• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

خلافت ِ عثمانیہ کے دَور میں ہی یہودیوں نے سازشیں شروع کردی تھیں

Updated: November 03, 2023, 1:39 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

یہودیوں کا یہ گھنائوناخواب برطانیہ کی استعماری حکومت کے ذریعہ شرمندۂ تعبیر ہوا، جب برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر جیمزبالفور نے فلسطین کی قابض ریاست ہونے کی حیثیت سے اسرائیل کے قیام کی حمایت کی۔

A market in an ancient area of ​​Palestine where Palestinian women can be seen shopping. Photo: INN
فلسطین کے ایک قدیم علاقے کا بازار جہاں فلسطینی خواتین کو خریداری کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر:آئی این این

۵۶؍سال پہلے عالم اسلام پر ایک ایسی کاری ضرب لگی جس کا درد ہر باشعور مسلمان کو تڑپاتا ہے اور جس کی ٹیس ہر صاحب ایمان اپنے سینے میں محسوس کرتا ہے، یہ زخم تھا ۷؍ جون ۱۹۶۷ء کو مسلمانوں کے قبلۂ اول بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضہ کا ، افسوس کہ عام مسلمان یہاں تک کہ مسلم ممالک بھی اس ناقابل فراموش واقعہ کو فراموش کرتے جارہے ہیں ، کسی قوم کے لئے سب سے بڑی محرومی کی بات یہ ہے کہ وہ لٹ جائے اور اسے لٹنے کا احساس نہ ہو ، وہ اپنے سرمایۂ غم سے بھی محروم ہو جائے اور محرومی کا احساس بھی اس کے دل و دماغ سے رخصت ہو جائے۔
  علامہ اقبال ؒنے خوب کہا ہے : 
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا 
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا 
بیت المقدس وہ مقدس مقام ہے، جو مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کیلئے یکساں طور پر متبرک ہے ، یہیں سے معراج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کو عالم بالا کا سفر کرایا گیا، پیغمبر اسلام ﷺنے نبوت کے بعد سولہ ماہ سے زیادہ عرصہ تک اسی طرف رُخ کر کے نماز ادا فرمائی اس لئے یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوا ہے کہ بیت اللہ شریف کی تعمیر کے کچھ عرصہ بعد سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے بیت المقدس کی بھی تعمیر فرمائی تھی، حضرت صالح علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت زکریاعلیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت مسیح علیہ السلام اور کتنے ہی انبیاء کرام کی حیاتِ طیبہ اس مبارک مقام سے متعلق رہی ہے۔ شہر بیت المقدس کے قرب و جوار میں بھی مختلف علاقے ہیں جو مختلف پیغمبروں سے منسوب ہیں ، اسی لئے اسلام کی نگاہ میں اس شہر اوراس مسجد کی خاص اورف غیر معمولی اہمیت ہے۔
ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺسے بیت المقدس کے بارے میں دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ حشر و نشر کی سر زمین ہے ، یہاں آؤ اور نماز ادا کرو کہ اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نماز ادا کرنے کے برابر ہے ۔ ان صحابیؓ نے استفسار کیا کہ اگر میرے اندر وہاں تک جانے کی استطاعت نہ ہو؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کم سے کم تیل کا ہدیہ ہی بھیج دو جو وہاں چراغ میں کام آئے۔ (ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۰۴۵) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا : جب حضرت سلیمان علیہ السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ سے دُعا فرمائی۔ اس میں ایک دُعا ایسی حکومت کی تھی جو آپ کے بعد کسی کو میسر نہ آئی اور اس میں ایک دُعا یہ بھی تھی کہ جو اس مسجد میں صرف نماز کے لئے آئے تو اس کے گناہ اس طرح معاف ہو جائیں کہ گویا وہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ آپ ؐنے فرمایا کہ تین دُعاؤں میں سے دو تو مقبول ہو گئی اور مجھے اُمید ہے کہ یہ تیسری دُعا جو مغفرت سے متعلق تھی، وہ بھی مقبول ہوگئی ہوگی۔ ( ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۴۰۶) اور یہ روایت تو حدیث کی متعدد کتابوں میں وارد ہے کہ آپ ؐنے ارشاد فرمایا کہ خاص طور پر تین ہی مسجدوں کیلئے سفر کرنا درست ہے، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔ ( ابن ماجہ ،حدیث نمبر : ۱۴۰۸ - ۱۴۰۷) اس لئے مسلمانوں کو اس مقدس اور متبرک مقام سے ہمیشہ قلبی اورجذباتی تعلق رہا ہے۔
اسلام سے پہلے یہ شہر بار بار تخت و تاراج کیا گیا ، خاص کر چھٹی صدی قبل مسیح، بابل کے حکمراں بخت نصر نے اس شہر اور اس کے مقدس مقامات کی جس طرح اینٹ سے اینٹ بجائی اور ایک لاکھ یہودیوں کو قید کر کے بابل لے گیا، وہ تاریخ کے اہم واقعات میں سے ایک ہے ۔ یہودی جو اپنے آپ کو اس شہر کا اصل وارث سمجھتے ہیں ، صرف تہتر ۷۳ سال ہی اس شہر پر برسر اقتدار رہے ، حضرت عمرؓ کے عہد میں ۶۳۶ء میں بیت المقدس کا علاقہ حضرت عمروبن العاصؓاور حضرت ابو عبیدہ ؓ نے فتح کیا۔ مسلمان چاہتے تھے کہ شہر میں خونریزی نہ ہو اور صلح کی صورت نکل آئے، عیسائیوں نے یہ شرط لگائی کہ خلیفہ المسلمین خود آکر دستاویز پر دستخط کریں ۔ حضرت عمر ؓ نے اسے قبول فرمالیا اور مدینہ میں حضرت علی ؓ کو اپنا قائم مقام بنا کر رجب ۱۶ء میں بیت المقدس تشریف لائے، بیت المقدس سے پہلے ہی جابیہ نامی مقام پر اسلامی لشکر نے حضرت عمرؓ کا استقبال کیا ، وہیں عیسائی رہنما بھی آگئے اور معاہدۂ صلح کی تحریر عمل میں آئی۔ اس معاہدہ کے تحت عیسائی باشندوں کی جان ومال ، مذہبی مقامات، حضرت مسیح کی مورتیوں وغیرہ کی حفاظت کی ضمانت دی گئی؛ بلکہ عیسائی یہودیوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے تھے، حضرت عمرؓ نے ان کی اس خواہش کو بھی قبول فرمایا اور یہودیوں کی الگ آبادی بنائی گئی۔ 
