سیرتِ نبویؐ :مطالعہ کی اہمیت اور نگارش کا طریقہ

Updated: October 15, 2021, 2:32 PM IST | Maulana Muhammad Yahya Nomani

سیرتِ نبویؐ کے مطالعے کی اہمیت کے بیان میں اس سے زیادہ اور کسی بات کی ضرورت نہیں ہے کہ اس میں انسانی افراد اور جماعتوں کے لئے وہ کامل اور سد ا بہار نمونہ ہے جس کو اسی لئے تیار کیا گیا تھاکہ فرزندان آدم ہر حال میں اس سے اپنے لئے رہنمائی اور ہدایت کی روشنی حاصل کریں، خاص طور پر اہل ایمان کے لئے اس کا ہر پہلو لائق اقتداءاور واجب اتباع ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

للہ کی قدرت اور نبوت محمدی کا اعجاز دیکھئے کہ محمد رسول اللہ ﷺکی نبو ت کے ۲۳؍سال کے مختصر عرصہ میں ذات نبوی علی صاحبہا السلام پر ان سارے حالات وکیفیات کا گزر ہوگیا جن سے قیامت تک کسی انسان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ فتح وشکست، غربت وامیری، شاہی وگدائی، خوشی ومسرت، غم و اندوہ ، اقبال وادبار، عزت وبے عزتی، غلبہ ومغلوبیت ، سفر و حضر،  تجارت ومزدوری، شادی وغمی …غرض وہ کون سی حالت ہے جو آپؐ پر نہ آئی ہو اور اس سلسلے میں آپؐ کا سنہرا نمونہ نہ ملتا ہو۔ آپؐ شوہر بھی بنے باپ بھی،آپؐ نے رشتہ داریاں بھی کیں، تعلقات قائم کئے اور مجبوراً قطع تعلق بھی کیا،  آپؐ نے معاہدے کئے، آپؐ کو دھوکہ بھی دیا گیا، آپؐ کی شانِ اقدس میں الزام تراشی بھی کی گئی، آپؐ کو نفاق کے موذی مرض کا بھی سامنا کرنا پڑا اور آپؐ کو ایسے وفادار دوست بھی ملے جنہوں نے مہر ووفا کے بے نظیر نقوش صفحۂ تاریخ پر ثبت کئے۔ ایک عاشق رسولؐ نے اس جامعیت کو یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے:’’عجب دربار!! سلاطین کہتے ہیں: شاہی دربار تھاکہ فوج تھی، علم تھا، پولیس تھی، محتسب تھے، گورنر تھے، کلکٹر تھے، منصف تھے، ضبط تھا، قانون تھا۔ مولوی کہتے ہیں: مدرسہ تھا کہ درس تھا، وعظ، افتاءتھا، قضاء تھا، تصنیف تھی، تالیف تھی، محراب تھی، منبر تھا۔ صوفی کہتے ہیں:خانقاہ تھی کہ دعا تھی، جھاڑ تھا، پھونک تھا، ورد تھا، وظیفہ تھا، شغل تھا، (چلہ) تھا، گریہ تھا ، بکا تھا، حال تھا، کشف تھا، کرامت تھی، فقر تھا، فاقہ تھا، زہد تھا، قناعت تھی…مگر سچ یہ ہے کہ وہ سب کچھ تھا، کیون کہ وہ سب کیلئے آیا تھا، آئندہ جس کو چلنا تھا، جہاں کہیں چلنا تھا، جس زمانہ میں چلنا تھا اسی کی روشنی میں چلنا تھا۔‘‘ (النبی الخاتم ص: ۱۰۱)
نبوت: انسانیت کی بنیادی ضروت
سیرت رسولؐ کے مطالعے اور اس کی نگارش کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کے ہر فقرے اور ہر مرحلے پر یہ بات ظاہر ہو کہ یہ ایک نبیِ ہادی ﷺ کی سیرت ہے، اس مطالعے میں ہر وقت یہ شعور تازہ رہنا چاہئے کہ انسانیت کو نبوت کی کتنی اور کیونکر ضرورت ہے؟
انسان کے پاس جو حواس ہیں اور علم کے جو ذرائع ہیں وہ اس کو یہ نہیں بتلاسکتے کہ اس کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ اس کی صفات کیا ہیں ؟ اس کا اپنی مخلوق سے کس قسم کا رشتہ ہے؟ انسان کا اس کائنات میں کیامقام ہے؟ اس کا مقصد تخلیق کیا ہے؟ اس عالم ِ زندگی کا کیا انجام ہے؟ اللہ کا نبی اللہ کی طرف سے براہ راست ان سارے سوالوں کے جواب لے کر آتا ہے۔  انسانوں کے اندر فتنہ وفساد کی جو فطری خرابیاں رکھی گئی ہیں، اور جو انسانی زندگی کو لگاتار مبتلا ئے آزمائش رکھتی ہیں، اخلاق کو تباہ کرتی ،آبادیوں کو اجاڑتی، تمدنوں کے فساد کا باعث ہوتی اور نفرت وہوس کی آگ بھڑکاتی ہیں، ان خرابیوں کی اصلاح کا صحیح اور کامیاب طریقہ اس علم ویقین کے ذریعہ ہے اور اس نسخے سے ہی ممکن ہے جو انبیاء علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔
سیرت کے مطالعے اور اس کی نگارش کے وقت نبوت اور کار نبوت کی اہمیت اور انسانیت کی اس کے سامنے محتاجی کا اعلان ہونا چاہئے، سیرت کو اس طور پر دیکھا جائے اور پیش کیا جائے کہ وہ اس عالم گیر فساد کا تریاق ہے جس نے انسان کو خدا کی رحمت سے دور اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکا رکھا ہے۔ یہ بھی پیش نظر آتا رہے کہ کس طرح سارے علم وہنر کی ترقیوں اور وسائل کی بہتات کے باوجود معاصر دنیا کی عقلیں عالمی جاہلیتِ عظمیٰ کے علاج ،اور اس کے فساد کے انسداد میں ناکام ثابت ہورہی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ وہ اس پر متفکر نہیں،  اس کے باوجو وہ جاہلیت کی یلغار کے سامنے ایک ایک کرکے مورچے ہار رہی ہیں، اور ایک ایک کرکے ظلم وفساد کو اخلاقی جواز عطا کرتی جارہی ہیں۔
اصلاح کی شاہ کلید
سیرت نبویؐ کا ایک اہم باب یہ بھی ہونا چاہئے کہ انسانی بگاڑ کے علاج کی وہ کون سی شاہ کلید تھی جو رسول اکرم ﷺ نے استعمال کی اورجس سے سارے عقد ے کھلتے چلے گئے۔انبیاء علیہم السلام انسان کے علم وارادے کو شر سے موڑ کرخیر کی طرف لگاتے ہیں۔ وہ اس میں بھلائی کی محبت اور طلب پیدا کر تے ہیں۔ اپنی جماعت کے اندر وہ یہ احساس پیدا کردیتے ہیں کہ دنیا میں بھلائی اور نیکی کو فروغ دینا ان کا فرض منصبی ہے۔انسان کے اندر غیر معمولی صلاحیتیں ہیں، مگر ہوس وطمع اور شیطان اس کو صرف ظلم وشر اور نفسانیت کی طرف لے کر چلتے ہیں، یہ انبیاء کا کارنامہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے اندر خدا طلبی کا وہ ذوق پیدا کرتے ہیں کہ ان کے لئے بھلائی کے راستے کی مشکلات آسان ہی نہیں لذیذ ہوجاتی ہیں، سیرت نبویؐ کا یہ عظیم ترین کارنامہ ہے اس کے بغیر ہم کسی بھی مطالعے کو مکمل نہیں کہہ سکتے۔
نبی کا پیغام ودعوت
نبی کی سیرت کی اصل اہمیت اس کی ہدایت ورہنمائی اور اس پیغام کی وجہ سے ہوتی ہے، جس کے لئے وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے، اسی کو وہ اپنی زندگی کا مشن بلکہ اوڑھنا بچھونا بنالیتا ہے، اسی کا فروغ اس کا مقصدِ زندگی ہوتا ہے، سیرت کے مطالعے کے وقت فوکس اور توجہ اگر اس مشن اور پیغام سے ہٹی اور وہ کہیں پس منظر میں چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ تاریخ کی ورق گردانی بن کر رہ جائے گا، محمدرسول اللہ کے سیرت نگار کو حیات طیبہ کو اس طرح پیش کرنا چاہئے کہ اس کا سب سے نمایاں اور اہم عنصر ’’رسالت ونبوت‘‘ اور اس کی دعوت وپیغام کے تمام پہلو بھی اپنی عظمت ورعنائی اور معجزانہ شان کے ساتھ سامنے آجائیں۔
اسوۂ حسنہ
رسول اکرمؐ بحیثیت رسول، اللہ کے دین اور اس کے پیغام کے مبلغ بھی ہیں، اور انسانوں کے لئے کامل اور حسین ترین نمونہ بھی، آپؐ کی ذاتِ مبارکہ  اپنے اخلاق وصفات، مزاج وکردار، عادات ومعاملات، تمناؤں اور جذبات ہر چیز میں عملی نمونہ ہے، آپؐ کی شب روزکی زندگی کے بغیر اور آپ کے اعمال واخلاق کے بغیر بحیثیت رسول آپ کی سیرت نامکمل ہی رہے گی۔ سیرت نگاری نے اخیر زمانوں میں کافی ترقی کی ہے ، اور اب اسوۂ حسنہ سیرت کا ایک اہم جز بنتا جارہا ہے، مگر اس کو ابھی مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
نبویؐ مزاج کی خصوصیات
 انبیاء علیہم السلام اللہ کی طرف سے جو دین لے کر آتے ہیں وہ محض خشک الفاظ کے سانچوں میں ڈھلا ہوا نہیں آتا، ایسا نہیں ہوتا کہ ان کو صرف واجبات وفرائض اور اوامر ونواہی کی ایک فہرست دے دی جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو کتاب و شریعت کے الفاظ کے ساتھ اس کی روح ومزاج کیفیات و احساسات، اور جذبات کی آئینہ دار زندگی کے ساتھ بھیجتے ہیں، یہ زندگی خود ان انبیاء کی ہوتی ہے، جو اس دین و شریعت کی اتنی صاف اور مفصل تشریح کرتی ہے کہ ان کا ہر پہلو اس کے آئینے میں مجلّیٰ ہوجاتا ہے۔سیدنا محمد رسول اللہ کی زندگی نبویؐ مزاج کا آئینہ اور ان جذبات وکیفیات کا مجموعہ ہے جوبراہ راست نبوت کا خاص مقصود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح آخری دین کے اوامر ونواہی کو بحفاظت ہم تک پہنچایا ہے اسی طرح اس نے ان کیفیات کو بھی ہم تک بحفاظت پہنچایا ہے۔رسول اکرم ؐ کی زندگی پر ان کیفیات کا رنگ اس طرح چھایا ہوا تھا، کہ اگر سیرت نگار نے یا سیرت کا مطالعہ کرنے والے نے اس رنگ کو چھوڑ دیا تو سیرت کے صحیح خد وخال اور اس کی اسپرٹ اور روح سامنے نہیں آسکتے اور نہ مطالعۂ سیرت کا اصل مقصود پورا ہو سکتا ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کیفیات کے جلی عناوین ہیں: خدا طلبی و تعلق مع اللہ، اللہ سے محبت اور اسکا خوف، اس پر توکل  اور یقین، عشق وسرافگندگی،خدا مستی وبے خودی، عبودیت وتذلل، آخرت کا استحضار ویقین،زہد واستغنا، مخلوق خدا پر شفقت و رحمت، دلسوزی ودردمندی اور دین پر عزیمت و استقامت۔
 تعبیرات واصطلاحات کی نزاکتیں
انسانی عقل وخرد اپنے ماحول اور تجربات کی روشنی میں پیغام رسانی کے لئے نئی نئی تعبیرات واصطلاحات اختیار کرتی ہیں۔ یہ اصطلاحات جس ماحول میں پیدا ہوتی ہیں اور پروان چڑھتی ہیں اپنے ساتھ وہ انکے اثرات ضرور رکھتی ہیں۔کسی طرح وہ اپنے پس منظر سے آزاد نہیں ہوسکتیں۔
انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے زمانوں میں اور ان سے پہلے دنیا میں مختلف اصلاحی اور فکری تحریکیں قائم ہو چکی تھیں، الگ الگ قسم کے اخلاقی اور الٰہیاتی فلسفے تھے، جنہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں سکّہ جمایا تھا، مگر قرآن مجید کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دین کے حقائق کی تشریح اور اپنی دعوت کے لئے ان اصطلاحات اور تعبیرات کو مستعار لینا اور ان سے کام چلانا کبھی گوارہ نہیں کیا۔ اس کے بجائے ان کو اپنی پیغام رسانی کے لئے نہایت سادہ اورحقائق پر مبنی الگ اصطلاھات اور منفرد تعبیرات اللہ کی طرف سے دی گئی تھیں۔
آں حضرت ؐ سے پہلے تحریف شدہ یہودیت و نصرانیت کے علاوہ حکمت وفلسفہ یونان وہند اور فارس ومصر وروما پر چھائے ہوئے تھے،ہر ذہین آدمی ان سے متأثر ضرور تھا۔ مگر نبوت محمدی نے انسانی زندگی کی پیچیدہ گتھیوں کے کھولنے اورانسان کے لئے صحیح اور متوازن طرز زندگی کی تشریح میں ایمان، احسان، تزکیہ، عبادت، تقویٰ ، خشیت، آخرت ، رسالت، نبوت ، وحی ، علم، عدل، انصاف، مواسات وہمدردی اوراخلاق جیسی اصطلاحات استعمال کیں۔
رسول اللہؐ کی سیرت اور آپؐ کے پیغام کی تشریح کے لئے نہ قدیم فلسفیانہ  واجتماعی اصطلاحات موزوں تھیں اور نہ عصر حاضر کے ازموں اور سیاسی و اجتماعی تحریکوں کی اصطلاحات۔ ماضی قریب اور معاصر لٹریچر میں سیرت نبویؐ کے سلسلے میں جمہوریت، اشتراکیت اور سوشلزم وغیرہ کی اصطلاحات بعض لوگوں نے فراخ دلی کے ساتھ استعمال کی ہیں۔ہر کچھ دنوں کے بعد کوئی نیا ازم، یا فلسفہ دنیا پر فیشن کی طرح چھا جاتا ہے، پھرجب وہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے انتشار و عدم توازن اور انفرادی و اجتماعی مسائل کو مزید بڑھا کر رخصت ہوتا ہے تو کوئی نیا ازم دنیا پر مسلط کر دیا جاتا ہے،اور اس کا ایسا پرو پیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے سارے مسائل کا حل اسی میں نظر آنے لگتا ہے۔ اس فضا سے ہم بھی متأثر ہو جاتے ہیں، کسی کو رسو ل اللہ ؐ کی دعوت میں جمہوریت کی صدا سنائی دینے لگتی ہے، تو کوئی اس کو ایک موزوں اشتراکی تحریک کہنے لگتا ہے، کوئی سوشلسٹ اصطلاحات میں رسولؐ اللہ کی اقتصادی اصلاحات بیان کرتا ہے، تو کوئی آں حضرت ؐ کے پیغام کو اشرافیہ کے اقتدار اور ملوکیت کے خلاف قومی بغاوت کا نام دیتا ہے، یہاں تک کہ بعض مستند علماء بھی جو سیرت کا اس کے اصل تناظر میں مطالعہ کرتے ہیں آں حضرتؐ کو جمہوری لیڈر اور آپ کی اصلاحات کو جمہوری یا سوشلسٹ اصلاحات کہہ جاتے ہیں۔
انصاف کی بات یہ ہے کہ ان تعبیرات کا پیرہن، نبویؐ پیغام کے لئے قطعاًناموزوں ہے، انبیاء علیہم السلام اللہ کی طرف سے ’دین‘ لے کر آتے ہیں۔ ان کا کام انداز وتبشیر ہوتا ہے، ہدایت وتزکیہ ان کا طریقہ کار اور انسانوں کو اپنے خدا سے جوڑنا اور اس کی رحمتوں سے فیضیاب کرانا ان کا مشن ہوتا ہے، ان کا پیغام نہ کسی فاسد تمدن کاردعمل ہوتا ہے، اور نہ کسی ظالم اقتصادی وسیاسی نظام کے خلاف عوامی جذبے کا اظہار، وہ صرف وحی ونبوت کا نتیجہ ہوتا ہے، اور اس کے لئے یہی تعبیرات زیادہ صحیح اور موزوں ہیں۔
 حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ رسولؐ اللہ کی سیرت طیبہ کے بیان اور آپؐ کے پیغام کی تعبیر وتشریح میں نہایت احتیاط کرنی چاہئے، اور اس کے لئے وہی اصطلاحات وتعبیرات باقی رکھنی چاہئیں جو خود آپؐ نے اپنی احادیث میں اور آپ کو سب سے زیادہ جاننے اور سمجھے والے صحابہ کرام نے استعمال کی ہیں، نیز سیرت طیبہ کے بیان کا جو عمومی رنگ اور فضا ہو وہ اسی رنگ اور فضا سے بالکل ہم آہنگ ہونی چاہئے جس کا قرآن اور حدیث رسول کا گہرا مطالعہ کرنے والا مشاہدہ کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK