• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوعمر اور نوجوان پھر میدان میں

Updated: September 27, 2026, 3:54 PM IST | Mumbai

روزمرہ کی بات چیت میں جنتر منتر کے احتجاج کا تذکرہ اور حوالہ ابھی جاری ہی تھا کہ جنتر منتر پر نوعمروں اور نوجوانوں کے دوبارہ آنے کے واضح اشارے ملنے لگے ہیں۔ اس بار ضروری نہیں کہ وہ اپنا مستقر دہلی کے جنتر منتر کو ہی بنائیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کس نے سوچا تھا کہ امن و آشتی اور اہنسا پر یقین رکھنے والے اس ملک کے گوشے گوشے میں پھیل جانے والے فرقہ پرستانہ واقعات پر اس طرح روک لگے گی کہ نہ تو کپڑوں سے پہچاننے والے کچھ کہہ سکیں گے نہ ہی گھس پیٹھیوں کا راگ الاپنے والوں کی زبان کھل سکے گی۔ وہ بھی چپ رہنے پر مجبور ہوجائینگے جو ’’بٹو گے تو کٹو گے‘‘ کا انتباہ دیا کرتے تھے یا ۸۰۔ ۲۰؍ کا فارمولہ پیش کرتے تھے۔ 
ملک کے عوام پریشان تھے اور اُنہیں یقین ہوچلا تھا کہ حالات کو جس سانچے میں ڈھال دیا گیا ہے وہ اب اُسی سانچے میں رہیں گے۔ بعض لوگوں نے اس دوران کہا بھی کہ ان حالات نے دیش کو ہمیشہ کیلئے بدل دیا ہے مگر---ایسی بات کہنے والوں کا یہ اپنا نقطۂ نظر تھا۔ اُنہوں نے اپنی فکرمندی کے سبب اس ازلی حقیقت کو تھوڑی دیر کیلئے فراموش کردیا تھا کہ حالات بدلنے ہی کیلئے ہوتے ہیں اور قدرت ہر چیز کا انتظام کرتی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں حالات تیزی سے بدلے ہیں اور لگاتار بدل رہے ہیں۔ روزمرہ کی بات چیت میں جنتر منتر کے احتجاج کا تذکرہ اور حوالہ ابھی جاری ہی تھا کہ جنتر منتر پر نوعمروں اور نوجوانوں کے دوبارہ آنے کے واضح اشارے ملنے لگے ہیں۔ اس بار ضروری نہیں کہ وہ اپنا مستقر دہلی کے جنتر منتر کو ہی بنائیں۔ اُنہوں نے کہہ دیا ہے کہ ملک بھر میں جنتر منتر ہوگا۔ پچھلی مرتبہ کاکروچ جنتا پارٹی کے بینر تلے جمع ہونے والے نوجوان اور طلبہ سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفےٰ مانگ رہے تھے، اس بار وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے پر زور دینگے۔ تب اُن کا موضوع طلبہ کا حق تھا، اس بار اُن کا موضوع ووٹ سے متعلق عوام کا بنیادی حق ہے جوایس آئی آر کے ذریعہ بڑے پیمانے پر چھینا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ معنوی اعتبار سے اس بار وہ بڑے مقصد کیلئے یکجا ہونے جارہے ہیں جس کے دائرہ میں صرف طلبہ نہیں آتے، طلبہ کے ساتھ ملک کا ہر شہری آتا ہے۔ اس کا معنی صاف ہے کہ یہ بڑی جنگ ہے جسے وہ جمہوری طریقے سے پُرامن رہ کر لڑنا چاہیں گے۔ قدرت کا انتظام اور انتقام دیکھئے کہ آبادی کو فرقوں اور طبقوں میں بانٹنے والوں کے خلاف ہر فرقے اور طبقے کو ساتھ لے کر چلنے والے ایسے مظاہرین میدانِ عمل میں آئے ہیں کہ جن کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ موضوع کی وسعت کے اعتبار سے اُمید کی جارہی ہے کہ اِس بار اُنہیں پہلے سے زیادہ اور ہر عمر، طبقے اور فرقے کے لوگوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ 
جون جولائی کے احتجاج میں اُنہیں تب کامیابی ملی تھی جب دھرمیندر پردھان نے استعفےٰ دے دیا تھا۔ اس بار گیانیش کمار استعفےٰ دینے پر مجبور ہوئے تو یہ اُن کی چھوٹی کامیابی ہوگی۔ اُن کے مطالبات میں گیانیش کمار کا استعفےٰہی نہیں اُن کی گرفتاری بھی ہے۔ مطالبات میں ایس آئی آر کو واپس لینا اور جن ریاستوں میں ایس آئی آر کے بعد انتخابات ہوئے ہیں وہاں دوبارہ انتخابات کرانا بھی شامل ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن کی دیگر تمام پارٹیوں کے تعاون سے اب گیانیش مخالف اور ایس آئی آر مخالف تحریک کو وہ طاقت ملنے جارہی ہے جو جمہوریت کی بیخ کنی کی تمام تیاریوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کریگی۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK