نفرت پھیلانے والوں کی بڑھتی جسارت

Updated: January 25, 2022, 2:20 PM IST

 گزشتہ دنوں ممبئی میں ڈی ایم ہیرش اسکول آف لاء کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج روہنتن نریمان نے قانون کی بالادستی کو مستحکم اور غداری کے قانون (سڈیشن لاء) کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نفرت آمیز تقریروں پر حکمراں جماعت کی خاموشی اور حکام کی بے عملی کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

Rohinton Fali Nariman.Picture:INN
سپریم کورٹ کے سابق جج روہنتن نریمان۔ تصویر: آئی این این

 گزشتہ دنوں ممبئی میں ڈی ایم ہیرش اسکول آف لاء کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج روہنتن نریمان نے قانون کی بالادستی کو مستحکم اور غداری کے قانون (سڈیشن لاء) کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نفرت آمیز تقریروں پر حکمراں جماعت کی خاموشی اور حکام کی بے عملی کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق جسٹس نریمان کا کہنا تھا کہ ملک میں نفرت آمیز تقریروں کا رجحان بڑھ رہا ہے اور لوگ باگ ایک فرقے کے نسلی صفائے تک کی بات کررہے ہیں مگر حکمراں جماعت خاموش ہے، اور صرف خاموش نہیں بلکہ ایسے عناصر کی پشت پناہی (Endorsing) کررہی ہے۔ اُنہوں نے نفاذ ِ قانون کے ذمہ دار حکام کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ ان کی جانب سے خاطیوں کے خلاف کارروائی میں کافی پس و پیش ہے۔ نفرت پھیلانے والی ان تقریروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی بابت انہوں نے کہا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳۔ اے اور ۵۰۵۔سی میں زیادہ سے زیادہ ۳؍ سال کی سزا کی گنجائش ہے مگر کم سے کم سزا کی وضاحت نہیں ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قانون میں ترمیم کی جائے تاکہ کم سےکم سزا کا خوف مزاحم بنے اور اشتعال انگیزی نیز نفرت پیدا کرنے والی تقریروں کو روکا جاسکے۔ سابق جسٹس کی جانب سے اس موضوع کا اُٹھایا جانا وقت کا اہم تقاضا ہے جس کیلئے اُن کی ستائش کی جانی چاہئے۔ اُنہوں نے بڑی جرأت کے ساتھ اپنا مطمح نظر بیان کیا ورنہ اس سنگین موضوع پر سیاسی جماعتوں بالخصوص حکمراں جماعت میں ایسی خاموشی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حکام کی جانب سے جو تھوڑی بہت کارروائی ہوئی وہ بھی تب ہوئی جب سپریم کورٹ نےمفاد عامہ کی ایک عرضی سماعت کیلئے منظور کرلی۔ اس عرضی میں کہا گیا کہ دو دھرم سنسدوں میں ہونے والی تقریروں میں نفرت انگیزی ہی نہیں ہے بلکہ ایک فرقے کے قتل عام کی ترغیب بھی ہے۔ عرضی گزار کے مطابق دھرم سنسد کی تقریروں کو ’’اکا دکا واقعات‘‘ کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایسی تقریریں تواتر کے ساتھ ہوئی ہیں اور یہ اُنہی کی توسیع ہے جس کی وجہ سے تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ میں عرضی کے منظور کئے جانے کے بعد ہی تھوڑی بہت کارروائی ہوئی ہے اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر عدالت میں عرضی نہ گئی ہوتی تو اتنا بھی نہ ہوتا۔ اُصولی طور پر مرکزی وزارت داخلہ کو اس کا سخت اور فوری نوٹس لینا چاہئے تھا تاکہ ایسی حرکت کرنے والے نچلا بیٹھنے پر مجبور ہوتے مگر جیسی خاموشی ہجومی تشدد کے پے در پے واقعات کے خلاف پائی جارہی تھی، ویسی ہی اب بھی ہے۔ اس سے شرپسند عناصر کو تقویت ملتی ہے چنانچہ وہ جب بھی لب کشائی کرتے ہیں، پہلے سے زیادہ جارح اور بے باک ہوکر ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے اور قانون کی بالادستی کے تصور کو مجروح کرتے ہیں۔جب ان کا حوصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے تو وہ وقت بھی آتا ہے جب یہ ایک فرقے تک بھی محدود نہیں رہ جاتے جیسا کہ یتی نرسمہانند نے اپنے ایک انٹرویو میں سسٹم، سیاستدانوں اور سپریم کورٹ پر یقین رکھنے والوں کو دھمکایا ہے۔  یہ اشتعال دلانے اور نفرت پھیلانے کی جسارتوں کے خلاف خاموشی ہی کا نتیجہ ہے کہ شدت پسند عناصر کی زبان اتنی لمبی ہوگئی ہے۔ یہ سماج کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے جسے روکا نہ گیا تو کہا نہیں جاسکتا کہ یہ جنون مزید کیا گل کھلائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK