دل کی بات بتا دیتا ہے اصلی نقلی چہرہ

Updated: January 12, 2020, 10:00 am IST | Dr Mushtaque Ahmed

حکومت نئی نسل کی سوچ وفکر سے خوفزدہ ہے۔ورنہ اگر صرف طلبہ کے درمیان تصادم کا معاملہ ہوتا تو نقاب پوشی کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ یونیورسٹی انتظامیہ اور دہلی پولیس کی سازش کے تانے بانے بنے جاتے... سچائی یہ ہے کہ لاکھ نقاب ڈالے جائیں اصلی اور نقلی چہرے کبھی نہ کبھی پہچانے ہی جاتے ہیں۔ جے این یو حادثے نے تو نقاب پوشوں کے ریموٹ کنٹرول کے چہرے تک کو اجاگر کردیا ہے۔

دل کی بات بتا دیتا ہے اصلی نقلی چہرہ
بات صرف جے این یو کی نہیں ہے بلکہ بات نئی نسل کی آواز کی ہے

اپنے وطنِ عزیز کی فضا دنوں دن کس قدر مکدّر ہوتی جا رہی ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ ان حالات کیلئے ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہیں۔ حکمراں جماعت کا موقف ہے کہ حالیہ دنوں میں جو بحران پیدا ہوا ہے، اس کیلئے حزبِ اختلاف ذمہ دارہے کیونکہ وہ عوام الناس میں غلط فہمی پھیلا رہی ہےجب کہ ملک کے تمام امن پسند شہری سڑکوں پہ اسلئے اتر آئے ہیں کہ موجودہ حکمراں جماعت عوام کے بنیادی مسائل کو پسِ پشت ڈالنے کیلئے نفرت انگیز سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ملک میں دنوں دن ہیجانی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور اس کو دور کرنے کے بجائے عوامی آواز کو دبانے کیلئے متشدد رویہ اپنایا جا رہاہے۔
 جامعہ ملّیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ، جادو پو ریونیورسٹی کلکتہ ، بنارس ہندو یونیورسٹی، بنارس اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے طلباء وطالبات نے گزشتہ ایک ماہ سے حکومت کی حالیہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف صف بند ہیں اور جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیںلیکن حکومت نے جامعہ ملّیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احاطے کے غیر آئینی اور غیر اخلاقی واقعات سے جس طرح اپنا دامن بچایا ہے وہ ایک جمہوری حکومت کا طریقہ کار نہیں ہے۔ بالخصوص جامعہ اور علی گڑھ کے معاملے میں حکومت کا رویہ غیر منصفانہ اور انتقامانہ معلوم پڑتا ہے کیو ںکہ ان واقعات کے بعد حکمراں جماعت نے جس طرح بیان بازی کی ہے، اس سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔
 بہر کیف! ابھی قومی سطح پر ہمارے طلبہ جمہوری طریقہ کار سے اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اس کی حمایت میں صف بند ہے ۔ کشمیر سے لے کر کنیّا کماری تک شہریت ترمیمی ایکٹ اور اب این پی آر کی مخالفت ہو رہی ہے ۔ روزانہ جلسے جلوس ہو رہے ہیں اور حکومت ان مظاہروں کو دبانے کیلئے جمہوری طریقہ نہیں اپنا رہی ہے بلکہ جے این یو میں مسلح غنڈوں کے ذریعہ طلباء وطالبات  اور اساتذہ کے ساتھ مارپیٹ کی واردات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جس طرح جامعہ میں دہلی پولیس کی شہ پر غنڈوں نے وہاں کی لائبریری میں  طلبہ کے ساتھ بد سلوکی کی تھی اور لہو لہان کیا تھا اسی طرز پر جے این یو میں بھی خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ورنہ جے این یو احاطے کے حفاظتی دستے کا تماشائی رہنا اور دہلی پولیس کا غافل رہنا دونوں ایک سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
  افسوسناک بات تو یہ ہے کہ جے این یو کے وائس چانسلر جن کا رشتہ سنگھ پریوار سے جگ ظاہر ہے، ان کی طرف سے اتنی شرمناک ورادات پر بھی کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ یونیورسٹی طلبہ تنظیم کی صدر آئیشی گھوش نے تو اپنے پریس بیانیہ میں بھی واضح کیا ہے کہ یونیورسٹی احاطے میں بی جے پی کی طلبہ تنظیم’ اے بی وی پی‘ اور ان کے حامی اسلحہ سے لیس ہو کر یونیورسٹی میں داخل ہوئے،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں یونیورسٹی انتظامیہ کی ملی بھگت تھی۔ سنگھ پریوار سے نظریاتی طورپر وابستہ پروفیسران پر بھی مبینہ طورپر اس ساز ش میں شامل ہونے  کی بات کہی گئی ہے ۔ آئیشی گھوش نے دہلی پولیس کے رویے پر بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے کہ اگربر وقت دہلی پولیس کی کارروائی ہوتی تو بین الاقوامی شہرت یافتہ جے این یو میں اس طرح کی شرمناک واردات نہیں ہوتی۔ 
 مختصر یہ کہ جامعہ سے لے کر جے این یو تک جس طرح طلباء اور طالبات کو زدو کوب کیا جا رہا ہے اور متشدد طبقہ حملہ آور ہو رہاہے، وہ ایک جمہوری ملک کیلئے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کہ کسی بھی ملک میں جب تعلیمی اداروں کی شبیہ کو مسخ کرنے کی سازش ہوتی ہے تو اس میں ملک کی نہ صرف ترقیاتی رفتار رک جاتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس کی شناخت بھی مسخ ہوتی ہے ۔ جس طرح سمندر کی لہروں کو کسی طرح روکا نہیں جا سکتا، اسی طرح انسانی فکر ونظر پر تشدد سے قابو نہیں پایا جا سکتا۔ جہاں تک ہندوستان جیسے جمہوری ملک کی تاریخ کا سوال ہے تو عہدِ حاضر کے حکمراں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جب کبھی اس ملک کے عوام نے حاکمِ وقت کے خلاف آواز بلند کی ہے تو دیر یا سویر اس نے ایک انقلاب پیدا کیا ہے اور حاکمِ وقت کے ہر ظلم وستم کو سہتے ہوئے اپنے مقاصد کی طرف گامزن رہے ہیں۔ آج ملک کی جو صورتحال ہے اس پر سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے، اسلئے کہ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے اور ہمارے مجاہدینِ آزادی نے اپنی قربانیاں دے کر اس ملک کو آزاد کرایا ہے اور ایک ایسا آئین مرتب کیا ہے جس آئین نے ہر ایک شہری کو زندگی جینے کی آزادی کے ساتھ ساتھ اظہارِ خیال کی بھی آزادی دی ہے ۔بالخصوص تعلیمی اداروں کے قائم کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہماری نئی نسل اچھے اور برے کی تمیز سے آشنا ہو سکے اور ملک کو ایک نئی سمت عطا کرسکے۔ حکومت تو بدلتی رہتی ہے اور حکمراں کے قد بھی چھوٹے بڑے ہوتے رہتے ہیں لیکن ملک کے اندر جو فکری  لہریں پیدا ہوتی ہیں وہ رواں دواں رہتی ہیں  جنہیں زور زبردستی نہ روکا جا سکتا ہے ، نہ اس کے رخ موڑے جا سکتے ہیں۔ اس حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ملک کے مفاد میں فردِ واحد کی سوچ کبھی بھی اجتماعی فکر ونظر کے چراغوں کو بجھا نہیں سکتی۔اگر کوئی شخص اپنے نظریئے کو اجتماعی شعور پر تھوپنا چاہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جمہوری حکمراں نہیں ہے بلکہ ایک آمرانہ فکر ونظر کا حامل ہے اور یہ نظریہ ہندوستان جیسے کثیر المذاہب، کثیر اللسان ، کثیر التہذیب وتمدن اور تکثیریت کے علمبردار ملک کیلئے خطرناک ہے۔جے این یو کے احاطے میں جس طرح نقاب پوش داخل ہوئے اور آزادی کے علمبرداروں پر ٹوٹ پڑے، یہ ان کی دلیری نہیں بلکہ بزدلی ہے اور یہ واردات اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ حکومتِ وقت اپنی نئی نسل کی سوچ وفکر سے خوفزدہ ہے۔ورنہ اگر یہ صرف اور صرف طلبہ کے درمیان تصادم کا معاملہ ہوتا تو نقاب پوشی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ یونیورسٹی انتظامیہ اور دہلی پولیس کی سازش کے تانے بانے بنے جاتے..... مگر سچائی یہ ہے کہ لاکھ نقاب ڈالے جائیں اصلی اور نقلی چہرے کبھی نہ کبھی پہچانے ہی جاتے ہیں اور جے این یو حادثے نے تو تمام نقاب پوشوں کے ریموٹ کنٹرول کے چہرے تک کو اجاگر کردیا ہے۔
 یہ ایک شرمناک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے، وہ کم ہے کہ نئی نسل کی فکروں پر پابندی لگانا ملک کی سا  لمیت کیلئے ہی خسارہ عظیم نہیں ہے بلکہ ہماری جمہوریت پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔اسلئے اب بھی وقت ہے کہ ملک میں حق وانصاف کی آواز کو دبانے کیلئے تشدد کا راستہ نہ اختیار کیا جائے بلکہ افہام وتفہیم کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔قومی سطح پر جس طرح طلبہ کی تنظیموں نے سڑکوں پر اُترنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، وہ اگر نہیں رکتا ہے تو نہ صرف ملک میں ہیجانی کیفیت بر قرار رہے گی بلکہ تعلیم وتعلّم کے سلسلے بھی متاثر ہوں گے اور نئی نسل کے مستقبل کیلئے بھی نقصان دہ ہوگا اور یہ نقصان ملک کے مستقبل کیلئے بڑا خسارہ ہوگا۔
 واضح ہو کہ اب جے این یو کے احاطے میں جو واردات ہوئی ہے اس کی ذمہ داری بھی ایک شدت پسند تنظیم ہندو رَکشا دَل نے اپنے سر لی ہےلیکن سچائی یہ ہے کہ اس مبینہ تنظیم کا صدر پنکی بھیا محض ایک مہرہ ہے اور اس مسئلے کو الجھانے کیلئے اس طرح کا ویڈیو جاری کیا گیا ہے لیکن اس نے جس طرح کی غیر آئینی دھمکی پورے ملک کے طلبہ کو دی ہے، وہ بھی افسوسناک ہے کہ اب تک اس پر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے بلکہ طلبہ ہی کو  ہراساں کیا جا رہاہے۔وائس چانسلر کا رویہ بھی بالکل غیر اخلاقی ہے کہ اس نے طلبہ کے تئیں کسی طرح کی ہمدردی ظاہر نہیں کی ہے۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن ہیڈ کوارٹرز دہلی نے بھی ایک پریس بیان جاری کرکے جے این یو کے حادثہ کو غیر جمہوری اور انتہاپسندانہ عمل قرار دیا ہے۔ اس کے قومی صدر ڈاکٹر رنجن شرما اور اعزازی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر آر وی اشوکن نے ایک پریس بیان دے کر فکر مندی ظاہر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فلمی دنیا سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے بھی ان طلبہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور بذاتِ خود جا کر ان کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ ان میں دپیکا پڈوکون جیسی مشہور اداکارہ بھی شامل ہیں ۔ کئی مشہور مصنفوں نے بھی اس کی مذمت کی ہے اور اس طرح کے حادثات کو ملک کی سا  لمیت کیلئے خطرناک بتایا ہےمگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک خاص نظریئے کے لوگ اب بھی اس غیر جمہوری عمل کی تائید کر رہے ہیں اور حکومت کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دے رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی سرد مہری اور دہلی پولیس کی سازشوں ہی سے جے این یو کا واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے جس پر ہر اُس شہری کو غوروفکر کرنا ہے جو ملک کی بقا وسا  لمیت کا خواہاں  ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK