امریکہ کی عاقبت نااندیشانہ کارروائی

Updated: January 09, 2020, 8:16 PM IST | Editorial

ایران کی جوابی کارروائی سے امریکہ کے ہوش تو یقیناً اُڑے ہوں گے۔ یہ الگ بات کہ وہ اس کا اظہار نہیں کریگا۔ تاہم، اُمورِ مشرق وسطیٰ کے ایک دفاعی ماہر ایلکس وتانکا کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ’’فی الفور اور خوفناک‘‘ جواب سے حیرت زدہ ہیں۔

روحانی اور ٹرمپ ۔ تصویر : آئی این این
روحانی اور ٹرمپ ۔ تصویر : آئی این این

 ایران کی جوابی کارروائی سے امریکہ کے ہوش تو یقیناً اُڑے ہوں گے۔ یہ الگ بات کہ وہ اس کا اظہار نہیں کریگا۔ تاہم، اُمورِ مشرق وسطیٰ کے ایک دفاعی ماہر ایلکس وتانکا کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ’’فی الفور اور خوفناک‘‘ جواب سے حیرت زدہ ہیں۔ 
 ٹرمپ نے اپنے صدارتی الیکشن کے دوران اور اس کے بعد کئی موقعوں پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ پیش رو صدور کی طرح ’’جنگ پسند‘‘ نہیں ہیں کیونکہ جنگیں امریکی جان و مال کے اتلاف کا سبب بنتی ہیں اور اُنہیں اپنا ملک، اس کے عوام، اس کا سرمایہ اور وسائل بہت عزیز ہیں۔ چند ماہ قبل بھی اُنہوں نے اس بات کا اعادہ کیا اور کہا تھا کہ عراق سے فوج واپس بلائی جائیگی کیونکہ وہ ’’احمقانہ جنگوں‘‘ سے برأت چاہتے ہیں۔ اگر کچھ لوگوں نے اُن کی نام نہاد امن پسندی کی ان باتوں اور دعوؤں کو قابل اعتناء سمجھا ہوگا تو یہ اُن کی غلطی تھی، ٹرمپ کی نہیں۔ ایران کے میجر جرنل سلیمانی پر حملہ، جس میں اُن کی رحلت ہوئی، ثابت کرتا ہے کہ ٹرمپ بھی اُتنے ہی جنگ پسند ہیں جتنے کہ اُن کے پیش رو تھے بالخصوص جارج ڈبلیو بش۔
 جنرل سلیمانی کو گھات لگا کر موت کی آغوش میں پہنچانا امریکہ اور اس کے صدر کی انتہائی درجے کی بزدلی ہے۔ جو شیر ہوتے ہیں وہ شیروں کی طرح لڑتے ہیں، گھات لگا کر دھوکے سے نہیں مارتے۔ امریکہ بڑی فوجی طاقت کا مالک ہے مگر اس طاقت سے متاثر ہونے والے بھول جاتے ہیں کہ وہ اتنا ہی بزدل اور کم حوصلہ بھی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی کارروائی کی جو وجہ بیان کی وہ بھی کھوکھلی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جنرل سلیمانی امریکی مفادات پر حملہ کرنے والے تھے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اُنہوں نے ایران کو جنگ سے روکنے کیلئے یہ کارروائی کی ہے مگر دُنیا جانتی ہے کہ ایران جنگ کی جانب پیشقدمی نہیں کررہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خود امریکی کانگریس بالخصوص ڈیموکریٹ اراکین اُن کے اس جواز سے مطمئن نہیں ہیں۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر کے جنگی اختیارات کی تحدید ضروری ہوگئی ہے۔    
 ٹرمپ امریکہ کے اب تک کے ناپسندیدہ ترین صدر ہیں۔ عہدۂ صدارت پر متمکن ہوجانے کے بعد ضروری تھا کہ وہ اپنے فیصلوں سے عوام کا دل جیتنے کی کوشش کرتے مگر ایسا لگتا ہے کہ اُن کے پاس کوئی پروگرام ہی نہیں ہے۔ ایرانی جنرل پر حملہ بزدلی کے ساتھ ساتھ اُن کی عاقبت نااندیشی کا بھی مظہر ہے۔ اُن کے حلیف بھی ایران کے معاملے میں اُن کے ساتھ نہیں ہیں۔ برطانوی سربراہ بورس جانسن نے اُنہیں یاد دِلایا ہے کہ ایرانی ثقافتی مراکز پر حملے کی دھمکی بین الاقوامی قوانین (بالخصوص ہیگ کنونشن ۱۹۵۴ء) کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بیان ٹرمپ کے ایک ایسے بیان کا جواب ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ایران نے انتقامی کارروائی کی تو امریکہ ثقافتی مراکز سمیت اُس کے ۵۲؍ ٹھکانوں پر بمباری کریگا۔ 
  بورس جانسن ہی نہیں، یورپی ملکوں نے بھی ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیا ہے۔ اسی لئے مائیک پومپیو کو کہنا پڑا ہے کہ یورپی اقوام اس طرح ساتھ نہیں دے رہی ہیں جس طرح کی اُمید کی گئی تھی۔ ناٹو نے یہ ضرور کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہے مگر جنرل سلیمانی پر کی گئی کارروائی کو اس نے بھی قبول نہیں کیا۔ عوامی سطح پر دیکھا جائے تو امریکی عوام کی بڑی تعداد ٹرمپ کے فیصلوں سے تو کیا خود ٹرمپ سے مطمئن نہیں ہے۔ یہی حال امریکی میڈیا کا ہے۔ اِدھر ایران میں جو چند ایک حکومت مخالف مظاہرے ہورہے تھے وہ بھی ختم ہوگئے اور پورے ملک میں ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے لگ رہے ہیں۔ اُدھر عراقی عوام کے جذبات اور نعرے بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ 
 مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ٹرمپ کے اوسان ہمیشہ خطا رہتے ہیں۔ وہ کسی کی نہیں سنتے۔ اطلاع ہے کہ اُنہیں ایران پر کارروائی کے کئی متبادلات پیش کئے گئے تھے مگر اُنہوں نے جنرل سلیمانی کے قتل کو ’’اپنے شایان شان‘‘ سمجھا۔ مت ماری جاتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ غیر ممکن ہے کہ وہ کوئی عقل کی بات کریں۔ کبھی کی ہی نہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK