ربیع الاوّل کی آمد اور عشق نبویؐ کے تقاضے

Updated: September 30, 2022, 3:20 PM IST | Maulana Mohammad Salman Bijnori

دراصل جو چیز ضروری ہے وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺکے حقوق کو پہچاننا اور ان کی ادائیگی کیلئے سارے سال بلکہ ساری زندگی محنت کرنا ہے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

ربیع الاوّل کا مہینہ آگیا ہے اوراس ماہ مبارک میں رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ کی مناسبت سے اظہار عقیدت و محبت کا سلسلہ بھی جاری ہوچکا ہے۔ اگر صرف سیرت کے موضوع پر منعقد ہونے والے جلسوں کا جائزہ لیاجائے تو بلا خوف تردید کہاجاسکتا ہے کہ دنیامیں کسی موضوع پر اتنی بڑی تعداد میں بیانات اور جلسے نہیں ہوتے ہوں گے  جتنے سیرتِ نبویؐ کے موضوع پر ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بلاشبہ تقاضائے ایمان؛ بلکہ شرط تکمیل ایمان ہے، جس کااظہار بھی لازم ہے؛ لیکن اس کیلئے سال کے متعینہ ایام میں جلسے جلوس یا دیگر مظاہر عقیدت کا اہتمام قطعاً کافی نہیں ہے اور اگر خلاف سنت ہو تو درست بھی نہیں ہے؛ بلکہ دراصل جو چیز ضروری ہے وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کو پہچاننا اور ان کی ادائیگی کیلئے سارے سال بلکہ ساری زندگی محنت کرنا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم لوگوں نے  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کا موضوع   بڑی حد تک نظر انداز کررکھا ہے، جبکہ قرآن و حدیث میں بڑی اہمیت کے ساتھ اس کو بیان کیاگیا ہے اور علماء امت نے کتب حدیث و سیرت میں بھی اس موضوع کا حق ادا کیا ہے چنانچہ اس موضوع پر تسلسل کے ساتھ کتابیں لکھی ہیں۔ اس سلسلے میں جس کتاب کو بجا طور پر شہرت دوام حاصل ہے وہ قاضی عیاض مالکیؒ متوفی ۵۴۴ھ کی ’’الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہے۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ کتاب اپنے موضوع پر سند اور مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد بھی اس موضوع پر کئی علمی کام سامنے آئے ہیں، بالخصوص ماضی قریب میں جب دشمنان اسلام کی جانب سے توہین رسالت کے واقعات پے درپے پیش آئے تو علماء کرام نے امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے حقوق کی ادائیگی پر نئے سرے سے متوجہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ظاہر ہے کہ ان سطور میں اس مبارک ووسیع موضوع پر کسی تفصیلی اظہار خیال کا امکان نہیں ہے؛ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موضوع کی کتابوں میں جو حقوقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کئے گئے ہیں ان میں سے نمایاں حقوق کا تذکرہ اجمالی انداز سے کردیا جائے۔ ان حقوق کی تعداد اور ترتیب مختلف کتب میں الگ الگ ہے اور قرآن وحدیث میں بھی یہ متفرق طور پر بیان ہوئے، سردست ان میں سے دس حقوق کی فہرست پیش کی جاتی ہے:
الإیمان بہ:  یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانا۔ یہ آپؐ  کا سب سے پہلا حق ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپؐ اللہ رب العزت کی طرف سے جو کچھ بھی لے کر آئے اس کے ہر ہر جز کی تصدیق کرنا اور اس پر یقین رکھنا، نیز آپؐ کی رسالت کوساری دنیا کے لئے عام سمجھنا اور ذرہ برابر بھی شک و شبہ کے بغیر آپ ﷺ کو آخری پیغمبر تسلیم کرنا۔
محبتہ :  اس فہرست کا دوسرا حق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا کے تمام لوگوں سے، اپنے والدین سے، اپنی اولاد سے اور خود اپنی ذات سے جو محبت ہے اس سے بڑھ کر آپ  ﷺسے محبت کرنا۔ اس کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا ۔
اتباعہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنا یعنی اپنی زندگی کے ہر عمل میں طریقۂ نبویؐ کو اختیار کرنا، اپنی ہر خواہش کو شریعت کے تابع کردینا اور عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرت میں اپنے آپ کو سنت  ِ نبویؐ کے سانچے میں ڈھال لینا۔
توقیرہ:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب کرنا، یہ بھی اُمت پر آپ کا حق ہے اور یہ بھی قرآن وحدیث میں وضاحت سے بیان کیاگیا ہے۔  اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِ اقدس  اور آپ ﷺ سے نسبت رکھنے والی تمام شخصیات اور اشیاء کا دل سے احترام داخل ہے جس کی مثالیں حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے عملی نمونوں میں نمایاں ہیں۔
 الصلاۃ علیہ:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا، یہ بھی آپ ﷺ کا ایک اہم اور لازمی حق ہے جس کی تاکید قرآنی آیات سے لے کر احادیث شریفہ تک پرزور انداز میں بیان کی گئی ہے۔
الذب عنہ:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنا: یہ بھی آپ ﷺ کا ایک لازمی حق ہے بالخصوص ان اوقات میں جب دشمنانِ دین و انسانیت کی جانب سے آپ ﷺ کی اہانت کا جرم سامنے آئے تو اس کے جواب میں، دوسرے مذہبی پیشوائوں کے ساتھ بے ادبی کے بغیر، نہایت مثبت طریقے سے آپ ﷺ کا دفاع کرنا اس امت کا فریضہ ہے۔
 النصر لدینہ:  آپ ﷺ کے دین کی مدد کرنا، اس میں دین کی تائید و تقویت اور نشر واشاعت کی تمام کوششیں شامل ہیں۔
محبۃ أہل بیتہ:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے محبت کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اہل بیت اطہار یعنی آپ ؐ کی ذریت  ِمطہرہ اور ازواج ِمطہرات سے محبت بھی آپ ﷺکا حق اور ایمان کا تقاضا ہے اور اس میں بھی کوتاہی کرنا، بڑی محرومی کی بات ہے۔
محبۃ صحابتہ:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرامؓ سے محبت کرنا، یہ بھی آپؐ ہی کے حقوق میں آتا ہے؛ اس لئے کہ حدیث کی رُوسے صحابہؓ کی محبت بھی حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد پر ہوتی ہے اور صحابہ سے دل میں بغض یا میل رکھنا، آپ ؐ سے بغض کی علامت ہے۔
موالاۃ أولیائہ بغض أعدائہ:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں سے رشتہ استوار رکھنا اور آپ کے دشمنوں سے بغض رکھنا۔ ایک بار پھر عرض ہے کہ آپ ﷺسے محبت کرنے والوں کی بنیادی پہچان اتباعِ سنت ہے۔
 یہ دس امور کی ایک مختصرسی فہرست ہے جو اس وقت اختصار کے ساتھ پیش کی گئی ہے، ان میں ہر ایک جزو پر قرآن و حدیث کے واضح دلائل موجود ہیں۔ امت مسلمہ اگر اپنے حال ومستقبل کو درست کرنے اور رکھنے کے معاملے میں  واقعی سنجیدہ ہے تو اسے اپنی خواہشات یا رسوم ورواج کو خیرباد کہہ کر سنت کے اس راستے پر آنا چاہئے اور اپنے اور انسانیت کے سب سے بڑے محسن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا حقوق کی ادائیگی کے لئے کمربستہ ہوجانا چاہئے۔ یاد رہے کہ محبت کا زبانی اظہار کافی نہیں، عملی مظاہرہ بھی ضروری ہے جس کیلئے آپؐ کے حقوق کو جاننا شرط اول ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK