Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی فوج غزہ میں جنگ بندی نہیں کرے گی

Updated: August 30, 2025, 12:43 PM IST | Agency | Gaza

صہیونی فورس نے کہا ہے کہ اس نے غزہ پر مکمل قبضے کی کارروائی شروع کر دی ہے، بمباری اور حملوں کو آئندہ اور بھی تیز کیا جائے گا۔

Survivors in Gaza are being forced to evacuate the city. Photo: Agency
غزہ میں زندہ بچ گئے لوگوں کو شہر خالی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تصویر: ایجنسی

غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر مسلسل اسرائیلی بمباری کے درمیان اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ غزہ سٹی ایک جنگی علاقہ ہے اور کسی بھی جنگ بندی کے دائرہ سے باہر ہے۔فوج نے ایک بیان میں کہا ہے  کہ صورتحال کے جائزے اور سیاسی قیادت کی ہدایات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج تک فوجی سرگرمیوں میں مقامی اور عارضی جنگ بندی میں غزہ شہر کو شامل نہیں کیا جائے گا ۔ غزہ سٹی کو ایک خطرناک جنگی زون تصور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس  بیان کا مطلب یہ ہے کہ  اسرائیل غزپر مسلسل حملوں کے ذریعے اس پر مکمل قبضہ کر لے گا۔ 
 انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان کی افواج نے غزہ شہر پر ابتدائی کارروائی اور حملے کے ابتدائی مراحل شروع کر دیئے ہیں اور اس کے مضافات میں( قبضے کیلئے) کام کر رہے ہیں۔ فوج نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں اپنے حملوں کو مزید گہرا کریں گی اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گی۔
 فوج نے ۷؍ اکتوبر کو ہلاک ہونے والے ایک قیدی کی غزہ  سے لاش  بر آمد ہونے کی اطلاع دی ہے ۔تاہم اس نے اسی وقت کہا کہ اس کی افواج غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گی۔ ساتھ ساتھ زمینی مشقوں اور جارحانہ سرگرمیوں کو جاری رکھیں گی۔

یہ بھی پڑھئے:جاپان کی ٹیکنالوجی اور ہندوستان کا ہنر مل کر ٹیکنالوجی انقلاب کی قیادت کرینگے: مودی

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایک نیوز ایجنسی  نے یہ یہ خبر دی ہے  کہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اپنی فوجی گاڑیاں شمالی غزہ کی پٹی میں الصفاوی محلے کے داخلی راستوں کی طرف بھاری توپ خانے اور فضائی احاطہ کے درمیان تعینات کر دی ہیں۔ یہ محلہ شمالی غزہ میں فوج کے زیر کنٹرول آخری رہائشی علاقہ ہے۔ ذرائع نے شمالی غزہ کی پٹی میں الصفاوی اور جبالیا النزلہ پر بھاری توپ خانے سے گولہ باری کا بتایا اور اسرائیلی ٹینکوں کی پیش قدمی کا بھی بتایا ہے۔
 گزشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیلی فورس نے غزہ شہر کو گھیرے میں لیتے ہوئے کئی محلوں میں درجنوں مکانات اور عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ فورس نے جنوبی، شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی پر بھی گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا  ہے۔ فلسطینی انکلیو کے بیشتر علاقوں میں تباہی پھیل چکی ہے جو ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ءسے محاصرے میں ہے۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ غزہ کی پٹی کی آبادی کی اکثریت تقریباً دو سالہ جنگ کے دوران کم از کم ایک بار بمباری اور ہلاکتوں سے فرار ہونے پر مجبور ہوئی ہے۔واضح رہے اسرائیلی حکومت نے تقریباً دو ہفتے قبل پورے شہر پر قبضے کیلئے اندرونی اختلافات اور فوجی رہنماؤں کے ساتھ تنازعات کے درمیان ایک منصوبے کی منظوری دی تھی۔ بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کی تنقید اور انتباہات میں اضافہ ہوا ہے جس سے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ یہ منصوبہ غزہ کے لوگوں کے المیے کو مزید بڑھا دے گا۔
 یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے تعلق سے گفتگو ہوئی۔ کئی ممالک نے ثالثی کی۔ حال ہی میں حماس نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے معاہدہ کی شرائط بھیج دیں مگر اسرائیلی فوج نے معاہدے کو التواء میں رکھا ہے اور غزہ پر قبضے کے تعلق سے پیش قدمی کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر اس تعلق سے کئی اقدامات کی کوشش ہو رہی ہے لیکن فی الحال ان کے نتائج سامنے آتے ہوئے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK