بیربھوم سانحہ اور سیاست

Updated: March 24, 2022, 11:19 AM IST | Mumbai

رام پور ہاٹ (ضلع بیربھوم، مغربی بنگال) کی واردات نہایت سنگین اور وحشتناک ہے جس میں ۸؍ افراد زندہ جل گئے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

رام پور ہاٹ (ضلع بیربھوم، مغربی بنگال) کی واردات نہایت سنگین اور وحشتناک ہے جس میں ۸؍ افراد زندہ جل گئے۔ چونکہ یہ واردات، سیاسی چپقلش اور رسہ کشی کے سبب ترنمول کانگریس کے نائب گرام پردھان کے قتل کے فوراً بعد میں رونما ہوئی اس لئے الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ ترنمول کے کارکنان نے انتقاماًیہ واردات انجام دی ہے۔ ایسا ہوبھی سکتا ہے اور نہیں بھی، مگر جو کچھ بھی ہوا ہے وہ نہایت افسوسناک، قابل مذمت اور انسانیت سوز ہے۔ اس کی غیر جانبدارانہ تفتیش ازحد ضروری ہے تاکہ شرپسندوں کو، جو اس واردات کے ذمہ دار ہیں، قانون کے دائرے میں لاکر کیفر کردار تک پہنچایا جائے مگر یہ دیکھ کر مزید افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں انسانی جانوں کے اتلاف کا کوئی دلدوز واقعہ بھی سیاست کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اب اس پر جم کر سیاست ہورہی ہے۔  مرکز کی حکمراں جماعت، جسے مغربی بنگال انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، ریاستی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اس کی جانب سے ممتا بنرجی کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے اور ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ بھی۔ ممتا بنرجی کے خلاف الیکشن لڑنے والے سدھیندو ادھیکاری کی قیادت میں ایک وفد نے بھی جائے واردات تک پہنچنے کی کوشش کی۔ دراصل سیاست ہی اتنی جلد بازی پر مجبور کرتی ہے ورنہ مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعہ ممتا حکومت سے طلب کی گئی واقعہ کی رپورٹ اور ریاستی حکومت کے ذریعہ شروع کروائی گئی جانچ کی رپورٹ کا بھی انتظار کرنا چاہئے تھا۔ اس دوران کولکاتا ہائی کورٹ نے واقعہ کی سنگینی کے پیش نظر ’’خود دائر کردہ‘‘ (سو‘موٹو) مقدمہ کی سماعت شروع کی اور کئی اہم اقدامات کئے چنانچہ ممتا بنرجی کے سیاسی مخالفین کو عدالتی چارہ جوئی کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے تھا۔ یہ ہوئی ایک بات۔  دوسری بات یہ ہے کہ خود ممتا بنرجی کو، جنہیں ماضی میں بھی کئی بار تشدد کی وارداتوں کیلئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اپنے انتظامیہ کے ساتھ اتنی سختی برتنی چاہئے کہ جس حد تک بھی ممکن ہو تشدد کو روکا جائے۔ یہ کہنا کہ ’’میں جواز نہیں پیش کررہی ہوں مگر ایسے (بیربھوم جیسے) واقعات تو یوپی، بہار اور گجرات میں عام طور پر رونما ہوتے رہتے ہیں‘‘ بالکل بھی درست نہیں ہے۔ ۲۰۲۱ء کے مغربی بنگال الیکشن میں ترنمول کانگریس کی شاندار فتح کے بعد جو تشدد رونما ہوا، اُس کیلئے بھی برسراقتدار جماعت کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ ابھی زورِ تنقید کم بھی نہیں ہوا تھا کہ اتنی بڑی واردات رونما ہوگئی ۔ تشدد کو خواہ وہ کوئی چھوٹی واردات ہو یا بیربھوم جیسی بڑی، تب تک روکا نہیں جاسکتا جب تک ریاستی انتظامیہ بالخصوص پولیس انتظامیہ مکمل غیر جانبداری کے ساتھ سختی جیسی سختی نہ برتے اور اس کا ایک ہی مقصد ہو ریاست کو تشدد سے پاک کرنا تاکہ سیاسی مخالفین کو موقع نہ ملے جو ویسے بھی ممتا بنرجی سے خار کھائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں ترنمول لاکھ کہے کہ بیربھوم کی واردات، واردات نہیں حادثہ ہے اور فوت ہونے والے لوگ، جو ایک کو چھوڑ کر سب آپس میں رشتہ دار ہیں، ایک ہی کمرے میں تھے جس میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی، کوئی نہیں سننا چاہے گا کیونکہ یہ سیاسی اعتبار سے سنسنی خیز اور سیاست کیلئے نہایت کارآمد موضوع ہے۔ بیربھوم کا باگوٹی گاؤں جہاں یہ اموات ہوئیں، سیاسی طور پر کافی حساس بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہاں ترنمول ہی کے دو گروپ ہیں۔ ایسے گاؤں اور ضلع پر تو حکمراں جماعت کی خاص نظر رہنی چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK