تولین سنگھ کا ’دربار‘ یا دربار داری

Updated: June 08, 2020, 11:40 AM IST | Shahid Nadeem

تولین سنگھ برسوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اور سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک خاص سوچ اور فکر کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، ان کی کتاب دربارکے مشمولات پر ایک نظر

Darbar
دربار

 تولین سنگھ برسوں سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک خاص سوچ اور فکر کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ ۱۹۵۰ء میں مسوری کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ پاکستانی سیاستداں سلمان تاثیر سے شادی کی ۔ سلمان تاثیر پنجاب کے گورنر تھے۔ ایک پاکستانی چینل کی صحافی مہر بخاری کو انٹر ویو دیتے ہوئے انہوں نے چند متنازع جملے کہہ دئیے ۔ جس کے نتیجے میں ۴؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو انہی کے محافظ ممتاز قادری نے سر عام گولی ماردی ۔
 تولین اور تاثیر سے ایک لڑکاہے آتش تاثیر جو خود بھی ادیب ہے۔ تولین کی دوسری شادی  دہلی کے ایک تعمیراتی کاروباری اجیت گلاب چند سے ہوئی مگر یہ رشتہ بھی زیادہ دن نہیں چل سکا ۔ تولین دہلی کے سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں کافی مشہور ہیں۔ یہاںتک رسائی کے لئے ان کا خاندانی پس منظر بہت کام آیا۔ ان کی کتاب ’دربار ‘ ان حلقوں کی گفتگو اور گپ شپ پر مبنی ہے۔
 تولین نے یادوں کی اس کتاب کے شروع میں ہی اپنا خاندانی پس منظر بیان کردیا ہے۔ چار صفحات کے اس نوٹ میںانہوں نے اپنے ایک ریل سفرکا ذکر کیا ہے۔ اس وقت ان کی عمر سولہ برس تھی ۔ شملہ سے دہلی کے اس سفر کے دوران کچھ ہندی بولنے والے لڑکوں نے جملہ کسا کہ انگریز چلے گئے اولاد چھوڑ گئے۔ تولین نے محسوس کیا کہ وہ اپنے ہی ملک میں اجنبی ہے ۔ آگے چل کر جب انہوں نے صحافت میں قدم رکھا تو بار بار اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑا ۔ پہلے تو انہیں ملازمت نہیں ملی ۔ مجبوراً فری لانس کرنے لگیں۔ وہاں پیسے بہت کم ملتے تھے۔ پہلا مضمون شائع ہوا تو تولین کو پہلی ملازمت اسٹیٹس مین میں ملی مگر لڑکی ہونے کی وجہ سے انہیں اہم کام نہیں دیا جاتا تھا ۔ اپنے دوست نوین پٹنائک کی وجہ سے وہ دہلی کی پرائیویٹ پارٹیوں میں شامل ہو جاتی تھیں۔ پارٹی میں راجیو گاندھی سمیت اپنے وقت کے بیشتر صنعت کار اور دولت مند خاندان شریک ہوتے تھے۔ ان محفلوں میں سیاست سے لے کر فیشن اور ریستوراں کی باتیں ہوتیں۔ تولین نے کتاب میں ان تمام باتوں کو خاص جگہ دی ہے جس کی وجہ سے کتاب دلچسپ ضرور ہو گئی ہے مگر اس کی سنجیدگی گم ہو گئی ہے۔ 
 دو حصوں میں تقسیم اس کتاب میں انہوں نے راجیو اور سونیا گاندھی پر کافی تفصیل سےلکھا ہے۔ ان کی تحریر میں ایک طرح کی خفگی کا اشارہ ملتا ہے اور وہ غیر ضروری باتوں میں الجھ جاتی ہیں۔ ایک جگہ انہوں نے سنجے گاندھی کے خاص دوست اکبر ڈمپی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایمر جنسی کے بعد گاندھی خاندان میں تنائو پیدا ہو گیا تھا ۔ ان کے الفاظ میں : ’’راجیو اور سونیا کا خیال تھا کہ ایمر جنسی کی زیادتیوں کے لئے سنجے گاندھی ذمہ دار ہیں اور وہ اس بات کو کسی سے چھپاتے بھی نہیں تھے۔ ‘‘ ایک اور واقعہ وہ لکھتی ہیں کہ ایک روز اکبر ان کے گھر آئے اور بتانے لگے، تم سوچ سکتی ہوں کہ کوئی کتے کا بسکٹ کسی دوسرے کتے کو کھلایا جائے تو اس پر تنازع ہو سکتا ہے۔ ہوا یہ کہ مینکا نے فریج میں بسکٹ دیکھا اور اپنے کتوں کو کھلادیا ۔ سونیا اور راجیو اس پر چلانے لگے ۔بظاہر بسکٹ برآمد کیا ہوا تھا مگر تھا تو کتوں کا بسکٹ ہی یار۔ اس کے بعد وہ یہ جملہ بھی جوڑ دیتی ہیں کہ جب اکبر احمد ڈمپی یہ سب بیان کررہے تھے تو ان کے ہاتھ میں اسکاچ کا گلاس تھا ۔  ایمر جنسی کے دوران تولین کو اکثر پارٹیوں میں مدعو کیا جاتا ۔وکی بھرت رام انہیں پابندی سے اپنی پارٹیوں میں مدعو کرتے۔ ان پارٹیوں میں ہمیشہ کےجانے پہچانے چہرے ہوتے۔وکی بے حد امیر اور کھلے دل کا انسان تھا ۔ سماجی اور سیاسی معاملات میں بے باکی سے گفتگو کرتا ۔ ان پارٹیوں میں رومی چوپڑا، ستیش شرما اور ان کی سنہری بالوں والی غیر ملکی اہلیہ بھی شامل ہوتے۔وہ شام کا زیادہ حصہ سونیا سے گفتگو میں گزاردیتی ۔
 ایمر جنسی کے بعد مرارجی دیسائی وزیر اعظم بنے تو انہوں نے جنتا دربارکی روایت کو باقی رکھا ۔اندرا اور مرارجی کے جنتا دربار کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دور دراز سے لوگ اپنا مسئلہ لے کر آتے تو مرار جی بے رخی سے ملتے اور قانون کا حوالہ دے کر صاف لفظوں میں انکار کردیتے  اور کوئی وعدہ بھی نہیں کرتے جبکہ جنتا حکومت سے لوگوں کو کافی امیدیں تھیں۔ دوسری طرف اندرا گاندھی کو لوگوں کی نبض پکڑنا آتا تھا۔ ایمر جنسی کی شکست نے انہیں اور سمجھ دار بنادیا تھا۔ لوگوں کو یقین دلاکر وہ دل جیت لیتی تھیں۔ تولین نے اس سلسلے میں ایک مضمون بھی لکھا تھا جس سے مرارجی کافی ناراض ہوئے تھے۔ 
 تولین نے اپنی برتری ثابت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ایک جگہ وہ لکھتی ہیں کہ انہوں نے ایم جے اکبر کے لئے انٹر ویو دینے کے لئے راجیو گاندھی کو آمادہ کیا۔ اکبر انٹرویو کے دوران کافی نروس تھے۔ ان کی دوستی کی وجہ سے ہی راجیو گاندھی اکبر کو اپنی گاڑی میں ایک دوست کے گھر ساتھ لے گئے۔ تولین نے سیاست میں خاندانی وراثت پر بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ خاص طور پر راجیو گاندھی کی ناگہانی موت کے بعد سونیا گاندھی کے کانگریس صدر بننے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ہندوستانی سیاست کیلئے خطرہ قرار دیا لیکن ایک غیر جانبدار صحافی کی حیثیت  سے وہ اس حقیقی صورتحال سے گریز کر گئیں ، وہ اپنے پرانے دوست  نوین پٹنائک کو بھول گئیں جو بیجو پٹانائک کی موت کے بعد ان کی وراثت سنبھالے ہوئے ہیں۔ اپنی دوست وسندھرا راجے کو بھی نظر انداز کردیا ۔’دربار‘  میں تولین نے شروع سے آخر تک خود کو ہی مرکز میں رکھا ہے اور اس کے ارد گرد واقعات کو سمیٹ لیا ہے۔ ۱۹۷۵ء میں پہلے اخبار میں کام شروع کیا ہی تھا کہ پانچ ہفتے بعد ایمر جنسی لگ گئی ۔ ترکمان گیٹ کا واقعہ ہو یا ایمر جنسی کے بعد بننے والی حکومت ، اندرا گاندھی کا قتل ہو ،اسپتال اور صفدر جنگ کا گھر ہو یا امرتسر کا آپریشن بلیو اسٹار  یا دہلی میں سکھوں کا قتل عام ، جہاں کوئی اہم واقعہ ہو تا وہ پہلے ہی موجود ہو تی ہیں۔ کتاب کے اثر کردار اب دنیا میں نہیں ہیں اور جو موجود ہیں مثلاً سونیا گاندھی  انہوں نے اسے کسی تبصرے کے قابل ہی نہیں سمجھا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK