بہت سے ووٹر ووٹ دینے کے بعدیقیناً یہ سوچیں گے کہ انہو ں نے کس کوووٹ دیا، کیوں دیا اور کس کے کہنے پر دیا؟
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 5:16 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
بہت سے ووٹر ووٹ دینے کے بعدیقیناً یہ سوچیں گے کہ انہو ں نے کس کوووٹ دیا، کیوں دیا اور کس کے کہنے پر دیا؟
تقریباً ۱۰؍ سال بعدممبئی ومضافات اوراطراف کے دیگرشہروں میں کا رپوریشن انتخابات ہورہے ہیں۔ عام انتخابات، ریاستوں کے اسمبلی انتخابات، پنچایت انتخابات اور پھر کارپوریشن انتخابات تک ملک کا انتخابی ماحول ایسا ہوگیا ہے یا بنادیاگیا ہےکہ ایک عام آدمی کیلئے ووٹ اورپارٹی سے متعلق کسی نتیجےپر پہنچنا یا کوئی فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔ مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں صورتحال کی یہ پیچیدگی اس وقت شروع ہوئی جب پارٹیوں کے درمیان اتحادکا منظر نامہ گنجلک ہونے لگا اور نئے اتحاد سامنے آنے لگے۔ بلدیاتی انتخابات میں شیو سینا(اُدھو) نے راج ٹھاکرے کی ایم این ایس سے ہاتھ ملایا اور مہاراشٹرکی سیاست میں ٹھاکرےخاندان برسوں بعد متحد ہوا۔ این سی پی کے دونوں گروہ علاحدہ علاحدہ الیکشن لڑرہے ہیں۔ انڈیا اتحادکا کا پوریشن انتخابات میں نام تک نہیں ہے کیونکہ کانگریس کہیں ونچت بہوجن اگھاڑی کے ساتھ اتحاد میں ہے تو کہیں اس کے کچھ لیڈروں نےذاتی طورپر طورپربی جےپی سے بھی اتحاد کیا ہے۔ یہ معمولی صورتحال نہیں ہے، بلکہ معاملہ اس قدر سنگین ہےکہ اسے سیاسی وانتخابی زوال کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور ایسا کہنے کی بھی ٹھوس وجوہات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: خدا کرے کہ یہ نیا سال ہم سب کو راس آئے
کارپوریشن انتخابات کی نوعیت کے پیش نظر یہ کہاجاسکتا ہےکہ ان میں نظریات کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ کارپوریشن میں بہتر عوامی نمائندگی مقصودہوتی ہے۔ چھوٹی سطح پر سیاسی زاویےاور سیاسی اثر و رسوخ کے دائرےبہت جلد تبدیل ہوتے ہیں اور اس طرح تبدیل ہوتے ہیں کہ نظر یات کہیں بہت پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔ مثال کے طورپر۳۰؍، ۳۵؍یا ۴۵؍ ہزارکی آبادی والے وارڈ میں جو پارٹیاں سیاسی میدان میں اتریں گی، وہ بس یہی چاہیں گی کہ انہیں کسی طرح مضبوط امیدوار مل جائے۔ یہاں حلقہ اوراکثریتی آبادی کے لحاظ سے امیدوار طے کر دئیے جائیں گے۔ قومی اورملکی سطح پر نظریات اورسیاسی ترجیحات کا اثر یہاں نسبتاً نظر تو آئے گا لیکن یہ الیکشن لڑنے کی بنیاد نہیں بنیں گے۔ یہا ں بنیادعلاقہ کے مسائل ہوں گے، علاقائی عوام کی ترجیحات ہوں گی اورامیدوار وہ ہوگاجو علاقائی مسائل سے آگاہ ہوگا، اگر پرانا امیدوار ہوگاتو اس نے کام کئے ہوں گے اوراسے تجربہ ہوگا، اگر نیا ہوگا تو پہچان بنانے کی جدوجہد کررہا ہوگا۔ مزید مختصرمثال سے سمجھا جائے تو کارپوریشن انتخابات میں کسی نظریہ کا دعویٰ کرنے والے امیدوارکے بجائے وہ امیدوار عوام کا پسندیدہ ہوگا اور شہریوں کے دل میں گھر کر لے گا جو علاقے میں گٹر بناکردے دے، کسی گلی کا چیمبر بنا دے، کنکریٹ کا سلیب بچھا دے، سرکاری اسکیموں سے متعلق رہنمائی کیلئے کوئی کیمپ منعقد کردے، یہ عوامل آج بہت شدت سے سامنے آرہے ہیں اسلئے بلدیاتی سطح پر نظریات سے زیادہ ترقیات کو اہمیت دی جارہی ہے۔ ریاستی بلدیاتی انتخابات کی یہ مجموعی صورتحال ہے۔
اب مسئلہ یہ ہےکہ ہر امیدوار ترقی کی بات کررہا ہے، مسائل حل کرنے کی بات کہہ رہا ہے، اپنے حامیوں کو جمع کررہا ہے اور حامی گھر گھر جاکراس کے حق میں ووٹ مانگ رہے ہیں۔ پھرایک مسئلہ ہےکہ گھرکے پرانے لوگ اس امیدوار کو نہیں پہنچانتے، انہیں بس اتنا کہا جارہا ہےکہ’سائیکل ‘کوووٹ دینا ہے، ’کمل‘کوووٹ دینا ہے، ’پنجے ‘ کو ووٹ دینا ہے وغیرہ۔ یہ حقیقت ہے کہ پرانے ووٹر یقیناً نئے امیدواروں سے واقف نہیں ہیں، اِلا یہ کہ وہ نیا امیدوار کوئی معروف شہری ہو۔ اس کے علاوہ جہاں پینل سسٹم ہےوہاں ایک وارڈچار پینل پر مشتمل ہے۔ اسکے اپنے مسائل ہیں۔
میں اپنے شہر بھیونڈی کی بات کروں تویہاں امیدواروں کی بھرمار ہے۔ جس وارڈ میں جو پارٹی جیت سکتی ہے اس نے اپنے بینر پر چاروں پینل کیلئے اپنے امیدواروں کی تشہیر کردی ہے اوران کی تصویریں لگا دی ہیں ۔ اس کے علاوہ کتنے امیدوار ہیں، کچھ اندازہ نہیں ہے۔ یہ یقیناً بھیونڈی جیسے ریاست کےہر چھوٹے شہر کی صورتحال ہوگی جہاں پینل سسٹم کے تحت انتخابات ہورہے ہیں ۔
ایسا نہیں ہےکہ انتخابات کا یہ سسٹم غلط ہے۔ الیکشن کمیشن کاکام کرنے کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ کچھ سسٹم بدلے جاتے ہیں، کچھ سسٹم چاہ کر بھی بدلے نہیں جاسکتے لیکن اس کی وجہ جاننا ضروری ہےکہ شہریوں کیلئے بالکل واضح منظرنامہ کیوں نہیں ہے؟پورا منظرنامہ گنجلک ہونے کی ایک اہم ترین وجہ یہ سمجھ میں آتی ہےکہ شہروں کی آبادیاں اب بہت بڑھ چکی ہیں۔ اب پارٹی اور امیدواروں کیلئے لوگوں سے ربط قائم رکھنایا نئی اصطلاح میں خود کو لوگو ں سے کنیکٹ کرنا اتنا آسان نہیں رہ گیا ہے۔ دہائی پہلے ایک امیدوار اپنے وارڈ کیلئے کافی ہوتا تھا، اسے وار ڈمیں پہچاناجاتا تھا، وہ اپنے دم پر نکلتا تھا، حامیوں کو کھڑا کرتا تھااورلوگوں تک پہنچتا تھا۔ اب آبادیاں بڑھنے سے اور وارڈوں کی حدودوسیع ہونے سےیہ ممکن نہیں رہا۔ بنتی بگڑتی سیاسی مساوات و اتحادنے لیڈروں کے حامیوں کو بھی بڑ ی حدتک تقسیم کردیا ہے۔
اب حقیقی منظرنامہ یہ ہے کہ امیدوار سے زیادہ حامی نظر آرہے ہیں اورحامیوں سے زیادہ پارٹیوں کے جھنڈے اور علامتیں۔ یہ شہریوں کوپارٹیوں سےجوڑنے کی کوشش ہے، یعنی کارپوریشن الیکشن کو قومی سطح پر لے جانے کی کوشش۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پارٹی شناخت کے بغیر الیکشن لڑنا ممکن نہیں ہے، لیکن کارپوریشن انتخابات میں پارٹی سے زیادہ امیدوارکا چہرہ مقامی لوگوں کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔ کسی وارڈ کاامیدوار کسی بھی پارٹی سے ہو، اگر وہ عوا م میں مقبول ہےیا اس کے حق میں چنددنوں میں لہر پیدا کردی گئی ہے، تو لوگ آنکھ بند کر کے اسے ووٹ دیں گے۔
پولنگ کو اب صرف ۵؍ دن بچے ہیں لیکن تذبذب میں مبتلا لوگوں کیلئے یہ سوال تشنہ جواب ہی رہ جائے گاکہ ایک خاندان کے دو افراد ۲؍ مختلف پارٹیوں سے کیوں کھڑے ہیں ؟ ایک محلے میں ساتھ پلے بڑھے اور ساتھ کھیلنے وا لے کیوں الگ الگ پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کررہے ہیں۔ پینل سسٹم کسی وارڈ کیلئے کتنا کارگرہوگااور کیسے؟بہت سے ووٹر ووٹ دینے کے بعدیقیناً یہ سوچیں گے کہ انہوں نے کس کوووٹ دیا، کیوں دیا اور کس کے کہنے پر دیا؟