حکومت طلبہ کے جذبات کااحترام کرے

Updated: May 30, 2021, 5:50 PM IST | Ajayz Abdul Ghani

اپریل کے پہلے ہفتے میں ریاستی وزیر تعلیم ور شا گائیکواڑ نے کورونا کی دوسری لہر کا حوالہ دیتے ہوئے اول تا ہشتم جماعت کے طلبہ کو بغیر امتحان لئے پاس کر نے کا اعلان کیا تھا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

اپریل کے پہلے ہفتے میں ریاستی وزیر تعلیم ور شا گائیکواڑ نے کورونا کی دوسری لہر کا حوالہ دیتے ہوئے اول تا ہشتم جماعت کے طلبہ کو بغیر امتحان لئے پاس کر نے کا اعلان کیا  تھا۔دوسرے ہفتے میں ۹؍ ویں اور ۱۱؍ ویں جماعت کے طلبہ کو بھی تحر یری امتحان کے بغیر پر موٹ کر نے کا فیصلہ کیا اور تیسرے ہفتے میں طلبہ کی زند گی میں آنے والے اولین بورڈ امتحان یعنی  ایس ایس سی امتحان کو منسوخ کر نے کی اطلاع دی۔ گزشتہ اتوار کو مر کزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال کے ساتھ۱۲؍ ویں کے بورڈ امتحان سے متعلق ہونے والی آن لائن میٹنگ میں ورشا گائیکواڑ نے ایچ ایس سی کے طلبہ کو بھی اگلی جماعت میںبھیجنے کا اشارہ دیا ہے۔ موجودہ حالات میں حکومتیں طلبہ کی صحت اور ان کا تحفظ کا حوالہ دے کر ہر امتحان کو منسوخ کر نا چاہتی ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں اس موضوع پر مر اٹھی اخبارات نے کیا کچھ لکھا ہے؟
جن شکتی( ۲۵؍ مئی)
اخبار لکھتا ہے کہ’’حکومت نے کورونا کے بڑھتے معاملات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایس ایس سی امتحان کو منسوخ کر دیا ہے۔ ایس ایس سی امتحا نات منسوخ کئے جانے کے خلاف کورٹ میںعرضداشت داخل ہو نے کے بعد بامبے ہائی کورٹ نے سی بی ایس سی اور ایس ایس سی بورڈ نیزریاستی حکومت کی سخت الفاظ میںسرزنش کرتےہوئے کہا کہ  تعلیمی نظام کا مذاق کیوں بنایا جارہا ہے؟ کورٹ نے حکومت سے سوال کیا کہ بارہویں کے امتحانات ہو سکتے ہیں تو دسویں کے کیوں نہیں؟یہی وجہ ہے کہ طلبہ اور والدین کے ذہنوں میں بہت سارے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا ہائی کورٹ کی تنبیہ کے بعد حکومت اپنے فیصلے پر نظر ِثانی کر ے گی؟مگر ریاستی وزیر تعلیم نے حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دسویں کا امتحان لینا ممکن نہیں ہے۔اگرحکومت ایس ایس سی کا امتحان نہ لینے پر بضد ہے تو اُسے واضح کرنا چاہئے کہ لاکھوں طلبہ کے نتائج کس بنیاد پر ظاہر کئے جائیں گے؟ اس تعلق سے حکومت نے ابھی تک کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا ہے جس سے طلبہ اور والد ین میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ حکومت نے ۲۰؍ اپر یل کو ایس ایس سی کا امتحان منسوخ کر تے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ انٹر نل اسیسمنٹ کی بنیاد پر طلبہ کا رزلٹ جاری کیا جائےلیکن امتحان منسوخ کرنے کے اعلان کو ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر نے کے بعد بھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کو امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کرتے وقت ہی قدر پیمائی کا طریقہ اور آگے کی جماعتوں میں داخلے سے متعلق گائیڈ لائن جاری کر دینا چاہئے تھا۔ حکومت کی تساہلی  کے سبب ۱۶؍ لاکھ طلبہ کا مستقبل خطرے میں  ہے۔‘‘
سکال( ۲۵؍ مئی)
اخبار اپنے اداریہ میںلکھتا ہے کہ’’ کووڈ ۱۹؍ کوقابو کرنے کے دوران دیگر اہم امور سے توجہ ہٹ جانا یقیناً فطری عمل ہے لیکن اس حقیقت سے بھی قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فی الوقت دسویں اور بار ہویں کے طلبہ عدم استحکام کا سامنا کر رہے ہیں۔ہمارے تعلیمی نظام میں یہ دونوں امتحانات بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ طلبہ سال بھر یا اُس سے بھی پہلے سے تیاری کرتے ہیں ۔ محض آگے کی جماعت میں جانے کیلئے نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع حاصل کرنے، پسندیدہ فیلڈ میں داخلہ لینے اور ملازمت کے نقطۂ نظر سے ہنر مند بننے کیلئے دسویں اور بار ہویں کے نتائج  بہت اہمیت کے حامل ہو تے ہیں۔آن لائن ، آف لائن اور کچھ حد تک پرائیویٹ کلاسیز کے ذریعہ طلبہ نے جیسے تیسے دسویں اور بار ہویں کا نصاب مکمل کیا تاہم اُن کی صلاحیتوں کی پیمائش کرنے کا معاملہ دن بہ دن الجھتا ہی جارہا ہے جس سے ان کا ذہنی تناؤ بڑ ھ گیا ہے۔ سی بی ایس ای نے دسویں کے امتحانات کو منسوخ کر کے انٹرنل اسیسمنٹ کی بنیاد پر مارکس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے بھی ہائی کورٹ میں حلف نامہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امسال میٹرک کا امتحان لینا ممکن نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم اور ایس ایس سی بورڈ کے در میان کوئی تال میل نہ ہو نے کی وجہ سے طلبہ کو کس بنیاد پر پاس کیا جائیگا، اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا ہے۔ ‘‘
                  پُنیہ نگری(۲۲؍ مئی)
اخبار نے اداریہ لکھا ہے کہ’’کورونا سے خوفزدہ حکومت  نے اچانک دسویں کے امتحان کو منسوخ کر کے سبھی کو چونکا دیا ۔ حکومت کے اس فیصلے سے یقیناًطلبہ کو فائدہ ہوگا لیکن نقصان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر چہ بیشتر تعلیمی تنظیموں نے حکومت سے امتحانات منسوخ کر نے کی اپیل کی تھی لیکن  بہت سے ہونہار طلبہ امتحانات منعقد کر نے کے حق میں مسلسل آواز بلند کررہے ہیں۔ دسویں کا امتحان منسوخ کر نے پر بامبے ہائی کورٹ نے بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو کھیل نہ بنائیں،کورونا کے نام پر امتحانات منسوخ کرنا تعلیم کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے ۔ دوسری طرف حکومت کے اس فیصلےسے ’ کہیں خوشی ، کہیں غم‘ جیسی فضا بننا شروع ہو گئی۔ ذہین طلبہ میں ناراضگی پائی جارہی ہے تو پڑ ھائی سے دور بھاگنے والے طلبہ نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK