• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سابق وزیراعظم بورس جانسن کا برطانیہ پر زور: عمران خان کی رہائی کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے

Updated: September 19, 2026, 7:07 PM IST | London

اپنے ایک کالم میں، جانسن نے کرکٹر سے سیاست دان بننے والے ۷۳ سالہ لیڈر کے بارے میں بتایا کہ انہیں تین سال سے زائد عرصے سے ۶ بائی ۸ فٹ کی ایک چھوٹی اور کیڑے مکوڑوں سے بھری کوٹھڑی میں قید رکھا گیا ہے، جس میں کوئی کھڑکی نہیں، جہاں انہیں بار بار قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور طویل عرصے تک کتابوں، اخبارات یا ملاقاتیوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر سے اور ناقص طبی امداد کے باعث خان اپنی دائیں آنکھ کی ۸۵ فیصد بینائی کھو چکے ہیں۔

Boris Johnson and Imran Khan. Photo: X
عمران خان اور بورس جانسن۔ تصویر: ایکس

سابق برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے معروف کرکٹر اور سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں ”سڑنے“ کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ جانسن نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خان کی رہائی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ اپنے ایک کالم میں، جانسن نے کرکٹر سے سیاست دان بننے والے ۷۳ سالہ لیڈر کے بارے میں بتایا کہ انہیں تین سال سے زائد عرصے سے ۶ بائی ۸ فٹ کی ایک چھوٹی اور کیڑے مکوڑوں سے بھری کوٹھڑی میں قید رکھا گیا ہے، جس میں کوئی کھڑکی نہیں، جہاں انہیں بار بار قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور طویل عرصے تک کتابوں، اخبارات یا ملاقاتیوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر سے اور ناقص طبی امداد کے باعث خان اپنی دائیں آنکھ کی ۸۵ فیصد بینائی کھو چکے ہیں۔

جانسن نے نشان دہی کی کہ اقوامِ متحدہ کے تشدد سے متعلق خصوصی نمائندے کی جانب سے دو برسوں میں تین بار اس صورتحال کی مذمت کی گئی ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ بھی یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ خان کو مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ کے ریڈیو نے ایڈ شیرن کے گانے ہٹا دیے، آج فلسطین تنازع کے درمیان کنسرٹ

واضح رہے کہ ۲۰۱۸ سے ۲۰۲۲ کے درمیان پاکستانی وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دینے والے عمران خان کو متعدد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جانسن نے ان مقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا۔ ان مقدمات میں سے زیادہ تر کالعدم ہوچکے ہیں۔ صرف القادر کیس ایک استثناء ہے جس میں خان پر یہ الزامات لگائے گئے ہیں کہ ان کی حکومت نے برطانیہ سے آنے والے فنڈز کا رخ ایک پراپرٹی ڈویلپر کی طرف موڑا جس نے بعد میں خان اور ان کی اہلیہ سے منسلک ایک یونیورسٹی کو عطیہ دیا۔ جانسن نے کہا کہ استغاثہ نے تسلیم کیا کہ ان دونوں میں سے کسی کو کوئی مالی فائدہ نہیں پہنچا۔ خان اپنی سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ جانسن نے دلیل دی کہ خان ایک آزاد عدالت کے سامنے فوری سماعت کے مستحق ہیں۔

جانسن نے الزام لگایا کہ اس کیس کے پیچھے پاکستانی فوج کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج، آرمی چیف کی تعیناتی کے تنازع پر خان کو ہٹانا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جرنیلوں کو خدشہ ہے کہ خان کی مقبولیت اگلے انتخابات میں انہیں دوبارہ اقتدار میں لے آئے گی۔ جانسن نے نشان دہی کی کہ خان کے بیٹوں کو، جو برطانوی پاسپورٹ رکھتے ہیں، ان سے ملنے کیلئے ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خیبر پختونخوا: پولیس مرکز کے قریب مسجد میں کار بم دھماکہ،۱۵؍ سے زائد ہلاک

جانسن نے تسلیم کیا کہ وہ خان کو جانتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے ساتھ میں یوکرین پر روس کے حملے اور طالبان کے بارے میں خان کے مؤقف کے ساتھ اپنے اختلافات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی بات ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی حمایت کرنے کا جواز نہیں بنتی۔ احتجاج کرنے میں برطانوی دفترِ خارجہ کو ”انتہائی بزدل“ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے، جانسن نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ خان کی رہائی، یا کم از کم اپیل کے فیصلے تک انہیں گھر میں نظر بند کرنے کا مطالبہ کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جیل میں ان کی موت سے پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK