غزہ کو اپنے قبضے میں لینے کی اسرائیل کی سازش اور مملکت فلسطین کے قیام کی فرانس اور سعودی عرب کی کوشش ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔ دیکھنا ہے کامیابی کس کا مقدر بنتی ہے؟
EPAPER
Updated: August 08, 2025, 4:50 PM IST | Mumbai
غزہ کو اپنے قبضے میں لینے کی اسرائیل کی سازش اور مملکت فلسطین کے قیام کی فرانس اور سعودی عرب کی کوشش ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔ دیکھنا ہے کامیابی کس کا مقدر بنتی ہے؟
کہتے ہیں ظالم کی ہوس بڑھتے بڑھتے خود اسی کو نگل جاتی ہے۔ شاید اسرائیل کے ساتھ بھی یہی ہونے والا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں جو پہلے کچھ کہنے سے قبل اسرائیل و امریکہ کی جنبش ابرو دیکھنا ضروری سمجھتی تھیں اب مملکت فلسطین کے قیام اور اس مملکت کو تسلیم کرنے کا اشارہ کر رہی ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور کنیڈا جو بیان دے چکے ہیں۔ اس پر ٹرمپ اور نیتن یاہو چراغ پا ہیں کہ اب جرمنی، پرتگال اور مالٹا نے بھی ایسے ہی بیانات دیئے ہیں۔ دوسرے کئی ممالک بھی یہی کہہ چکے ہیں مگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو ۶۰؍ ہزار فلسطینیوں کے شہید ہونے کے بعد یہ کہہ رہے تھے کہ بچے کھچے فلسطینیوں کو مسلم ممالک اپنے ملکوں میں بسا لیں اب اپنے وزیر خارجہ روبیو کے ذریعہ یہ کہلوا رہے ہیں کہ فلسطینی ریاست کا قیام تب تک ممکن نہیں جب تک اسرائیل اس کی اجازت نہ دے۔ دوسری طرف اسرائیل کا یہ موقف سامنے آچکا ہے کہ مملکت فلسطین کا قیام حماس کے لئے انعام ہوگا جو وہ نہیں چاہتا۔ یہی باتیں وہائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بھی ٹرمپ کے حوالے سے کہی ہیں یعنی جو اسرائیل چاہتا ہے وہی ڈونالڈ ٹرمپ بھی کہہ رہے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے کل ۱۹۳؍ رکن ممالک ہیں جن میں ۱۴۴؍ ممالک فلسطینیوں کے ملک کو ’’تسلیم کرنے یا تسلیم کرلیں گے‘‘ کی بات کر چکے ہیں۔ روس، چین، ہندوستان ان ملکوں میں ہیں جو فلسطینی مملکت کو تسلیم کرتے ہیں البتہ ۲۷؍ یورپی ممالک میں سے صرف چند ہی نے مملکت فلسطین کو تسلیم کیا ہے یا تسلیم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اب جو بات ڈونالڈ ٹرمپ کے وزیر خارجہ روبیو نے کہی ہے یعنی فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کرنے والے ممالک فلسطینی ریاست قائم کرنے اور اس کو چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ ایسی دھمکی ہے جو غزہ میں ایک بار پھر آگ لگا سکتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل سمجھتے تھے کہ فلسطین نواز طاقتوں کی دفاعی طاقت فنا ہو چکی ہے اب وہ کچھ نہیں کرسکتے لیکن ایران نے وہ سبق سکھایا کہ اسرائیل کو خدا یاد آگیا۔ اب اسرائیل اور امریکہ کے لئے دو ہی راستے ہیں۔ یا تو مملکت فلسطین کے قیام کی راہ ہموار کریں یا جنگ کے میدان میں آئیں۔ رہی یہ بات جو امریکہ کے وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ اس کو تسلیم کرنے والے ممالک، مملکت فلسطین کے لئے جگہ کا بھی تعین نہیں کرسکتے تو انہیں یاد دلانا ضروری ہے اقوام متحدہ نے فلسطین میں اسرائیل کے قیام کو یکطرفہ منظوری نہیں دی تھی بلکہ فلسطین کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کیا تھا۔ یہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی ہے کہ مملکت فلسطین کے قیام میں رخنہ پڑتا جا رہا ہے مگر اب جبکہ ۶۰؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں مگر اپنی سر زمین چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور کچھ ملک کھلے عام اور کچھ ڈھکے چھپے فلسطینیوں کے لئے ایک خود مختار ملک کی بات کر رہے ہیں تو امریکہ، اسرائیل اور ان دونوں ملکوں کے ہم نواؤں کے لئے آسان نہیں ہے کہ وہ ’’مملکت فلسطین‘‘ کے قیام کے خواب کو تعبیر عطا ہونے سے روک سکیں۔ انہیں حقیقت کی سر زمین پر قدم رکھنا ہوگا۔ جو ملک بھی چاہے وہ عرب ہو یا عجم مملکت فلسطین کے قیام کی راہ کا روڑا بنے گا عوامی عتاب کا شکار ہوگا۔ اسرائیل کا حال دیکھئے کہ یہودی بھی اس کی موجودہ حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ اسرائیلیوں کے سر پر طرح طرح کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔
اسی دوران خبر آئی ہے کہ اسپین، اردن، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، ناروے، مصر، برطانیہ، ترکی، میکسیکو، برازیل، سنیگال اور عرب ممالک نے فرانس اور سعودی عرب کی سربراہی میں منعقد کی گئی۔ نیویارک کانفرنس میں دو ریاستی فارمولے یعنی مملکت فلسطین کے قیام پر اتفاق کر لیا ہے حالانکہ امریکہ اور اسرائیل نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔
سات صفحات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ میں مملکت فلسطین کے قیام کے لئے ۱۵؍ ماہ کا وقت متعین کیا گیا ہے۔ دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مقررہ وقت پر اقدامات کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد، اشتعال انگیزی اور ان کو کھدیڑنے کے عمل سے باز آئے۔ غزہ پٹی میں فوری انسانی امداد کی ترسیل پر بھی اصرار کیا گیا ہے دوسری طرف حماس کو اسرائیلی یرغمالوں کو رہا کرنے کو کہا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں ایک ریاست، ایک مسلح فوج یعنی غزہ سے حماس کے اقتدار کے خاتمے کی بات کہی گئی ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ غزہ/ فلسطینی مملکت کا لازمی حصہ تسلیم کیا گیا ہے اس کے باوجود چند سوالات بہت اہم ہیں۔
کیا اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقے کو خالی کرے گا، کیا حماس کو غزہ کے اقتدار سے دور رکھنا ممکن ہوگا اور کیا ایران، حوثی اور حزب اللہ اس کو تسلیم کریں گے؟
ان سوالات کے علاوہ یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ اسرائیل فلسطین کے علاقوں کو اپنے ساتھ الحاق کر رہا ہے۔ اسرائیلی بمباری اور بھوک سے مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مختصر یہ کہ غزہ کو اپنے قبضے میں لینے کی اسرائیل کی سازش اور مملکت فلسطین کے قیام کی فرانس اور سعودی عرب کی کوشش ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔ دیکھنا ہے کامیابی کس کا مقدر بنتی ہے؟ مملکت فلسطین کے قیام میں اڑچن ایک اور جنگ کو یقینی بنا دے گی جبکہ مملکت فلسطین کے اقتدار سے حماس کو دور رکھنے کی کوشش حماس اور اس کے سرپرستوں کو بے عمل نہ بیٹھنے دے گی۔ دونوں صورتوں میں اس خطے میں ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جو غزہ اور اسرائیل دونوں کے امن کو غارت کرنے کے لئے کافی ہوگی۔ کچھ عرصہ قبل تک عرب متحد تھے کہ اسرائیل کا وجود ختم کر دیا جائے گا اور اسرائیل جنگ جیت کر اپنا علاقہ وسیع تر کر رہا تھا۔ حالیہ جنگ کے بعد اگر دونوں خیموں میں امن کی اہمیت اور بقائے باہم کی ضرورت کا احساس کیا جا رہا ہے تو اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ بدلے ہوئے حالات میں یہی ہوسکتا ہے اور ہونا چاہئے۔n