اس کے بعد سے یہاں برابر مسلمان حکمراں رہے یہاں تک کہ گیارہویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں شروع ہوئیں اور۲۳؍ شعبان ۴۹۲ھ کو عیسائی دوبارہ فاتحانہ بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ انہوں نے شہر میں ایسا قتل عام مچایا کہ بچے ، بوڑھے ، جوان اور مرد و عورت کو بلاامتیاز تہہ تیغ کیا گیا ، شہر میں لاشوں کے انبار لگ گئے ! خود مغرب مورخین نے اس خوں آشامی کا اعتراف کیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ صرف ایک دن میں شہر اور اس کے مضافات میں ستر ہزار افراد شہید کئے گئے۔ یہ سفا کانہ رویہ ٹھیک اس کے برعکس تھا، جو حضرت عمرؓ اور مسلمان فاتحین نے عیسائیوں کے ساتھ روا رکھا تھا۔ سقوط بیت المقدس کے اس واقعہ نے پورے عالم اسلام کو بے چین اور بے سکون کر کے رکھ دیا یہاں تک کہ ۱۱۶۹ء میں سلطان نورالدین زنگی جیسے خدا ترس بادشاہ کے ایک کمانڈر مجاہد اسلام سلطان صلاح الدین ایوبیؒ مصرکے تخت اقتدار پر جلوہ افروز ہوئے اور شام کے علاقے فتح کر تے ہوئے ۱۱۸۷ ء میں بیت المقدس کو فتح کیا۔ صلاح الدین ایوبیؒ نے احسان فراموش عیسائیوں کے ساتھ ایسی رحم دلی کا سلوک کیا کہ تاریخ میں اس کی مثال کم ملے گی ؛ چنانچہ خود عیسائی دنیا (جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا تھی) پر اس کا گہرا اثر پڑا، آخر ۹۱؍ سال کے بعد قبۃ الصخرہ پر لگائی گئی سنہری صلیب اُتاری گئی اور اس کی جگہ ’’ ہلال ‘‘ نصب کیا گیا، جب ہی سے ہلال مسلم ملکوں کا شعار سمجھا جانے لگا ۔ یہ ۹۱؍ سال کا عرصہ مسلمانوں کے لئے ایسا تکلیف دہ اورغم انگیز عرصہ تھا کہ پورے عالم اسلام کی آنکھیں بے سکون اور دل بے قرار تھے۔ 
خلافت عثمانیہ ترکیہ کے دور میں ہی یہودیوں نے سازشیں شروع کردی تھیں ؛ لیکن خلیفہ نے کسی قیمت پر یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے کی اجازت نہیں دی، بالآخر مغربی سازشوں سے خلافت عثمانیہ کا سقوط ہوا اور ۱۹۴۸ء میں عالم اسلام کے قلب میں اسرائیل کا خنجر گھونپ دیا گیا ، یہ زخم بڑھتا رہا، یہاں تک کہ ۱۹۶۷ء میں مسلمانوں کا قبلہ اول ان کے ہاتھوں سے جاتا رہا۔ میرے خیال میں پہلی صلیبی جنگ کی شکست اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد مسلمانوں کے لئے یہ سب سے بڑا حادثہ اور سب سے اندوہناک سانحہ تھا کہ اگر اس واقعہ پر آسمان خون کے آنسو بہاتا اور زمین کا سینہ شق ہوجاتا تو بھی باعث تعجب نہ تھا ؛ لیکن آہ ! ہم مسلمانوں کی بے حسی اور بے شعوری کہ ہماری نسلوں نے تو اس واقعہ کو بھی اپنے صفحہ دل سے مٹا دیا ہے اور مسلمان حکمراں اسرائیل سے ایسا کٹا کٹایا اور عاجز و مجبور فلسطین مانگ رہے ہیں کہ شاید کوئی فقیر بھی ایسی الحاح و لجاجت سے دست سوال دراز نہ کرتا ہوگا اور کیوں نہ ہو کہ ’’ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ ِمفاجات ‘‘ !
فلسطین کا مسئلہ امت مسلمہ کیلئے ناموس و وقار کا مسئلہ ہے۔ یہودیوں  کا ایک گروہ صہیونی ہے جو قوم یہود پر غالب ہے۔ صہیون(Zoin) بیت المقدس کے قدیم شہر کی ایک پہاڑی ہے، یہودیوں کا خیال ہے کہ اس پہاڑی پر حضرت دائودعلیہ السلام نے یہودیوں  کیلئے ایک عبادت گاہ بنائی تھی اس لئے اس پہاڑی سے منسوب کرکے یہودیوں نے ۱۸۹۷ء میں ایک خفیہ تحریک شروع کی اوراس کیلئے ڈاکٹر تھیوڈورہرٹزل نے ’’یہودی مملکت‘‘ کے نام سےاپنی کتاب طبع کی اور ایک وسیع اسرائیل کا تصور پیش کیا جس میں نہ صرف فلسطین بلکہ مصر، اردن، مصرکا صحرائے سینا، شام، لبنان، عراق، دریائے نیل، مدینہ منورہ اوراس سے شمال میں بنوقریظہ ، بنونضیراور خیبرتک کا علاقہ شامل ہے۔ یہودیوں کا یہ گھنائوناخواب برطانیہ کی استعماری حکومت کے ذریعہ شرمندۂ تعبیر ہوا، جب برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر جیمزبالفور نے فلسطین کی قابض ریاست ہونے کی حیثیت سے اسرائیل کے قیام کی حمایت کی۔
 عرب حکمرانوں کی بزدلی اور نفاق کی وجہ سے جب فلسطین کا مسئلہ سرد خانہ میں چلاگیا اور پڑوس کی مسلم اور عرب حکومتوں  نے فلسطین کا سودا کرنا شروع کردیا تواس کیلئے فلسطینیوں  کے اندر ایک مزاحمتی تحریک برپاہوئی، جس کو حماس کہتے ہیں ۔ شیخ احمد یاسین شہید نے ۱۹۸۷ء میں اس کی بنیاد رکھی۔ ان کی شہادت کے بعد بھی یہ تنظیم پوری قوت کے ساتھ سرگرم عمل رہی، اس نے اردن کو اپنی پناہ گاہ بنایااور فلسطینیوں کیلئے رفاہی کاموں کی کوششوں سے آغاز کیا، اردن کے بادشاہ شاہ حسین نے بادل نخواستہ اس کو برداشت کیا؛ لیکن جب ان کے بیٹے شاہ عبداللہ دوم اقتدار پر آئے تو وہ بھلااس کو کیسے برداشت کرتے اُنہوں نے حماس کا ہیڈ آفس بند کرادیا اور اس کے بڑے بڑے رہنما قطر کی طرف جلاوطن کردیئے گئے۔ 

خالد سیف اللہ رحمانی
(گزشتہ سے پیوستہ): حماس ایک ایسی تنظیم ہے کہ نہ اس کے پاس خلیج کا پٹرول ہے نہ دنیا کی کوئی اور دولت ہے، نہ یہودی اور عیسائی حکمرانوں  کی محبت کا سرمایہ ہے، جس پر اِن دنوں عالم اسلام فدا ہے؛ البتہ وہ باہر کی طرح اندر سے بھی مسلمان ہیں اور انہوں  نے اسلامی غیرت اور دینی حمیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے، انہوں  نے ترکی اور قطر، جن کو اس وقت عالم اسلام کا سرمایۂ آبرو کہا جاسکتا ہے، میں اپنےسیاسی دفتر کیلئے پناہ گاہ حاصل کرلی ہے؛ لیکن فلسطین کی بودوباش کو نہیں چھوڑا ہے، وہ ایک معاہدہ کے تحت فلسطین میں جو مجبور وبے بس حکومت قائم ہوئی، اس میں بھی شامل ہوئے اور ۲۰۰۶ء کے انتخاب میں شاندار کامیابی بھی حاصل کی مگر امریکہ و اسرائیل سے ’’نباہ‘‘ کے قائل فلسطینی صدر محمود عباس نے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اس کو ماننے سے انکار کردیا، اور مغربی طاقتوں نے اس کی بھرپور تائید کی، اس طرح مغربی کنارہ میں فتح کی اور غزہ پٹی میں حماس کی حکومتیں قائم ہوئیں ۔ حماس نے سخت حصار کے باوجود اپنے شہریوں کیلئے تعلیمی اور ترقیاتی کام بھی کئے اوربہت ہی دور اندیشی کے ساتھ اپنے تحفظ کا انتظام بھی کیا، جس کی مثال اس وقت ہمارے سامنے ہے کہ اسرائیل جیسی طاقتور حکومت کو جس کی پشت پر امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے ممالک کھڑے ہوئے ہیں ، ناکوں چنے چبوارہاہے، ان ہی کوششوں کا حصہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کا وہ حملہ ہے جسے دیکھنے کے دو زاویئے ہیں ، ایک یہ کہ حماس خاطی ہے، دوسرا یہ کہ حماس کا حملہ اپنے دفاع میں ہونے والاحملہ ہے۔ 
 اس میں دو رائے ہوسکتی ہے کہ کیا حملہ کیلئے یہ وقت مناسب تھا؟یاابھی اپنی فوجی طاقت کو بڑھانے اور دُنیا کے مختلف ممالک سے اپنے لئے سیاسی تائید حاصل کرنے کی ضرورت تھی؛ لیکن کیا اس میں بھی دورائے ہوسکتی ہے کہ حماس کا حملہ دہشت گردی نہیں ہے؛ بلکہ یہ ظالم کے خلاف مظلوم کی جدوجہد ہے؟ کیا یہ’’تنگ آمدبہ جنگ آمد ‘‘کا مصداق نہیں ہے؟ کون نہیں جانتا کہ ان کے لئے کوئی راستہ باقی نہیں رہا تھا، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے فیصلوں اور مختلف معاہدات کے باوجود فلسطینی ریاست کے قیام کی بات آگے نہیں بڑھ رہی تھی، اور جو مسلمان عرب حکومتیں ہیں وہ پوری نیازمندی کے ساتھ غلامانہ اور بزدلانہ امریکہ و اسرائیل کے دربار میں حاضر ہوتی تھیں ، اورجی ہاں جی ہاں کہہ کر واپس آجاتی تھیں ، اقتدار کی ہوس نے غیرت و حمیت سے ان کو اس طرح محروم کردیا تھا جیسے سخت گرمی میں بارش کا پانی خشک ہوجاتاہے؛ اس لئے انھوں نے مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے اور اس کی طرف پوری دنیا کو متوجہ کرنے کیلئے یہ قدم اٹھایاہے، اس میں بہت سے فلسطینی بچے، بوڑھے اور عورتوں  کی مظلومانہ شہادت ہوئی ہے؛لیکن اس کے بہت سے فائدے بھی ہوئے۔
 سب سے بڑا فائدہ یہ ہواکہ اس کی وجہ سے فلسطین کا مسئلہ دوبارہ زندہ ہوگیا، اس پر اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور اوآئی سی کی متعدد میٹنگیں ہوئیں ، اورامریکہ وبرطانیہ کی ہزار کوششوں کے باوجود حماس کو دہشت گرد قراردینے کی سازش کامیاب نہیں ہوسکی۔دوسرے: روس اور چین جیسی مشرق کی بڑی طاقتوں نے کھل کر فلسطین کی تائید کی اور فلسطین کے موقف کو صحیح ٹھہرایا۔ تیسرے: ایشیا، افریقہ، یوروپ اور مغرب کے زیادہ تر ملکوں  نے اسرائیل کو ظالم قراردیا، اور مسئلہ فلسطین کے حل پر زور دیا، چوتھے: یہ تصور قائم کیا گیا تھا کہ اسرائیل دنیا کی چوتھی سب سے بڑی دفاعی طاقت ہے، اس پروپیگنڈہ کا شیش محل چور چور ہوگیا؛کیونکہ حماس نے فضائی طاقت، بحری طاقت اورمنظم فوج سے محروم ہونے کے باوجود اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا دیئے اور غزہ سے نکل کر اسرائیل کے کونے کونے میں مؤثر حملہ کرنے میں کامیاب ہوگئے، پانچویں :کم وبیش ۳؍ ہزار اسرائیلی فوج کو واصل جہنم کیا، ۳۰۰؍ سے زیادہ فوجیوں اور پولیس والوں کو قیدی بنایا، جن میں کئی اعلیٰ درجہ کے کمانڈر شامل تھے، چھٹے:بہت بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں  نے جدید ٹکنالوجی کے نظام کو منجمد کردیا اور اس کے بدنام زمانہ جاسوسی کے ادارہ’’ موسا د‘‘کی خفیہ معلومات اور کمپیوٹر کے راز حاصل کرلیے، ساتویں : ۵۰؍ سے زیادہ ٹینکوں کو نذرآتش کیا، جن میں ایسے ٹینک بھی شامل تھے جن کودنیا کا سب سے طاقتور ٹینک کہاجاتاہے، حماس نے اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعہ ایسے میزائل تیار کیے کہ ان کے پرخچے اڑ گئے، آٹھویں : مشرق وسطیٰ میں موساد کیلئے جو کام کرنے والے تھے، ان کی فہرست حاصل کرلی، نویں : اسرائیل کے ۴؍ فوجی ٹھکانوں (بیس) پر حملہ کرکے وہاں سے ہلکے اور اوسط درجہ کےہتھیار اپنے قبضہ میں  لے لئے، دسویں : اسرائیل کے کئی راڈار تباہ کردیئے اورامریکہ کےدیئے ہوئے میزائل شکن نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ کی ناکامی کو ثابت کردیا، گیارہویں : کئی ملکوں  نے اسرائیل کے سفیروں کو نکال دیا اور اس طرح عالمی سطح پر اسرائیل کی تائید و تقویت کو نقصان پہنچایا، بارہویں : اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ مسلمانوں  پر جو آزمائش آتی ہے، وہ مسلمانوں  کی صف میں چھپے ہوئے منافقین کے چہرہ سے پردہ ہٹادیتی ہے، اس جنگ نے ثابت کردیا کہ عالم اسلام میں  قطر، ترکی،ایران کے علاوہ کوئی ملک ایسا نہیں جس کا چہرہ نفاق کے داغ سے پاک ہو، حد تویہ ہے کہ ایک طرف فلسطین میں معصوم بچوں اورعورتوں کا قتل ناحق ہورہاہے اور دوسری طرف بعض مسلم ممالک محفل طرب وعیش سجارہے ہیں ؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پوری دنیا کے عام مسلمانوں کا دل تحریک فلسطین کے ساتھ ہے، شاید ان ہی کی وجہ سے حکمرانوں  کے بدبخت ٹولے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل مل رہی ہے، عجب نہیں  کہ ہم لوگ اپنی آنکھوں سے ان کا حشر دیکھ لیں ، مگر ڈر یہی ہے کہ خدا نخواستہ عذاب الٰہی کے عام اصول کے مطابق گیہوں کے ساتھ گھن بھی نہ پس جائے،تیرھواں :عالم عرب کو مغرب نے کچھ اس طرح غفلت اوربزدلی کا انجکشن دیاہے کہ وہ روح جہاد سے محروم ہوگئے ہیں ، اب تو یہ بزدلی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ان کو اسرائیل اوریہودیوں  کے خلاف بددعاکرنے سے بھی خوف محسوس ہوتاہے،چودہواں :جیسے افغانستان کے جہاد نے پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں  کے دل میں جذبۂ جہاد کی حرارت بڑھادی تھی اوران کے اندر اس یقین کو مستحضر کر دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت امریکہ اور مغرب کی طاقت سے بڑھ کر ہے، اسی طرح حماس نےبھی مسلمانوں  میں اس تصور کو فروغ دیا اورعالم اسلام کو سمجھایاہے کہ کوئی طاقت ناقابل تسخیر نہیں  ہے،یہ صرف مسلمانوں  کو مرعوب کرنے کیلئے پھیلایاہوا ایک پروپیگنڈہ ہے، ایمان ویقین کی تلوار بڑی بڑی طاقتوں کے غرور کو پاش پاش کرسکتی ہے۔
 لوگوں نے اہل غزہ کا یہ منظر بھی سوشل میڈیا پر دیکھا کہ ایک شخص کے پورے خاندان نے جام شہادت نوش کر لیا اور اس نے اعلان کیا کہ کوئی شخص مجھے پُرسہ نہ دے؛ بلکہ مجھے مبارکباد دے کہ میرے خاندان کے اتنے لوگ شہادت سے مشرف ہوئے ہیں ، میں تعزیت کا نہیں مبارکباد کا مستحق ہوں ، یہ منظر بھی دیکھا گیا کہ ایک شخص مٹھائی اس خوشی میں تقسیم کر رہا ہے کہ اس کا پورا خاندان شہید ہوگیا ہے، غزہ کے رہنے والے جو شعب ابی طالب کے بائیکاٹ کی سنت بھی ادا کر رہے ہیں ، اس وقت ان کا حال یہ ہے کہ اگر کسی کو ایک لقمہ بھی ملتا ہے تو وہ اس کو اپنے ساتھیوں میں بانٹ کر کھاتا ہے اور اگر کسی کو ایک گلاس پانی ملتا ہے تو وہ اس میں بھی اپنے ساتھیوں کو شریک کرتا ہے۔ یہ واقعات عہد نبوی کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مقام رفقاء کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلمان مر تو سکتا ہے، مذہب اسلام پر موت نہیں آسکتی۔
 موجودہ دور میں ملکوں اور قوموں کی بڑی طاقت معاشی طاقت ہوتی ہے، یہودیوں نے بھی معاشی طاقت ہی کے واسطہ سے سیاسی اور فوجی طاقت حاصل کی ہے؛ اس لئے جو کچھ بن پڑے ان کو معاشی نقصان پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے، اور اس کی ایک اہم صورت یہ ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور جو مصنوعات مارکیٹ میں مقبول ہیں ، ان کا متبادل لانے کی کوشش کی جائے، سوشل میڈیا پر اسرائیل اور اس کے ہمنواؤں کی کثیر الاستعمال مصنوعات اور ان کے متبادل ہندوستانی مصنوعات کی فہرست آچکی ہے، یہ بہت اہم ہے، اگر اس سے مسلمان فائدہ اُٹھائیں اور اسرائیل اور اسرائیل نواز مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور ہندوستانی مصنوعات کا استعمال کریں یا خود بائیکاٹ کی جانے والی اشیاء کا متبادل مارکیٹ میں لائیں تو اس سے دوہرا فائدہ ہوگا، ظالم طاقتوں کو اپنی طاقت کے مطابق نقصان پہنچا کر ایک شرعی فریضہ کی ادائیگی ہوگی، دوسرے: اپنے ملک اور سماج میں صنعت کو فروغ حاصل ہوگا اور مسلمان بھی صنعت و حرفت کے میدان میں آگے بڑھ سکیں گے۔
 ا س صورت حال کا ملت اسلامیہ کیلئے جو سبق ہے،وہ یہ ہے کہ مسلمان کسی بھی صورت میں مسئلہ فلسطین کوفراموش نہ کریں ،جیسے یہودیوں نےمیڈیاکے ذریعہ اپنی مظلومیت کا جھوٹ گڑھ گڑھ کر پوری دنیا کوسنایاہے، اوران کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی ہے، اسی طرح ہمیں چاہئے کہ اپنے دستیاب وسائل کے ذریعہ مسئلہ فلسطین کو زیادہ سے زیادہ ملکی و عالمی سطح پر نمایاں  کریں ، اسرائیل کے مظالم اورفلسطینیوں کی مظلومیت کو دنیا پر واضح کریں ،اوراس طرح مسجد اقصی کی اہمیت اور اس کے حصول کے جذبہ کو مسلمانوں کے دلوں میں  تازہ رکھاجائے۔
 بارالہا! مسلمانان فلسطین کی مدد فرما،ملت اسلامیہ کو مسجد اقصیٰ واپس دلا، اور مسلمان حکمرانوں کو ایسی غیرت عطا فرماکہ مسجد اقصیٰ کا زخم ان کی کروٹوں کو بے سکون کردے، ان کو ہمت وحوصلہ عطافرما، اور اے اللہ! ہم سب کو اپنی اپنی طاقت و صلاحیت کے مطابق فلسطینی کاز کو مدد پہنچانے کا جذبہ اوراس کی صلاحیت وطاقت عطافرما۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK