اسلام میں علم کا تصور

Updated: May 28, 2021, 6:36 PM IST | Dr. Obaid-ur-Rehman Nadvi

اس تصور میں یہ شامل ہے کہ کچھ علوم خدا کی طرف سے پیغمبر ﷺ پر قرآن کے واسطہ سے وحی کئے گئے ہیں جو اخلاقیات واعتقادات کے لوازمات پر مشتمل ہوتے ہیں اور بعض علوم انسان کو اس کی کوشش سے حاصل ہوتے ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ماقبل اسلام علم پر کم توجہ دی جاتی تھی۔ یہ پیغمبر محمد ﷺ ہی تھے جنہوں نے زندگی کے حقائق کو سمجھنے کے لئے علم کا استعمال بطور ایک لازمی وسیلہ کے کیا۔ پیغمبر محمد ﷺ پر پہلی وحی ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق‘‘ (پڑھو اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) تھی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ لفظ ’’قرآن‘‘ کا مطلب خود تلاوت، خطاب اور گفتگو ہے۔ جہاں تک پیغمبر محمد ﷺ کی احادیث کا تعلق ہے تو حدیث کی ہر جلد میں ایک باب ’’باب العلم‘‘ (تعلیم وتعلم کا خزانہ )کے نام سے ہوتاہے۔ ایک اندازہ کے مطابق لفظ ’’علم‘‘ کا استعمال قرآن مجید میں سات سو پچاس بار ہوا ہے۔
قرآن کے مطابق ہر علم کا ذریعہ خدا ہے اور اسی نے انسان کو علم عطا کیا ہے۔ کچھ علوم خدا کی طرف سے پیغمبر ﷺ  پر قرآن کے واسطہ سے وحی کئے گئے ہیںجو اخلاقیا ت واعتقادات کے لوازمات پر مشتمل ہوتے ہیںاور بعض علوم انسان کو اس کی کوشش سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں وہ علوم شامل ہوتے ہیں جو طبیعاتی مظاہر سے متعلق ہوتے ہیں۔
مسلم فلفسیوں کے یہاں علم کی تعریف: ابن باجہ (فلسفی، طبیب، ریاضی داں) کے نزدیک علم دو طرح کا ہوتا ہے: (۱)ایسا علم جس کی بنیاد ثبوت پر ہو۔ (۲)  ایسا علم جو وحی اور مذہبی عقیدت کے واسطہ سے براہ راست تجربہ پر مبنی ہو۔ صوفیاء کا حاصل کردہ علم مذہبی عقیدت سے حاصل ہوتاہے جبکہ علم نبوت خدا کی طرف سے وحی ہوتاہے۔
فارابی نے علم کی تقسیم تطبیقی اور نظری کے طور پر کی ہے۔مؤخر الذکر علم روح کو کمال حاصل کرنے میں معاون ہوتاہے اور اول الذکر کا تعلق سلوک و برتاؤ سے ہوتاہے۔
امام  غزالیؒ کے نزدیک علم دو طرح کا ہوتاہے یعنی الہامی علم اور ایسا علم جو عقلی جدوجہد سے حاصل ہوتاہے۔
الہامی علم سے روح کو کمال حاصل ہوتاہے اور تجربہ، مشاہدہ اور عقلی جدوجہد سے حاصل ہونے علم سے سائنس کی ترقی ہوتی ہے۔
علامہ فخر الدین رازی اپنی کتاب ’’جامع العلوم‘‘ میں اسلامی علوم کی تقسیم و تعریف بیان کرتے ہیں۔ مذہبی علوم میں وہ الٰہیات، فقہ، منطق ، قرآن اور حدیث کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر وہ لسانی علوم جیسے قواعد، نحو، علم صرف، علم عروض اور شعر کی بات کرتے ہیں۔وہ ان علوم کونقلی یا روایتی علوم کہتے ہیں۔ علم کی دوسری شاخ عقلی (مبنی بر عقل) ہوتی ہے۔ ان علوم میں طبعی فلسفہ، طبعیات، تشریحات اعضاء، کیمیا، علم مناظریات اور موسیقی شامل ہوتے ہیں۔
ابن خلدون علم کی دو تقسیم یعنی علوم طبعیہ یا عقلیہ اور علوم نقلیہ کرتے ہیں۔ اول الذکر کی بنیاد مشاہدہ اور استخراج ہوتی ہے اور مؤخر الذکر وحی پر منحصر ہوتاہے۔ علوم عقلیہ میں منطق،  تشریحات اعضاء، ریاضی، طبعیاتی اور حیاتیاتی علوم وغیرہ اور علوم نقلیہ میں قرآن، حدیث، فقہ، کلام، الٰہیات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
اسلام کے مطابق بہترین علم:  خدا کا عطاکردہ علم بذریعہ وحی یعنی قرآن بہترین علم ہوتاہے۔ قرآن خدا کی طرف سے مکمل اور قطعی وحی ہے اس لئے یہ دنیاوی معاملات میں انسان کے لئے مکمل ہدایت ہے نیز اس کی نجات کا سامان ہے۔ لہٰذا اس کے سوا کوئی علم نہیں جس کی بنیاد قرآن پر ہو جس سے آدمی کی ہدایت ہوسکتی ہو۔ قرآن علم کا سمندر ہے۔ پیغمبر محمد ﷺ ، جن پر قرآن نازل ہوا، کی حیات ِ مبارک اور تعلیمات  قرآن کی سب سے مکمل ترجمان ہیں۔ اس لئے پیغمبر کی زندگی اور آپؐ کے ارشادات (حدیث) مسلمانوں کے لئے حقیقی ہدایت ہیں۔ لہٰذا قرآن، حدیث، شریعت الٰہی علم کے لازمی عناصر ہیں، ان کا حصول ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ خدا سے عقیدت عبادت کے واسطہ سے قرآن و حدیث کے ذریعہ حاصل شدہ علم کا عملی پہلو ہے۔
دوسرے قسم کا علم سائنس کا علم ہوتاہے۔  مسلمانوں کو انہیں بھی حاصل کرنا چاہئے۔ بہرحال، پہلے علم کی تلاش اس لئے لازمی ہے کہ یہ   انسان اور خدا کے مابین حقیقی تعلق کا انکشاف کرتاہے۔ اس علم کو  دوسرے علم کی تلاش کے لئے بنیاد اور اساس بننا چاہئے۔اگر دوسرے قسم کا علم بغیر پہلے علم کے حوالہ کے حاصل ہوتاہے تو اس سے تذبذب پیدا ہوگا اوروہ شک و ارتیاب پیدا کرے گا۔ اس حقیقت کی وجہ سے مسلم فلسفیوں نے قرآن و حدیث پر مبنی علوم کو تمام مسلمانوں کے لئے ضروری قرار دیا ہے تاکہ وہ  سائنسی علوم کے ساتھ بھی انصاف کریں۔  
پیغمبر ﷺ کا ارشاد ہے:  ’’علم حاصل کرنا ہرمسلمان مردعورت پر فرض ہے۔‘‘ آپؐ کا مزید ارشاد ہے:  ’’علم حاصل کرو، کیونکہ جو اللہ کے راستہ میں علم حاصل کرتاہے وہ تقویٰ کا عمل کرتاہے ، جو اس کی بات کرتاہے وہ خدا کی تحمید کرتاہے، جو اس کی تلاش کرتاہے اللہ کی تمجید کرتاہے، جو اس کی تلقین کرتاہے وہ صدقہ دیتاہے، اور جو اس کا استعمال مناسب مقام پر کرتاہے وہ خدا سے عقیدت کا عمل کرتاہے۔ علم علم والے کو  اس بات کا اہل بناتاہے کہ وہ ممنوع ومباح کے درمیان فرق کرے؛ یہ بہشت کا راستہ روشن کرتاہے؛ یہ ریگستان میں ہمارا دوست ہوتاہے، تنہائی میں ہمارا سماج ہوتاہے، دوستوں کی عدم موجودگی میں ہمارا ساتھی ہوتاہے؛ یہ ہمیںخوشی دیتاہے؛ یہ مشکل میںہمیں سہارادیتاہے؛ دوستوں کی رفاقت میں یہ ہمارا گہنا ہوتاہے اور  دشمنوں کے مقابلہ میں ہماری زرہ ہوتاہے۔ علم کے ذریعہ بندۂ خدا خوبی کی بلندی اور باعزت مقام تک پہنچتاہے، اس دنیا کے فرمانرواؤں سے رابطہ قائم کرتاہے اور آخرت میں اوج مسرت حاصل کرتاہے۔
علمائے اسلام کے سرخیل ابن خلدون  فرماتے ہیں:  ’’علم تین بنیادی وجوہات کی بنا پر لازمی ہے:  یہ نوع انسانی کے مابین تعاون کا راستہ ہموار کرتاہے۔ انسان کی ملنساری ایک ایسی حقیقت ہے جس پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ زندگی میں کچھ بھی تنہارہ کر نہیں کیاجاسکتا، صرف علم ہی انہیں مختلف موقعوں پر ایسے تعاون کے مقصد اور فطرت کے سمجھنے میں معاون ہوتاہے۔ دوسرے زندگی کے راستے متعدد سخت معاملات میں منتشر ہوتے ہیں۔ انسان کو علم کی سخت ضرورت پڑتی ہے جس سے وہ اچھے اور بُرے کے درمیان فرق کرے تاکہ و ہ دوسرے کو نظرانداز کرسکے اور پہلے کو اختیار کرسکے۔ اور آخری، علم وقت بچاتاہے اور متعدد ناقابل تسخیر زندگی کے مسائل حل کرنے کے لئے انسانی قویٰ میں اضافہ کرتاہے۔‘‘
یہ بدبختی کی بات ہے کہ ہم اس عظیم جوہر کی طرف کم توجہ دے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرہ  میں خاص طور سے مسلمانوں میں جاری تعلیمی صورتِ حال کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ تعلیم کے تعلق سے والدین اپنے بچوں کی تعلیمی اعتبار سے تربیت کرنے میں مجرمانہ لاپرواہی برت رہے ہیں۔ والدین کی یہ لازمی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں میں بچپن ہی سے تعلیم کا چلن عام کریں۔
 درحقیقت یہ ایک ایسا جوہر ہے جو بیداری پیدا کرتاہے، دماغی گوشوں کی ترقی میں معاون ہوتاہے اور اس بات کا اہل بناتاہے کہ انسان اچھے اور بُرے کے درمیان فرق کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK