Inquilab Logo Happiest Places to Work

ثریا بالی ووڈ کی آخری عظیم سنگنگ اسٹار تھیں

Updated: June 16, 2026, 1:32 PM IST | Agency | Mumbai

بالی ووڈ فلمی تاریخ میں کئی ستارے چمکے اور ڈوب گئے، لیکن کچھ نام ایسے ہیں جن کی چمک وقت کی دھند میں مدہم نہیں ہوئی۔ان میں ثریاکا سحر انگیز نام بھی شامل ہے۔

Suraiya.Photo.INN
ثریا۔ تصویر:آئی این این
 بالی ووڈ فلمی تاریخ میں کئی ستارے چمکے اور ڈوب گئے، لیکن کچھ نام ایسے ہیں جن کی چمک وقت کی دھند میں مدہم نہیں ہوئی۔ان میں ثریاکا سحر انگیز نام بھی شامل ہے۔ وہ  ہندوستانی سنیما کےسنہری دور کی ایک ایسی مایہ ناز شخصیت تھیں جنہوں نےبیک وقت اپنی اداکاری کی معصومیت اور اپنی آواز کےجادو سے کروڑوں دلوں پر راج کیا۔ثریا محض ایک اداکارہ نہیں تھیں، بلکہ وہ بالی ووڈ کی آخری عظیم سنگنگ اسٹار تھیں، جو اپنی فلموں کے گانے خودگاتی تھیں اور ان کی آواز کا سوز سیدھا روح میں اتر جاتاتھا۔ایک ایسا دور جب لتا منگیشکر اور نورجہاں جیسی عظیم گلوکاراؤں کا طوطی بولتاتھا، ثریا نے اپنی منفرد گائیکی اورجاندار اداکاری کے بل پرخود کو انڈسٹری کی سب سے مہنگی اور مقبول ترین اداکارہ کے طور پر منوایا۔
 
 
 
بالی ووڈمیںثریا  نے اپنی شاندار اداکاری اور جادوئی آواز سے تقریبا ۴؍دہائیوں تک فلمی مداحوں کو اپنادیوانہ بنایا۔ثریا کا اصل نام ثریا جمال شیخ تھا۔ انہیں دنیاصرف ثریا کے نام سے جانتی ہے۔ ۱۵؍ جون ۱۹۲۹ءکو پنجاب کے گوجرانوالہ شہر میں ایک درمیانے طبقےکے خاندان میں پیدا ہونے والی ثریا کا رجحان بچپن سےہی موسیقی کی طرف تھا اور وہ پلے بیک سنگر بننا چاہتی تھی۔ تاہم انہوں نے کسی استاد سے موسیقی کی تعلیم نہیں لی تھی لیکن موسیقی پر ان کی اچھی گرفت تھی۔  
 
 
 
ثریا اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھیں۔ثریا نے ابتدائی تعلیم ممبئی کےنیو گرلس ہائی اسکول سے مکمل کی۔ اس کےساتھ ہی وہ گھر پر ہی قرآن اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کیا کرتی تھی۔ بطور چائلڈ اسٹار ۱۹۳۸ءمیں ان کی پہلی فلم’ اس نے سوچا تھا‘ ریلیز ہوئی۔ثریا کو اپنا سب سےپہلا بڑا کام اپنے چچا ظہور کی مدد سے ملا جو ان دنوں فلم انڈسٹری میں بطور ولن اپنی شناخت بنا چکے تھے۔۱۹۴۱ءمیںاسکول کی چھٹيو ں کے دوران ایک بارثریا موہن ا سٹوڈیو میں فلم تاج محل کی شوٹنگ دیکھنے گئیں۔وہاں ان کی ملاقات فلم کے ڈائریکٹر نانو بھائی وکیل سےہوئی جنہیں ثریا میں فلم انڈسٹری کا ایک ابھرتا ہوا ستارہ دکھائی دیا۔ انہوں نے ثریا کو فلم کے کردار ممتاز محل کے لئے منتخب کرلیا۔۵۰ءکی دہائی میں ثریا کے فلمی کریئرمیں بے مثال تبدیلی آئی۔ وہ اپنی حریف اداکارہ نرگس اور کامنی کوشل سےبھی آگے نکل گئی۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ثریا اداکاری کے ساتھ ساتھ گانے بھی گاتی تھیں۔ پیار کی جیت،بڑی بہن اور دل لگی ۱۹۵۰ءجیسی فلموں کی کامیابی کے بعد ثریا شہرت کی بلنديوں پر جا پہنچیں۔ ثریاکےفلمی کریئرمیں ان کی جوڑی فلم اداکار دیو آنند کے ساتھ خوب جمی۔ ثریا اور دیو آنند کی جوڑی والی فلموں میں شاعر ، افسر، نیلے اور دو ستارے جیسی فلمیں شامل ہیں۔۱۹۵۰ءسے۱۹۶۳ءتک ثریاکےفلمی کریئر کیلئے مایوس کن ثابت ہوا لیکن  ۱۹۵۴ءمیںآئی فلم مرزا غالب اور وارث کی کامیابی سے ثریا ایک بار پھرفلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔فلم مرزا غالب کو صدرجمہوریہ کے گولڈ میڈل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔فلم دیکھتے وقت اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اتنے جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے ثریا کو کہا تم نے مرزا غالب کی روح کو زندہ کر دیا۔ ۱۹۶۳ءمیںآئی فلم رستم سہراب کی کارکردگی کے بعد ثریا نے خود کو فلم انڈسٹری سے الگ کرلیا۔تقریباً ۳؍دہائی تک اپنی جادو بھری آواز اور اداکاری سے مداحوں کا دل جیتنے والی ثریا نے ۳۱؍جنوری ۲۰۰۴ءکو اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK