Updated: September 04, 2026, 10:04 PM IST
| New Delhi
جنتر منتر پر جین زی احتجاج کے دوران فیشیل ریکگنیشن سسٹم کے ذریعے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے قرار دئیے گئے ۲؍ ہزار ۸۷۳؍ افراد کی شناخت کے معاملے میں اہم سوالات اٹھ گئے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے دعوے میں شامل ۲۵؍ افراد ایسے تھے جو شناخت کے وقت جیل میں قید تھے۔ ریکارڈ کے مطابق ان میں ۱۷؍ افراد پر قتل، ۴؍ پر عصمت دری اور ۴؍ پر اقدامِ قتل کے الزامات ہیں، جس کے بعد چہرہ شناسی نظام کی درستگی اور پولیس کے ڈیٹا کی جانچ پر سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
جنتر منتر پروٹیسٹ۔ (فائل فوٹو)
دی انڈین ایکسپریس نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ جنتر منتر پر جین زی احتجاج کے دوران فیشیل ریکگنیشن (چہرہ شناسی) سافٹ ویئر کے ذریعے ۲ ؍ ہزار ۸۷۳؍ افراد کی شناخت مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کے طور پر کی گئی تھی، لیکن پولیس اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق ان میں سے ۲۵؍ افراد اس وقت جیل میں بند تھے جب انہیں وہاں دیکھاگیا۔جب ۱۷؍ اگست کو سپریم کورٹ میں۲۰؍ جولائی کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کے تشدد سے متعلق سماعت چل رہی تھی، تواس دوران پولیس کے ذریعے یہ ڈیٹا پیش کیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ اس کے فیشیل ریکگنیشن سافٹ ویئر نے احتجاج کے مقام پر ان افراد کی شناخت کی جن کی تفصیلات سرکاری پولیس ڈیٹا بیس میں موجود ریکارڈ سے میل کھاتی تھیں۔تاہم، پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ جن افراد کی شناخت کی گئی ہے وہ ملزم ہیں، سزایافتہ مجرم ہیں یا صرف ان کے نام مجرمانہ مقدمات میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مالی سال ۲۰۲۷ ءمیں ہندوستان کا ادائیگی توازن ۷۵ ارب ڈالر کے قریب رہنے کا امکان
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ریکارڈ کی جانچ سے معلوم ہوا کہ جیل میں بند لیکن مبینہ طور پر احتجاج کے مقام پر موجود بتائے گئے ۲۵؍ افراد میں سے ۱۷؍ پر قتل، ۴؍ پر عصمت دری اور ۴؍ پر اقدامِ قتل کے الزامات ہیں۔ پولیس نے اپنے حلف نامے میں عدالت کو بتایا تھا کہ ’’صرف فیشیل ریکگنیشن سسٹم کے نتائج کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔‘‘ پولیس نے کہا کہ چہرہ شناسی کے بعد تصدیق کی جاتی ہے کیونکہ شخص کی تفصیلات پہلے سے پولیس ریکارڈ میں ہوتی ہیں۔ اگر اس عمل کے دوران یہ پایا جاتا ہے کہ وہ شخص واقعی وہاں موجود تھا، تو آگے کارروائی کی جاتی ہے۔ ۲۰۲۲ء میں ایک آر ٹی آئی کے جواب میں، پولیس نے کہا تھا کہ اگر فیشل ریکگنیشن سسٹم ۸۰؍ فیصد درستگی ظاہر کرے تو وہ اسے ’’مثبت میچ‘‘ مانتے ہیں۔ تاہم، اس کا انحصار الگورتھم، کیمرے کے زاویے، روشنی، تصویر کے معیار، ماسک اور تلاش کئے جانے والے ڈیٹا بیس پر ہو سکتا ہے۔ان نتائج کے بارے میں اخبار کے سوالات کے جواب میں، پولیس نے جمعہ کو کہا کہ مزید تحقیقات ابھی باقی ہیں۔
شناخت شدہ افراد کے خلاف کارروائی
مر کزی حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے جین زی احتجاج سے متعلق درج تمام ایف آئی آرزکو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم، اس نے کہا تھا کہ وہ احتجاج کے مقام پر موجود مجرمانہ ریکارڈ والے ۲؍ ہزار ۸۷۳؍ افراد کے خلاف تحقیقات جاری رکھے گی۔حکومت نے کہا کہ تحقیقات کاترجیحی نقطہ ’’جسمانی نقصان یا جائداد کی تباہی‘‘ ہو گااور شناخت شدہ افراد کے خلاف ایک نئی ایف آئی آر درج کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال حکومت آر ایس ایس کے ماتحت ایک ہزاراسکول کھولنا چاہتی ہے: وزیراعلیٰ
منگل کو عدالت نے حکومت کو اس تجویز کے ساتھ آگے بڑھنے کی اجازت دے دی، جبکہ احتجاج سے متعلق دیگر تمام درج ایف آئی آرز کو منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نےبھی ہفتے کے روز ہونے والے اپنے مارچ کی کال واپس لے لی۔ یہ کال انہوں نے یہ الزام لگاتے ہوئے دی تھی کہ مرکزی حکومت ’’۲۵؍ جولائی کے اپنے وعدوں‘‘ کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، جن وعدوں کے بعد اس وقت جنتر منتر پر احتجاج ختم کیا گیا تھا۔ ان کے مطالبات میں سے ایک یہ تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کی اتحادی (این ڈی اے) حکومت والی کسی بھی ریاست میں کسی بھی مظاہرین کے خلاف اب یا مستقبل میں، ’’کوئی تادیبی یا انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔‘‘ جین زی کا یہ احتجاج ۶؍ جون کو شروع ہوا تھا، جب کاکروچ جنتا پارٹی نے جنتر منتر پر مظاہرہ کرتے ہوئے اس وقت کے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ ۲۰؍ جولائی کو ہزاروں لوگ اس احتجاج میں شامل ہوئے۔ یہ واقعہ اس کے دو دن بعد پیش آیا جب پولیس نے تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگ چک کو زبردستی اسپتال منتقل کر دیا تھا۔ مظاہرین کے پارلیمنٹ مارچ پر پولیس نے سخت کارروائی کی تھی۔ پولیس کے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے گولے چھوڑنے اور پیلٹ گن کا استعمال کرنے سے درجنوں افراد زخمی ہو ئے تھے۔ پولیس کی اس کارروائی نے جین زی احتجاج کو مزید تیز کر دیا، جو ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ۲۵؍ جولائی کو دھرمیندر پردھان نے وزیرِ تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