• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ایچ ون بی ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس کی پابندی میں ایک سال کی توسیع

Updated: September 20, 2026, 7:24 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بعض نئے ایچ ون بی ویزا درخواست گزاروں پر عائد ایک لاکھ ڈالر فیس کی شرط میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے، جس کے بعد یہ پابندی ستمبر ۲۰۲۷ء تک برقرار رہے گی۔ نئی پالیسی کے تحت امریکا سے باہر موجود بعض ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کو ویزا درخواست کے ساتھ بھاری فیس ادا کرنا ہوگی، جبکہ حکومت نے ایچ ون بی درخواستوں کی جانچ بھی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Donald Trump. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بعض نئے ایچ ون بی ویزا درخواست گزاروں پر عائد ایک لاکھ ڈالر فیس کی پابندی مزید ایک سال کیلئےبڑھا دی ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پابندی اب ستمبر۲۰۲۷ء تک جاری رہے گی۔ ایچ ون بی ویزا امریکی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے بعض حصوں کا غلط استعمال کیا گیا اور کم اجرت والے غیر ملکی کارکنوں کے ذریعے امریکی ملازمین کو متاثر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: مسک نے اے آئی کی ترقی سست کرنے کی حمایت کی پرانی وارننگ پھر یاد دلائی

نئے حکم کے تحت امریکہ سے باہر موجود بعض ایچ ون بی درخواست گزاروں کیلئے ویزا درخواست کے ساتھ ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی ضروری ہوگی، تاہم مخصوص حالات میں قومی مفاد کی بنیاد پر استثنا دیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی پہلی مرتبہ ستمبر ۲۰۲۵ءمیں نافذ کی گئی تھی۔ اس کے نفاذ کو قانونی چیلنج بھی درپیش ہے، جبکہ بوسٹن کی ایک وفاقی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل زیرِ سماعت ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق موجودہ ایچ ون بی ویزا رکھنے والے افراد اور امریکہ میں پہلے سے موجود غیر ملکی گریجویٹس کے حوالے سے مخصوص استثنائی صورتیں برقرار ہیں۔ حکومت نے ایچ ون بی درخواستوں کی جانچ بھی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، خصوصاً ان کمپنیوں کی درخواستوں میں جہاں امریکی ملازمین کی حالیہ یا متوقع برطرفیوں کا معاملہ موجود ہو۔ ایچ ون بی پروگرام ٹیکنالوجی کی صنعت کیلئے خاص طور پر اہم ہے اور ہندوستان اور چین سے ہنرمند کارکنوں کی بھرتی میں اس کا بڑا کردار رہا ہے۔ نئی پالیسی کے باعث امریکی کمپنیوں کی بھرتی اور کاروباری منصوبہ بندی بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK