولی موقف اپنایا ہے، لیکن کیا یہ محض قانونی تشریح ان کروڑوں انسانوں کے ساتھ انصاف کر پائے گی جو مذہب بدلنے کے باوجود سماجی تنہائی اور ذلت کے سائے میں جی رہے ہیں ؟عدالت کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ چونکہ ذات پات کا نظام تاریخی طور پر ہندو مت سے جڑا ہوا ہے اسلئے مذہب کی تبدیلی کے ساتھ ہی یہ سماجی جکڑ بندیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی فرد کے نیا عقیدہ اپنانے سے اس کے محلے کا ماحول اور صدیوں پرانا سماجی داغ راتوں رات غائب ہو جاتا ہے؟ سچ یہ ہے کہ مذہب کی تبدیلی دل و دماغ کی تسکین کا ذریعہ تو بن سکتی ہے مگر یہ کسی فرد کو اس سماجی ڈھانچے سے آزاد نہیں کر پاتی جس میں اسے نیچ یا پسماندہ قرار دیا گیا ہو۔ ملک میں دلت عیسائیوں اور پسماندہ اقلیتوں کی بڑی تعداد اس بات کی گواہ ہے کہ معاشی محرومی اور سماجی تعصب ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اس قانونی بحث کا سب سے متنازع پہلو وہ امتیازی رویہ ہے جو مختلف مذاہب کے درمیان رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی دلت سکھ یا بدھ مذہب اختیار کرتا ہے تو اس کا شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ برقرار رہتا ہے لیکن عیسائیت یا اسلام کی صورت میں یہ چھین لیا جاتا ہے۔ یہ تضاد نہ صرف آئین کی روح کے منافی محسوس ہوتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا ریاست کی نظر میں ذات پات کا درد صرف مخصوص مذاہب تک محدود ہے؟‘‘