• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’کوئی بیرونی طاقت نہیں چلا رہی ہے‘: وانگچک نے سی جے پی کے غیر ملکی روابط کے الزامات کو مسترد کردیا

Updated: September 03, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi

وانگچک نے بتایا کہ جب لیفٹیننٹ گورنر سمیت حکام نے یہ خدشات اٹھائے تھے کہ سی جے پی تحریک کے فالوورز کا ایک بڑا حصہ ہندوستان سے باہر مقیم ہے، تو انہوں نے خود سوشل میڈیا ڈیٹا کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے معلوم ہوا کہ ان کے ۹۴ فیصد فالوورز ہندوستان سے تھے اور صرف ۶ فیصد دوسرے ممالک سے تھے۔“

Sonam Wangchuk. Photo: INN
سونم وانگچک۔ تصویر: آئی این این

لداخ سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی احتجاجی تحریک کے غیر ملکی روابط کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ اس کے منتظمین کو ”کوئی بیرونی طاقت کنٹرول نہیں کر رہی ہے“ خواہ لوگوں کو ان کے ماضی کی سیاسی وابستگیوں پر تحفظات ہی کیوں نہ ہوں۔ پرکھر گپتا کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ کے دوران وانگچک نے کہا کہ ”آپ کو ان کے برگر کھانے یا ان کی ماضی کی ملازمتوں پر اعتراض ہوسکتا ہے، لیکن انہیں کوئی بیرونی طاقت ہینڈل نہیں کر رہی ہے۔“

وانگچک نے بتایا کہ جب لیفٹیننٹ گورنر سمیت حکام نے یہ خدشات اٹھائے تھے کہ سی جے پی تحریک کے فالوورز کا ایک بڑا حصہ ہندوستان سے باہر مقیم ہے، تو انہوں نے خود سوشل میڈیا ڈیٹا کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے معلوم ہوا کہ ان کے ۹۴ فیصد فالوورز ہندوستان سے تھے اور صرف ۶ فیصد دوسرے ممالک سے تھے۔“ جب پوڈ کاسٹ کے میزبان نے مذاق میں پوچھا کہ کیا وہ خود سی آئی اے کے کارندے ہیں، تو وانگچک نے جواب دیا کہ وہ نہیں ہیں، الا یہ کہ سی آئی اے نے ”ایسے جدید اور خفیہ طریقے نکال لئے ہوں کہ خود اس شخص کو بھی مرنے کے ۵۰۰ سال گزرنے تک معلوم نہ ہوسکے (کہ وہ سی آئی اے کا کارندہ ہے)۔“

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: BCI کو قانون کے طلباء کے خلاف کارروائی کا کوئی حق نہیں

واضح رہے کہ وانگچک نے امتحانات کی بے ضابطگیوں پر جون اور جولائی میں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کرکے تقویت بخشی تھی۔ انہوں نے اس دوران غیر معینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتال بھی کی جس کے نتیجے میں بالآخر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

سی جے پی کے بانی ابھجیت دِپکے کی تعلیمی اسناد اور ممکنہ غیر ملکی روابط کے الزامات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وانگچک نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی ”جدید ریسرچ سافٹ ویئر“ کا استعمال نہیں کیا، بلکہ اپنے جائزے کی بنیاد ذاتی مشاہدات، مظاہرین سے گفتگو اور دستیاب معلومات پر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”۶ فیصد بیرونی فالوونگ کوئی ہائی رسک فالوونگ نہیں ہے۔ اگر یہ ۳۰ فیصد بیرونی اور ۷۰ فیصد ہندوستانی ہوتی، تو میرے لئے خطرے کی گھنٹی بج جاتی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین سے براہ راست بات کرنے کے بعد انہیں قطعی محسوس نہیں ہوا کہ وہ کسی غیر ملکی طاقت کیلئے کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مراٹھا نوجوانوں کے سڑکوں پر اترنے کے بعد سرکاری وفد جرنگے سے ملنے پہنچا

وانگچک نے کہا کہ اگر واقعی شکوک و شبہات موجود ہیں تو وہ احتجاج کے لیڈران کے یونیورسٹی ریکارڈز کی جانچ پڑتال کی حمایت کرتے ہیں، تاہم وہ اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ مظاہرین کو کسی بیرونی ذریعے سے مالی امداد نہیں مل رہی تھی اور وہ اپنی مرضی سے مظاہروں میں شامل ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK