ُاری نے جنگجویانہ قوم پرستی کو ہوا دی اور کشمیر فائلز نے ایک مخصوص سانحہ کو منتخب سچائی کیساتھ پیش کیا مگر دھرندھر نے پولرائزیشن کو قبولیت کی حیثیت عطا کردی ہے
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 5:36 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
ُاری نے جنگجویانہ قوم پرستی کو ہوا دی اور کشمیر فائلز نے ایک مخصوص سانحہ کو منتخب سچائی کیساتھ پیش کیا مگر دھرندھر نے پولرائزیشن کو قبولیت کی حیثیت عطا کردی ہے
دھرندھر کی کامیابی کے بعد کیا نفرت پر مبنی سینما کا نیا باب کھل چکا ہے؟ہندوستانی سنیما ہمیشہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ سماج کے اجتماعی شعور، سیاسی میلانات اور طاقت کے بیانیوں کا آئینہ بھی رہا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں جس نوعیت کی فلمیں باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کر رہی ہیں، وہ اس آئینے کو دھندلا نہیں بلکہ یک رُخا بنا رہی ہیں۔ دھرندھر کی کامیابی اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جسے بعض فرقہ پرست حلقے کھلے طور پر اُری دی سرجیکل اسٹرائیک، کشمیر فائلز اور کیرالا اسٹوری کے فکری تسلسل کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ محض ایک فلم کی کامیابی نہیں، بلکہ ایک بیانیے اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کی بھی فتح ہے۔
اُری نے عسکری قوم پرستی کو سنیما کی زبان دی، کشمیر فائلز نے ایک مخصوص تاریخی سانحہ کو منتخب سچائی کے ساتھ پیش کیا اور کیرالا اسٹوری نے پروپیگنڈا کو دستاویزی انداز کا لبادہ اوڑھا دیا۔ ان فلموں نے یہ اشارہ ضرور دے دیا تھا کہ ہندوستانی سنیما کا دھارا بدل رہا ہے، مگر دھرندھر نے اس تبدیلی کو ادارتی حیثیت دے دی۔ دھرندھر نے اس رجحان کو محض تقویت نہیں دی بلکہ اسے معمول بنا دیا۔ اب نفرت، شکوہ اور شناختی جارحیت کو فلمی زبان میں بولنے کے لئےکسی اخلاقی جھجک کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ اس فلم کی سب سے خطرناک کامیابی یہ ہے کہ اس نے ایک نئے جذباتی مین اسٹریم کو جنم دیا ہے۔ ایسا مین اسٹریم جہاں ناظر ین کو سوچنے کے بجائے مشتعل ہونے، سوال کرنے کے بجائے فیصلہ سنانے اور تاریخ کو سمجھنے کے بجائے انتقام کے جذبے سے دیکھنے کی تربیت دی جارہی ہے۔ دھرندھر ایک فلم کم اور جنگجو اجتماعی جذبات کے فروغ کا آلہ زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کا بیانیہ نہ صرف مخصوص طبقے کو مظلوم اور دوسرے کو مجرم ثابت کرتا ہے، بلکہ یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ یہی مکمل سچ ہے۔
فلم کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ فلم اپنی شناخت پر شرمندہ نہ ہونے کی ترغیب دیتی ہے اور یہ کہ چھوٹے شہروں سے آنے والے فلمسازوں کو اپنی زبان بولنے کا حوصلہ ملا ہے۔ بظاہر یہ دلیل بہت دلکش لگتی ہے، مگر سوال یہ ہے کیا نفرت کو سچ کہہ دینے سے وہ سچ بن جاتی ہے؟یہ کہنا کہ دھرندھر نے اپنی شناخت پر فخر کو فروغ دیا، آدھا سچ ہے اور آدھا فریب۔ اصل سوال یہ نہیں کہ فلم کس کی شناخت کا جشن مناتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کی شناخت کو مجرم بناتی ہے۔ شناخت کا فخر جب دوسرے کی تذلیل پر قائم ہو جائے تو وہ فخر نہیں رہتا، طاقت کا نشہ بن جاتا ہے۔ یہی نشہ اس فلم کی رگ رگ میں دوڑتا دکھائی دیتا ہے، جہاں پیچیدہ تاریخ کو چند مکالموں میں سمیٹ کر ایک فریق کو دائمی مظلوم اور دوسرے کو دائمی مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کارپوریشن انتخابات: اتنا غیر واضح اور گنجلک منظر نامہ کبھی رہا؟
یہ درست ہے کہ فلمی صنعت میں خاندانی اجارہ داری کمزور ہوئی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی جگہ اب نظریاتی وفاداری نے لے لی ہے۔ اگر کسی فلم ساز کی ’’اصلیت‘‘ اقتدار کے غالب بیانیے سے ہم آہنگ ہو تو اس کے لیے تمام دروازے کھلے ہیں اور اگر وہ سوال اٹھائے، تو وہ فوراً اینٹی قرار دے دیا جاتا ہے۔ جہاں تک فلم کے کرافٹ کی بات ہے تو یہ فلم بھی بالکل عام فلموں کی طرح ہے۔ اس میں ایسی کوئی غیر معمولی کہانی نہیں دکھائی گئی ہے اور نہ اسے غیر معمولی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح کی فلمیں ماضی قریب میں بھی بنی ہیں اور ممکن ہے کہ مستقبل میں بھی بنائی جائیں لیکن اس فلم کو کامیاب بنانے کے لئے جس طرز کی مہم چلائی گئی اور فلم کے کلیدی ہیرو کی جگہ کسی دیگر کردار کو اہمیت دی جانے لگی تاکہ ممکنہ ناظرین میں یہ تجسس جاگے کہ آخر فلم میں ایسا کیا ہے ؟ ہم یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ فلم میں اکشے کھنہ نے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا ہے۔ وہ اداکاری کے نام پر صرف منہ بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مکالموں کے نام پر بھی ان کے حصے میں بہت کم ڈائیلاگ آئے ہیں ایسے میں انہیں ہی فلم کا اصل کریڈٹ دینا بہت بچکانہ پن محسوس ہوتا ہے۔ اکشے کھنہ نے اس سے کہیں اچھے کردار ادا کئے ہیں اور ان کی واہ واہی بھی ہوئی ہے لیکن اس فلم کے لئے ان کی ستائش تھوڑی عجیب محسوس ہو رہی ہے۔ فلم میں جس طرح کے مناظر ہیں وہ بھی مہذب سماج میں قابل قبول نہیں ہیں۔ مار کاٹ، بم دھماکہ اور گینگ وار کے جتنے بھی منظر دکھائے گئے ہیں، ان پر فلم میں بہت زیادہ زور بھی دیا گیا ہے جبکہ اس کے بغیر بھی کام چلایا جاسکتا تھا۔ اگر یہ مناظر فلم کو ’انٹینس ‘ بنانے کے لئے ڈالے گئے ہیں تو فلمساز یہاں بھی چوک گئے۔ فلم کو ہٹ بنانے کے لئے جس طرح سے سوشل میڈیا ’انفلوئنسرس‘ کا استعمال کیا گیا وہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ رتک روشن نے اس معاملے میں دبی دبی ہی سہی آواز اٹھائی اورنام نہ لیتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ فلم کو ’پیڈ پروموشن ‘ کے ذریعے ہٹ کروایا جارہا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ فلم سپر ہٹ ہونے کے باوجود تھیٹر کے اندر ناظرین کے لطف اندوز ہونے کا ایک بھی ویڈیو سامنے نہیں آیا۔ اس کے مقابلے میں جوان، پٹھان یا دیگر فلموں کے گیتوں پر ناظرین جس طرح سے جھوم رہے تھے اس کے سیکڑوں ویڈیو اب بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔
فرقہ پرست حلقے دھرندھر کو ایک کامیاب ٹرائل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ فلم اس بات کا ثبوت ہے کہ نفرت پر مبنی مواد نہ صرف بکتا ہے بلکہ مقبول بھی ہو سکتا ہے۔ اگر باکس آفس پرکامیابی ہی معیار بن جائے، تو پھر آنے والے برسوں میں ایسی فلموں کا سیلاب آنا بعید از قیاس نہیں جو تاریخ کو منتخب یادداشت میں بدل دیں، اقلیتوں کو مستقل ملزم کے طور پر پیش کریں، قوم پرستی کو اخلاقی جواز کے طور پر استعمال کرے۔ یہ فلم اپنی کامیابی کے ذریعے صنعت کو یہ پیغام دے چکی ہے کہ اب کسی اخلاقی تذبذب کی ضرورت نہیں، اب نفرت کو پورے اعتماد کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے اور اگر باکس آفس ساتھ دے تو سچ اور جھوٹ کی تمیز غیر متعلق ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سنیما تفریح نہیں رہتا، سماجی زہر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سنیما کی طاقت اس کی کہانی میں ہے، مگر اس کی ذمہ داری اس کے اثر میں ہے۔ دھرندھر کی کامیابی ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں فلمیں سوال نہیں اٹھائیں گی بلکہ فیصلے سنائیں گی؟یہ لمحہ صرف فلمی صنعت کے لیے نہیں، بلکہ ناظرین کے لیے بھی خود احتسابی کا ہے۔ اگر ناظرین اپنی جذباتی تسکین کو سچ پر ترجیح دیتے رہے تو سنیما کا یہ رخ مزید سخت، مزید تنگ اور مزید خطرناک ہو جائے گا۔ دھرندھر ایک کامیاب فلم ہو سکتی ہے مگر اس کی کامیابی کے مضمرات سادہ نہیں ہیں۔ یہ فلم ایک ایسے رجحان کی نمائندگی کرتی ہے جہاں کہانی سے زیادہ نظریہ اور انسان سے زیادہ شناخت اہم ہو گئی ہے۔ اگر اس رجحان کو کوئی سوال کئے بغیر قبول کر لیا گیا تو سنیما مکالمے کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ محاذ آرائی کا ہتھیار بن جائے گا اور یہی وہ انجام ہے جس سے ایک زندہ، متنوع اور جمہوری معاشرہ ہمیشہ خائف رہتا ہے۔ دھرندھر جیسی فلمیں ہمیں سوچنے پر مجبور نہیں کرتیں بلکہ ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ فلمیں سوال نہیں اٹھاتیں، فیصلے سناتی ہیں۔ یہ پیچیدگی نہیں دکھاتیں، دشمن تراشتی ہیں۔ نئے سال میں ہمیں ایسی فلموں کی نہیں بلکہ ایسی کہانیوں کی ضرورت ہے جو ہمیں خود سے، اپنے حال سے اور اپنے رویوں سے سوال کرنے پر مجبور کریں۔ ہمیں وہ سنیما درکار ہے جو زخموں پر نمک نہ چھڑکے بلکہ انہیں بھرنے کی کوشش کرے، جو ہمیں ہجوم نہ بنائے، شہری ہی رہنے دے۔