لفظوں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے

Updated: June 27, 2020, 10:29 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

دور حاضر بھلے ہی ڈجیٹل دور کہلاتا ہو مگر اس میں بھی لفظ کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے باوجود لفظ کے بہتر استعمال کی خواہش ختم ہوگئی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ لفظ جوڑنے کے بجائے توڑنے اور محبتوں کو عام کرنے کے بجائے نفرت پھیلانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

دوشنبہ کو سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ہند چین تنازع سے متعلق جو مشورے دیئے اُن میں سے ایک کا مفہوم یہ تھا کہ مودی الفاظ کے مضمرات (اِمپلی کیشن) پر خاص توجہ دیں تاکہ پڑوسی ملک،جو دشمنی پر آمادہ ہے، اُن کے الفاظ کو اپنے موقف کی تائید کیلئے نہ استعمال کرے۔ اس بیان کو بنیاد بناکر مجھے کوئی سیاسی تبصرہ نہیں کرنا ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اس سے لفظ کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لفظ بے جان ہے۔ کبھی کسی لغت سے ازخود باہر نہیں آیا۔ کبھی چلتا پھرتا بھی نظر نہیں آیا۔ کبھی کسی کو نقصان پہنچاتا ہوا بھی دکھائی نہیں دیا۔ کبھی کسی سے لڑتا بھڑتا بھی محسوس نہیں ہوا۔ اس کے باوجود اس میں اتنی جان ہے کہ چاہے تو جان ڈال دے۔ چاہے تو جان نکال لے۔ چاہے تو جان جلا دے۔ چاہے تو جان اُلجھا دے۔ چاہے تو جان بچا لے۔ چاہے تو اس کی وجہ سے کسی کی جان میں جان آجائے۔ یاد کیجئے بادشاہوں کے دربار میں کچھ کہنے کی جرأت کرنے والا پہلے ہی کہہ دیتا تھا کہ ’’جان کی امان پاؤں تو عرض کروں !‘‘ لفظ کی یہی خصوصیات نہیں ہیں ۔ اس کی ایک بڑی خصوصیت اس کا تضاد ہے۔ لفظ شائستہ بھی ہوتا ہے ناشائستہ بھی۔ عزت افزائی کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے اور بے عزت کرنے کیلئے بھی۔ لفظ پھول بھی ہے کانٹا بھی۔ شبنم بھی ہے شعلہ بھی۔ یہ بامعنی بھی ہوتا ہے اور بے معنی بھی۔ انسان سے انسان کے رابطے کو یقینی بھی بناتا ہے اور انسان سے انسان کا رابطہ توڑنے کے بھی کام آتا ہے۔فکر کو مہمیز بھی کرتا ہے اور فکر کو اُلجھاتا بھی ہے۔ اس میں جوہرسے زیادہ طاقت ہے مگر یہ نہایت نحیف اور کمزور بھی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ ’’بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ‘‘ کے مصداق بولتے چلے جاتے ہیں مگر الفاظ اُن کا ساتھ نہیں دیتے۔ اُنہیں بے توقیر کردیتے ہیں ۔ اسی طرح کسی کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والا بھی الفاظ کو بے محابا خرچ کرنے کے باوجود اپنے ممدوح کی عزت افزائی کا نہیں بلکہ اس کی اور اپنی ذلت کا سبب بن جاتا ہے۔ اس تضاد مزاجی کے باوجود لفظ کا پیغام بہت صاف اور واضح ہے کہ اُسے حسب ضرورت، سمجھ کر سمجھانے کیلئے استعمال کیا جائے، اس سے لوگوں کی دلدہی اور تالیف قلب کا کام لیا جائے، اُنہیں خوشگوار احساسات سے دوچار کیا جائے، اُن کی صبحوں کو نور اور شاموں کو سرور عطا کیا جائے اور اُن کے دلوں کی ترجمانی کا ذریعہ بنایا جائے۔ لفظ اُس وقت سے ہے جب دُنیا نہیں تھی اور اُس وقت بھی رہے گا جب دُنیا نہیں رہ جائیگی۔ یہ ندی کے بہتے پانی کی طرح ہے جس کے قریب ٹھہر کر انسان اپنی پیاس بجھاتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے چنانچہ جب تک دُنیا میں رہتا ہے لفظ کے ذریعہ اظہار کی اپنی ہر مراد پوری کرتا ہے مگر ایک وقت آتا ہے جب اس کا اور لفظ کا ناطہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تب لفظ رہ جاتا ہے انسان گزر جاتا ہے۔ اسی لئے سیکھے ہوئے ہر لفظ کو ایک امانت کی طرح برتا جائے تو لفظ انسان کے کام آتا ہے، اس کی ترجمانی کا ذریعہ بنتا ہے، خیالات کو ترسیل کی صلاحیت بخشتا ہے، عزت بڑھاتا ہے اور دل پزیری کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ 
 مگر، کچھ تو اہل سیاست نے لفظ کو رُسوا کیا اور اسے نفرت کی فصل اُگانے، سماج کو توڑنے اور دلوں میں اضطراب پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا اور کچھ سوشل میڈیا اس کے ذریعہ گمراہی کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ لفظ کی ایسی بے حرمتی پر سماج کو جس طرح کا ردعمل ظاہر کرنا چاہئے تھا وہ اس نے نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اہل سیاست لفظ کے بے دریغ اور منفی استعمال کے عادی ہوتے جارہے ہیں ۔ ہر انتخابی مہم میں وہ لوگ بھی جو لفظ کو سوچ سمجھ کر نہیں برتتے، ’’بات چیت کا اِستر‘‘ گر جانے کی شکایت کرتے ہیں ۔ اسی طرح، سوشل میڈیا پر آپ دیکھتے ہوں گے کہ بہت سے لوگ بے سوچے سمجھے لفظوں کا استعمال کرکے یا تو پشیمانی مول لیتے اور معافی مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں یا ہٹ دھرمی کے ذریعہ اپنا پول خود کھولتے ہیں ۔ وہاٹس ایپ وغیرہ کے بارے میں سنا جاتا ہے کہ نوجوان ایسی بے تکلفانہ گفتگو کرتے ہیں کہ استعمال ہونے والے الفاظ کو قوت گویائی مل جائے تو وہ گھر کے بڑوں اور سماج کے ذمہ داروں کے پاس آدھمکیں اور اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کریں کہ آپ انہیں روکتے ٹوکتے کیو ں نہیں ؟
 یہ طرز عمل نوجوانوں تک محدود نہیں ۔ بڑے بھی سوشل میڈیا پر اتنے ’’بے باک‘‘ ہوجاتے ہیں کہ منشی انور حسین تسلیم دوبارہ حیات پاجائیں تو متحیر ہوں کہ اُنہیں تو کوچہ ٔجاناں والوں ہی سے شکایت تھی کہ وہ اُنہیں ’’اِدھر آبے ابے او چاک گریباں والے‘‘ کر پکارتے تھے، یہاں تو ایک سے بڑھ کر ایک گستاخ بیٹھا ہوا ہے جو لفظ کی امانت میں خیانت پر خیانت کئے جاتا ہے اور اپنے اس طرز عمل کو ذریعۂ شہرت سمجھتا ہے۔ جو لوگ ڈپریشن کا شکار ہوکر انتہائی قدم اُٹھانے پر خود کو مجبور پاتے ہیں اُن کے ڈپریشن کی کئی وجوہات میں سے ایک وہ الفاظ بھی ہیں جو اُن کے آس پاس کے لوگوں نے اُن کیلئے استعمال کئے اور اُن کی مایوسی میں اضافہ کیا۔
  جس طرح انگریزی میں خوشگوار احساس جگانے والے الفاظ یا حوصلہ افزائی کے الفاظ کا استعمال کم ہوتا جارہا ہے اسی طرح اپنے معاشرے پر بھی نظر ڈالئے اور دیکھئے کہ کتنے الفاظ تھے جو کھوگئے۔ جب کوئی کہتا تھا کہ ’’جناب عالی تشریف لائیے‘‘ تو ایسا لگتا تھا جیسے سرخ قالین بچھ گیاہو اور میزبان گھر کی دہلیز پر سر جھکائے کھڑا ہو۔ اب ایسے تمام الفاظ کا استعمال بہت بڑا گناہ سمجھا جانے لگا ہے۔ عرصہ ہوا کہ اس مضمون نگار نے جناب عالی، حضور والا، سلامت رہئے، شاباش، آپ کا اقبال بلند ہو، آپ کی عمر دراز ہو جیسے الفاظ نہیں سنے۔ دیدہ و دل فرش راہ کرنے کا دور گیا تو لوگ دیدہ و دل کے معنی تک بھول گئے اور اب یہ بھی نہیں جانتے کہ نظر کو تازگی اور دل کو راحت بخشنے والی چیزوں میں الفاظ کا بڑا دخل تھا جو اَب نہیں ہے۔
  اب تو بزرگوں کی دُعاؤں میں بھی وہ رچاؤ اور طاقت نہیں رہ گئی ہے جو پہلے تھی۔ نہ تو الفاظ ہیں نہ ہی وہ دست شفقت ہے جو سر پر پھر جاتا تھا تو جسم و جاں میں تازگی و توانائی آجاتی تھی۔ یہ سب اس لئے ہورہا ہے کہ لفظوں کے استعمال میں جرأت زیادہ مروت کم، اہانت زیادہ محبت کم اور بے تعلقی زیادہ تعلق پروری کم رہ گئی ہے۔ 
 لفظوں پر اتنا بُرا وقت شاید پہلے کبھی نہ آیا ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK