Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلامتی کونسل کی منتخبہ نشست اور ہماری کدو کاوش

Updated: August 02, 2026, 11:47 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

یہ نشست غیر مستقل اراکین کی نشست سے مختلف ہے جس کی تفصیل مضمون میں درج کی گئی ہے۔ کیا یہ ہمیں حاصل ہوسکتی ہے اور کتنے ممالک ساتھ دیں گے اس کو سمجھنا ضروری ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مادرِجمہوریت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل مگر منتخبہ نشست کی دعویدار ہے۔ غیر مستقل اس لئے کہ یہ دو سال کیلئے ہوتی ہے اور منتخبہ اس لئے کہ ۱۸۸؍ رُکنی کونسل کی ۱۰؍ سیٹیوں کیلئے وہ انتخابی عمل سے گزرتے ہیں جو ادارہ کے ۵؍ مستقبل ممبران کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں۔ ان ۱۰؍ سیٹوں کیلئے چنے گئے ممالک ۵؍ مستقبل ممبران کے ساتھ بیٹھنے کا شرف تو حاصل کرلیتے ہیں مگر ان کے پاس ویٹو پاور نہیں ہوتا یعنی اگر چین، امریکہ، فرانس، روس اور برطانیہ میں سے کوئی ایک ملک کسی تجویز کو مسترد کردے تو بقیہ چار اور ۱۰؍ غیر مستقل منتخبہ ممبران اس تجویز کو بچا نہیں سکتے۔ مادرِ جمہوریت کا معنی آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ اس سے مراد ہندوستان سے ہے۔ 
واضح رہنا چاہئے کہ ماضی میں، ہندوستان کو ۸؍ مرتبہ غیر مستقل منتخبہ رُکن کی حیثیت حاصل رہ چکی ہے۔ آٹھویں مرتبہ یہ رُکنیت سال ۲۲۔ ۲۰۲۱ء میں حاصل تھی۔ مجھے یاد نہیں آتا کہ اُس وقت ہم نے کیا حاصل کرلیا تھا اور یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اب ہم کیوں انتخاب میں اُترنے جارہے ہیں مگر تاریخ سے سراغ بھی ملتا ہے۔ دو سالہ میعاد ۲۰۲۸ء اور ۲۰۲۹ء کی ہے۔ یہ وقت تب کا ہوگا جب ملک میں لوک سبھا انتخابات منعقد کئے جائینگے اور ہمیں موقع ملے گا کہ ہم دیش واسیوں کو قد آدم ہورڈنگز کے ذریعہ بتا سکیں گے کہ دیکھئے ہم عالمی سطح پر کتنے اہم ہوگئے ہیں۔ یہ مَیں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ جب ہم جی ۲۰؍ کی میزبانی کررہے تھے تب کچھ ایسی ہی کیفیت تھی۔ 
اقوام متحدہ میں الیکشن آئندہ سال جون میں ہوگا۔ اس الیکشن میں ایشیاء پیسفک گروپ سے ایک اور اُمیدوار ہے جس کو شکست دینا یا اُسے اپنی اُمیدواری واپس لینے پر آمادہ کرنا ہمارے لئے ضروری ہوگا۔ وہ ہے تاجکستان۔ اِسے آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (او آئی سی) کے ۵۶؍ ملکوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ حمایت کے علاوہ ہمدردی بھی حاصل ہوگی کیونکہ تاجکستان کو اس سے پہلے کبھی منتخب ہونے کا موقع نہیں ملا۔ غیر مستقل منتخبہ نشست کیلئے متعلقہ ممالک کو دو تہائی ووٹ درکار ہوں گے۔ اگر تمام رکن ممالک حاضر رہے اور ووٹنگ میں حصہ بھی لیا تو دو تہائی کا معنی ہوگا ۱۲۹؍ ووٹ۔ بادی النظر میں ہمارے لئے یہ مشکل کام نہیں ہے۔ اگر ۵۶؍ او آئی سی ملکوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تب بھی ہمارا منتخب ہونا مشکل نہیں۔ مگر، یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اسے آسان بنانے کیلئے ہمیں یا تو تاجکستان کو نام واپس لینے پر رضامند کرنا ہوگا یا ۵۶؍ ملکوں کے او آئی سی میں اپنی حمایت تلاش کرنی ہوگی اور جہاں جہاں گنجائش ہے، راہ ہموار کرنی ہوگی۔ اس کیلئے ہم اپنے پلیٹ فارم کا استعمال کرسکتے ہیں۔ کون سا پلیٹ فارم؟ اس کی وضاحت وزیر خارجہ کی ایک تقریر سے ملتی ہے۔ 
نئے بھارت میں، معنویت سے بھرپور ایک لفظ کے حروف سے ایسے الفاظ بنتے ہیں جو موقف کی وضاحت کرتے ہیں۔ بنیادی لفظ کو انگریزی میں ایکرونم کہا جاتا ہے۔ اس بار ہمیں جو لفظ دیا گیا ہے وہ شانتی ہے۔ شانتی کے انگریزی حروف سے یہ الفاظ بنتے ہیں : سیکوئرنگ ہولسٹک ایڈوانسمنٹ تھرو نارمس، ٹرسٹ اینڈ انٹیگریٹی۔ اس کا معنی ہوگا ضابطوں، اعتماد اور دیانتداری کے ذریعہ فائدہ مند ترقی کا حصول۔ اس ضمن میں ہمارا دعویٰ ہے کہ ہندوستان گلوبل ساؤتھ کی آواز ہے۔ دوسرا ہمارا دعویٰ اصلاح شدہ کثیر رُخی طریق کار سے متعلق ہے جس کا آسان زبان میں مفہوم یہ ہے کہ ہمیں سلامتی کونسل کی سیٹ دے دیجئے۔ تیسرا دعویٰ ہے امن فوج سے متعلق۔ قارئین شاید نہ جانتے ہوں کہ اقوام متحد کی امن فوج میں چند ملکوں کا غلبہ ہے۔ اس میں سب سےبڑا حصہ نیپال کا ہے۔ اس کے بعد علی الترتیب ہندوستان، بنگلہ دیش، روانڈا اور پاکستان کانمبر آتا ہے۔ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ ہندوستان اپنی فوج کو فیوچر ریڈی رکھے گا جس کا معنی ہے کہ ہماری فوج بہتر طور پر مسلح ہوگی، تکنالوجی سے مدد لینے کی مہارت اس میں ہوگی، حقیقت پسندی اس کا جوہر ہوگی اور یہ بنیادی مقاصد کو پیش نظر رکھے گی۔ ہمارا چوتھا دعویٰ مصنوعی ذہانت سے متعلق ہے جس میں ہمارا کردار غیر واضح ہےکیونکہ امریکہ اور چین ہی ایسے ممالک ہیں جن کی مصنوعی ذہانت سے متعلق صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان نے مصنوعی ذہانت کا ایک انسانی اسلوب تیار کیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کے خواص بھی ہیں اور ہندوستانی روایات بھی۔ اس کیلئے ہم نے جو لفظ وضع کیا وہ ہے: مانو َ (انسان)۔ انگریزی میں جب اس لفظ کو لکھا جائے گا تو پہلا حرف ہوگا ایم۔ اس سے ہماری مراد مارل (اخلاقی) سسٹم ہے۔ دوسرا حرف ہے اے۔ اس سے مراد ہے اکاؤنٹیبل گورننس ( حکمرانی میں جوابدہی کا عنصر)۔ تیسرا حرف ہے این۔ اس سے مراد ہے نیشنل ساورینٹی (قومی خود مختاری)، چوتھا حرف ہے اے۔ اس سے مراد ہے ایکسس ایبل اور انکلوزیو (قابل رسائی اور سب کی شمولیت) اور آخری حرف ہے وی (ویلڈ اور لیجٹی میٹ سسٹم (جائز اور قانونی نظام)۔ ٹھیک ہے نا؟
مگر یہ سب کیسے ہوگا ا س کا اندازہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ہم ٹرمپ کے خلاف بولنے سے ڈرتے ہیں۔ ہماری اسرائیل سے دوستی ہے۔ ہم نے وہاں سے ایوارڈ بھی لیا ہے۔ ایس جے شنکر نے اطلاع دی تھی کہ بروسیلز کی میٹنگ میں ہم نے طے کیا ہے کہ ایک خصوصی اسپتال قائم کریں گے جو مصنوعی اعضا کی تنصیب کیلئے ہوگا اورجو فلسطینی عوام کیلئے بنایا جائیگا مگر فلسطین کے باب میں ہمارا ریکارڈ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ اسرائیل کو غزہ پر بمباری سے روکنے کیلئے جب ووٹنگ ہوئی تو ہم غیر حاضر رہے۔ اس دوران کوئی ایک ملک جو اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا وہ ہم ہیں۔ جرمنی اگر اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہتا ہے تو یہ اس کے تاریخی احساس گناہ کی وجہ سے ہے اور امریکہ کھڑا رہتا ہے تو اسرائیل لابی کی وجہ سے۔ ہمارا ملک ہی واحد ملک ہے جو فلسطینیوں سے دور ہوکر اسرائیل کو قریب کرنے لگا ہے۔ اس کا تازہ ثبوت اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی ہے جس کا انکشاف ’’ایمنیسٹی انٹرنیشنل‘‘ نے، جس سے مَیں وابستہ ہوں، حالیہ دنوں میں کیا۔ اسلحہ بھیجنا اور اس کے استعمال سے معذور ہوجانے والوں کیلئے مصنوعی اعضا کا اسپتال کھولنا کس طرح کا انصاف ہے؟ اس کے باوجود ہم سلامتی کونسل کی نشست کے دعویدار ہیں ! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK