• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ کیسی تعلیمی پالیسی ہے کہ تین سال میں طلبہ کی تعداد تین کروڑ کم ہوگئی

Updated: October 05, 2026, 8:49 PM IST | Arvind Mohan | Mumbai

مہاراشٹر، اتر پردیش، کرناٹک، تلنگانہ، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، پنجاب، ادیشہ اور میزورم میں کئے گئے سروے سے پتہ چلا کہ اس کی وجہ سے اسکولوں میں اساتذہ کی قلت ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

حیرت کی بات ہے کہ ملک میں تعلیم کی حالت پر ایک معروف اور معتبر ادارے کے سروے کے نتائج کو زیر بحث نہیں لایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (ٹس) کی رپورٹ’’ ہندوستان میں اساتذہ، تدریس اور اساتذہ کی تعلیم کی حالت‘‘ میں کہا گیا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے بعد سے صرف تین سال میں بچوں کی تعداد میں سوا تین کروڑ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ تعداد۲۲۔ ۲۰۲۱ء میں ۲؍کروڑ ۶۵؍ لاکھ تھی جو ۲۵۔ ۲۰۲۴ء میں کم ہو کر ۲؍ کروڑ ۳۲؍ لاکھ رہ گئی ہے۔ 
رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ اور معذور افراد کے حقوق کے قانون کے نفاذ کے بعد طلبہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا، لیکن ان قوانین کے مخالفین نے دعویٰ کیا کہ یہ ہجوم صرف ان بچوں پر مشتمل تھا جو کھچڑی کھاتے تھے، نہ کہ تعلیم حاصل کرنے والے۔ یہ ’ٹس‘سروے ایسے یقین کے ساتھ شروع نہیں ہوا تھا، لیکن کچھ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تعلیم کی سطح میں کمی آئی ہے اور بچوں کی سیکھنے کی بنیادی سطح میں کمی آئی ہے۔ تعلیم کی حالت پر ہونے والے دو سروے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بچوں کے علمی سطح کے ساتھ ساتھ ان کی سیکھنے کی صلاحیتوں میں بھی کمی آئی ہے۔ 
طلباء کی تعداد کیوں کم ہوئی؟
اس رپورٹ کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اس کمی کی وجہ غریب اور بے سہارا بچوں کے اسکول جانے کی نااہلی نہیں بلکہ اساتذہ کی کمی اور ان کے اپنے علم کی کمی ہے۔ مہاراشٹر، اتر پردیش، کرناٹک، تلنگانہ، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، پنجاب، ادیشہ اور میزورم میں کئے گئے سروے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسکولوں میں ریاضی اور سائنس کے اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ ریاضی پڑھانے والوں میں سے صرف۵۰؍ فیصد نے ہائی اسکول میں ریاضی پڑھی تھی۔ انگریزی اور دیگر زبانیں پڑھانے والوں کی کارکردگی بہتر ہے لیکن وہاں بھی۳۰؍ فیصد کمی ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری اسکولوں میں بھی اساتذہ کی بھرتی میں نمایاں کوتاہی ہے، جس میں ۳۳؍ فیصد کمی کی اطلاع ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کا اس حوالے سے سرکاری سکولوں سے بہتر ریکارڈ ہے۔ مزید برآں، شہری نجی اسکولوں کے اساتذہ کو سرکاری اسکولوں کے مقابلے بہتر تنخواہ ملتی ہے، لیکن دیہی علاقوں کے اساتذہ کو کم تنخواہ ملتی ہے۔ 
پنجاب کے اسکولوں کی حالت
پنجاب کے اسکولوں کے بارے میں ایک اور رپورٹ بھی اس رجحان کو اجاگر کرتی ہے۔ وہاں سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ سرکاری اسکول دلت اسکول بن گئے ہیں، کیونکہ دوسرے اپنے بچوں کو پرائیویٹ اور انگلش میڈیم اسکولوں میں بھیجتے ہیں۔ ایسے اسکول اب دیہاتوں میں کھل چکے ہیں۔ یہ تبدیلی دہلی سے لے کر بہار تک دیکھی جا سکتی ہے۔ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں اچھی عمارتیں، اساتذہ اور دیگر تعلیمی وسائل ہیں، لیکن اعلیٰ طبقے کے بچے غائب ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اُردو سے محبت اور انگریزی سے مصالحت کی نصف صدی

پرائیویٹ اسکول جو بہار کے دیہی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں اور بنیادی طور پر بے روزگار اور پڑھے لکھے لڑکوں اور لڑکیوں پر منحصر ہیں، اب ہاسٹل اور ٹرانسپورٹیشن کا انتظام کرکے دور دراز سے طلبہ کو اپنی طرف راغب کررہے ہیں۔ 
TISS کی رپورٹ میں طلبہ کی تعداد میں کمی کو اجاگر کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰ء کے نفاذ کے بعد سے اساتذہ کی تعداد میں ۶؍ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں طلبہ کی تعداد میں کمی زیادہ تشویشناک ہے۔ 
 خواتین اساتذہ میں اضافہ
رپورٹ ایک اور مثبت رجحان پر بھی روشنی ڈالتی ہے یعنی خواتین اساتذہ کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ۵۴؍ فیصد تک پہنچ گیا ہے جو کہ ہندوستان کیلئے فخر کی بات ہونی چاہئے تاہم، اس میں ایک خرابی ہے یعنی یہ اضافہ شہری علاقوں میں زیادہ اور دیہی علاقوں میں کم ہے۔ جہاں شہری علاقوں میں خواتین اساتذہ کا حصہ۶۷؍ فیصد ہے، وہیں دیہی علاقوں میں ان کا تناسب۴۷؍ فیصد ہے۔ یہ کوئی بڑی تشویش کی بات نہیں ہے، لیکن رپورٹ میں متعدد کلاسوں کے طلبہ کے ایک ہی کلاس میں بیک وقت پڑھائے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو نوٹ کیا گیا ہے۔ پچھلے سروے میں ۳۹؍ فیصد کلاسوں میں ایسا تھا لیکن اب یہ بڑھ کر تقریباً نصف ہو گیا ہے۔ یہ تناسب سرکاری سکولوں میں ہے۔ درحقیقت کئی اسکول ایک ہی استاد کے زور پر چل رہے ہیں۔ 
انتخابی موضوع کیوں نہیں 
مزید برآں، وسائل کے انتظام اور طلبہ کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئےاسکولوں کے بند ہونے کا رجحان ایک الگ تشویش ہے۔ اسکولوں کے بند ہونے میں اتر پردیش سب سے آگے ہے۔ یہ معاملہ دہلی میں بھی ہے، جہاں طویل عرصے سے حکمران عام آدمی پارٹی نے سرکاری اسکولوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے پرائیویٹ اسکولوں کی من مانی کو روکنے کی خاطر خواہ کوششیں ضرور کیں لیکن ان کے دور حکومت میں بھی سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہوئی تھی۔ تعلیم کے اندر تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ، یہ بھی ایک مثبت علامت ہے کہ تعلیم ایک انتخابی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس بار اتر پردیش میں بھی بڑے پیمانے پر اسکولو ں کا بند ہونا ایک موضوع بن گیا ہے۔ دہلی میں یہ ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ اسلئے اس رپورٹ کے نتائج پر بحث کا فقدان اور اس کا انتخابی موضوع نہ بننا حیران کن ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK