Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیت گایا کوے نے

Updated: March 14, 2026, 10:36 AM IST | Hamid Armori | Mumbai

اس خیال کے آتے ہی لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ جسے وہ چپکے سے نگل گئی۔ پھر کچھ دیر بعد بولی ’’کوّے بھیّا آداب عرض ہے۔‘‘

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اُس دن لومڑی نے چاپلوسی کی چار باتیں کرکے کوّے کی چونچ میں سے روٹی کا ٹکڑا اُڑا لیا تب کوّے کو اپنی نادانی اور بیوقوفی کا شدید احساس ہوا۔ اور اس نے اپنے دل میں ارادہ کر لیا کہ ضرور لومڑی کو اس کی مکّاری کا ایسا مزہ چکھائے گا کہ اُسے چھٹی کا دودھ یاد آجائے اور پھر وہ کسی کو دھوکہ دینے کی جرأت نہ کرسکے۔
دوسرے دن صبح سویرے کوّا اپنے گھونسلے سے اُڑ کر سیدھے بازار گیا۔ اور کوئی گول گول سفید چیز چونچ میں لئے اسی درخت کی ٹہنی پر آبیٹھا لومڑی کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔
ادھر لومڑی بھی کل کے لالچ میں آج بھی دھوکہ دینے کی نیت سے کوّے کی کھوج میں اپنے ٹھکانے سے نکل کھڑی ہوئی۔ راستے میں وہ ہر پیڑ کی ڈالی کو بغور دیکھتی جا رہی تھی کہ کہیں اگر وہی کل والا کوّ مل جائے تو پھر چکنی چپڑی باتیں کرکے اس کی چونچ میں دیا ہوا روٹی کا ٹکڑا ہڑپ کرلے گی۔
یہی سوچتے سوچتے وہ اس درخت کے نیچے پہنچ گئی۔ جس کے اوپر کوّا بیٹھا ہوا اس کا انتظار کر رہا تھا.... جیسے ہی لومڑی نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا ویسے ہی خوشی سے اس کی بانچھیں کھل گئیں۔ کیونکہ کوّا اپنی چونچ میں کچھ لئے بیٹھا تھا.... لومڑی نے دل ہی دل میں خیال کیا کہ چلو آج بھی صبح صبح اچھا سا ناشتہ ہاتھ آئیگا۔ ہوسکتا ہے یہ مٹھائی کا لڈّو ہو۔
اس خیال کے آتے ہی لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ جسے وہ چپکے سے نگل گئی۔ پھر کچھ دیر بعد بولی ’’کوّے بھیّا آداب عرض ہے۔‘‘
کوّے نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر لومڑی نے ذرا اونچی آواز میں کہا ’’کہئے مزاج تو اچھے ہیں نا....؟‘‘
اس بار بھی کوّا جان بوجھ کر انجان بنا بیٹھا رہا.... لیکن لومڑی تھی بڑی ڈھیٹ تیسری بار بلند آواز سے کوّے سے مخاطب ہوئی ’’بھیّا جی! خفا معلوم ہوتے ہیں۔ مَیں نے کہا آج صبح صبح کیسے راستہ بھول کر آنکلے؟ یہ سنتے ہی کوّے نے اپنے پَر ہوا میں پھڑپھڑائے جیسے کہہ رہا ہو ’’بڑی دیر کی مہربان آتے آتے۔‘‘ پھر اپنی آنکھوں میں مصنوعی چمک پیدا کرکے سر کو ہلکی سی جنبش دے کر لومڑی کی آمد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے: پندرہ روپے

یہ دیکھ کر لومڑی خوشی سے پھولے نہیں سمائی.... اس کا حوصلہ اور بڑھا۔ اور اس نے اپنا دوسرا داؤ چلا ’’بھیّا! تمہارے پَر بڑے سندر لگتے ہیں۔ اس پر تمہاری سُریلی آواز سونے پر سہاگہ ہے۔ اللہ قسم سچ کہتی ہوں سارے جنگلستان میں بس تمہاری ہی آواز کا چرچا ہے!‘‘
پھر لومڑی نے ایک طویل گہری سانس کھنچ کر کہا ’’ہاں مَیں نے تو تمہیں یہ خوشخبری سنانا ہی بھول گئی۔ کل جنگل کے راجہ شیر سے ملاقات ہوئی تھی۔ بات چیت کے دوران تمہارا بھی ذکر خیر آگیا۔ وہ بھی تمہاری آواز کی تعریف کر رہے تھے کہ ہم نے بھی اس نوجوان کی آواز سنی ہے، وہ آواز کاہے کوہے۔ جادو ہے۔ جادو!‘‘ لومڑی نے اور خوشامد کرتے ہوئے کہا ’’ذرا کان کھول کر سنو۔ راز کی بات بتا رہی ہوں۔ وہ عنقریب تمہیں اپنے دربار کاکوی بنانا چاہتے ہیں۔ کوی....‘‘
جھوٹ موٹ کی باتیں سن کر کوّے کا خون کھول گیا۔ لیکن وہ اپنے آپ پر قابو پاکر سنبھل گیا اور ظاہری خوشی کا مظاہرہ کرتے کرتے اس نے بڑے فخر سے اپنے پَر ایک بار پھر ہوا میں پھلائے.... یہ اب تو لومڑی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا.... اور اسے اپنے مقصد میں کامیابی کا پورا پورا یقین ہوگیا کیونکہ اس کے خیال میں کوّا اس کی جھوٹی تعریف کے جال میں پھنس گیا تھا۔ اسی لئے اس نے اپنی پرانی چال چلی کیونکہ آزمائی ہوئی پرانی چال دس نئی چالوں کے برابر ہوتی ہے! لومڑی نے کہا ’’کوّے بھیّا! کل تم نے جو گیت گایا تھا وہ اتنا اچھا تھا کہ پھر ایک بار وہی گیت سننے کو جی چاہتا ہے۔ گیت سن کر مجھے تو ایسا لگا تھا کہ پھر سے حضرت تان توڑ تان جوڑ اس دنیا میں واپس لوٹ آئے ہیں۔‘‘
یہ کہتے کہتے لومڑی نے داد طلب نظروں سے کوّے کو تاکا۔ اور پھر اپنا منہ کھلا رکھ کر ایسی جگہ کھڑی ہوگئی کہ اگر کوّے میاں ذرا بھی ’کائیں‘ کریں تو ان کی چونچ میں کی مٹھائی مٹی میں نہ گرے بلکہ سیدھے لومڑی کے منہ کا نوالہ بن جائے کیونکہ گزشتہ دن کا تلخ تجربہ یاد تھا کہ روٹی کا ٹکڑا زمین پر گرنے سے دھول لگ گئی تھی جس سے سارا مزہ کرکرا ہوگیا تھا!
غرض جیسے ہی ادھر کوّے نے گانے کے لئے منہ کھولا ادھر مٹھائی نیچے گری جسے لومڑی نے باکمال ہوشیاری زمین پر نہ گرنے دیا بلکہ پھرتی سے فوراً اپنے منہ میں پکڑ لیا۔
مگر یہ کیا؟
مٹھائی گلے میں جا کر اٹک گئی.... اور جوں جوں لومڑی نے اسے نگلنے کی کوشش کی توں توں اس کی حالت اور بگڑنے لگی۔ نہ صرف منہ کھولنا بلکہ سانس لینا دوبھر ہوگیا۔ وہ چاروں شانے چت پڑگئی اور تکلیف سے ایڑیاں رگڑنے لگی۔
کوّا لومڑی کا یہ حشر اپنی برادری کے تمام کوؤں کو دکھانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے ’’کائیں کائیں‘‘ کرکے ساری برادری کو بلا لیا۔ اور انہیں سارا ماجرا کہہ سنایا۔ جس پر برادری کے تمام کوؤں نے اسے شاباشی دی کہ اس نے ’کوّا برادری‘ کا نام تمام جانوروں میں اونچا کر دیا ہے۔
اب تمام کوّے درخت کی ڈالیوں پر سے اتر کر لومڑی کے چاروں طرف جمع ہوگئے اور وہ کوّا خود بھی درخت سے اتر کر لومڑی کے سرہانے آکھڑا ہوا۔
لومڑی تکلیف سے بُری طرح تڑپ رہی تھی سارے کوّے دم بخود اس دردناک منظر کو دیکھ رہے تھے لیکن ان میں سے ایک بوڑھے کوّے کو لومڑی کی حالت پر بڑا رحم آیا۔ اور اس سے لومڑی کی تکلیف دیکھی نہ گئی۔ وہ لومڑی پر ترس کھا کر آگے بڑھا اور لومڑی کے منہ کے قریب جاکر بولا ’’چکھ لیا نا۔ دھوکہ بازی اور مکّاری کا مزہ کیسا ہوتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی سخت تنبیہ کی ’’یاد رکھ آئندہ پھر کبھی کسی کو دھوکہ دینے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ناحق جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔‘‘ پھر بوڑھے کوّے نے اپنی چونچ لومڑی کے منہ میں ڈال کر وہ گول گول سفید چیز نکال کر لومڑی کے سامنے ڈال دی جسے لومڑی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی.... کیونکہ جسے وہ اپنے خیال میں ’مٹھائی کا لڈّو‘ سمجھ رہی تھی وہ دراصل ’ہڈی کا ٹکڑا‘ تھا جو اس کے حلق میں جا کر پھنس گیا تھا۔
کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد سے لومڑی کو پھر کبھی کسی کوّے نے اس درخت کے نیچے سے گزرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK